05/01/2026
پاکستان کی سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے کہا ہے کہ فن کو سرحدوں سے بالا تر سمجھنا چاہیے، لیکن بھارت کے معاملے میں اپنی خودداری برقرار رکھنا ضروری ہے۔
عتیقہ اوڈھو سے حالیہ ایک پوڈکاسٹ میں پوچھا گیا کہ جب پاکستانی ریپر طلحہ انجم نے نیپال کے ایک کنسرٹ میں بھارتی پرچم اپنے کندھوں پر اوڑھا تو اس بارے میں وہ کیا سوچتی ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فن سرحدوں سے آزاد ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جائے جیسا وہ آپ کے ساتھ کرتے ہیں
عتیقہ اوڈھو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی بھارت کی شوبز شخصیات پاکستان آئیں، وہ بادشاہوں کی طرح محسوس کر کے واپس گئیں اور انہیں صرف محبت اور احترام ملا، جبکہ ہمارے فلمیں بھارت کے سینماز میں نمائش کے لیے اجازت نہیں پاتیں۔
اداکارہ نے بطور سابق چیئرپرسن یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (UPA) بتایا کہ تنظیم نے بھارتی فلموں پر پابندیاں لگائی تھیں کیونکہ ثقافتی تبادلہ صرف ایک طرف سے نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولا جٹ، ایک خوبصورت اور شاندار فلم، سیاسی وجوہات کی بنا پر بھارت میں نہیں دکھائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض بھارتی اقدامات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی فنکار دہشت گرد ہیں، جو بالکل غلط ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک میں بے شمار ٹیلنٹ موجود ہے، اور اگر ہمارے فنکار اور بھارتی فنکار مل کر کام کریں تو دنیا میں دھوم مچا سکتے ہیں۔
آخر میں اداکارہ نے کہا کہ حالیہ سیاسی صورتحال کے باوجود انڈیا میں ہمارے بہت مداح ہیں، اور وہ انہیں خوش دیکھنا چاہتی ہیں، لیکن طلحہ انجم کے انتخاب کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔