13/01/2026
آج ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیر صدارت افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے ایک غیر معمولی اور اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ایڈیشنل ڈپٹی کمشنران چارسدہ، اسسٹنٹ کمشنر چارسدہ، اسسٹنٹ کمشنر تنگی، تمام ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنران، ڈی ایس پی اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران افغان مہاجرین کی مرحلہ وار اور منظم واپسی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے تمام متعلقہ افسران کو سخت اور واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور روزانہ کی بنیاد پر واپسی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام اسسٹنٹ کمشنران کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد خالی ہونے والے گھروں اور کیمپوں کو فوری طور پر گرایا جائے تاکہ دوبارہ آبادکاری یا غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی قبضہ گروپ کو ان خالی کیمپوں یا مقامات پر قبضہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے اور اس ضمن میں سخت نگرانی یقینی بنائی جائے۔
ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے مزید کہا کہ افغان مہاجرین کی باعزت، محفوظ اور منظم وطن واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس عمل کے دوران قانون کی بالادستی، سکیورٹی کے تقاضوں اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ آپس میں مکمل رابطہ اور تعاون کے ساتھ کام کریں اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں۔
آخر میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے واضح کیا کہ عوامی مفاد، شفافیت اور امن و امان کو برقرار رکھنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔