TEN News

TEN News تحصیل تناول پریس کلب لساں نواب
(آفیشل فیس بُک پیج 🇵🇰✔️)

30/12/2025

اکبر خان جمالی کی درد بھری کہانی

30/12/2025

سب نے اپنے حصے کا کام کیا اب نوجوانوں کو موقع ملنا چاہیے #سیدـاقرارـالحسن کی جانب سے شروع کی گئی نئی سیاسی تحریک کو اب نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں نے اس تحریک کو اپنی آواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واحد پلیٹ فارم ہے جو نوجوانوں کے مسائل، روزگار، انصاف اور باوقار مستقبل کی حقیقی ترجمانی کر رہا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ سید اقرار الحسن کی جدوجہد دیانت، جرات اور عوامی شعور پر مبنی ہے، جو روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک نیا، صاف اور باصلاحیت قیادت کا تصور پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل اس تحریک کو امید کی کرن سمجھ رہی ہے۔
یہ تحریک صرف سیاست نہیں بلکہ ایک انقلابی سوچ ہے جو پاکستان کو کرپشن، ناانصافی اور مایوسی سے نکال کر ترقی، شفافیت اور میرٹ کی راہ پر ڈالنے کا عزم رکھتی ہے۔
✊ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں
🌍 اوورسیز پاکستانی ساتھ ہیں
🚀 پاکستان کا مستقبل روشن ہے
#اقرارکاپیغام
#نوجوانوںکیآواز
#اوورسیزپاکستانی
#نئیسیاسیتحریک

 #نوجوان ہی وہ طاقت ہیں جو پاکستان کی سیاست کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ ایک باشعور، بااصول اور منظم نوجوانوں کی سیاسی تحریک ...
29/12/2025

#نوجوان ہی وہ طاقت ہیں جو پاکستان کی سیاست کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ ایک باشعور، بااصول اور منظم نوجوانوں کی سیاسی تحریک ملک کو کرپشن، ناانصافی اور موروثی سیاست سے نکال کر ترقی، شفافیت اور خودداری اگر #نوجوان اٹھ کھڑے ہوں، متحد ہوں اور بااصول سیاست کریں تو پاکستان کا مستقبل روشن، مضبوط اور خودمختار ہو سکتا ہے۔ باصلاحیت #نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں
اگر انہیں صحیح سمت، معیاری تعلیم، مواقع اور اعتماد دیا جائے تو یہی نوجوان:
ملک کی معیشت مضبوط بنا سکتے ہیں
جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات لا سکتے ہیں
سیاست میں مثبت اور دیانت دار قیادت دے سکتے ہیں
معاشرتی ناانصافی کے خلاف مؤثر آواز بن سکتے ہیں
پاکستان کا مثبت تشخص دنیا میں اجاگر کر سکتے ہیں
اصل ضرورت یہ ہے کہ #نوجوانوں کو صرف نعرے نہیں بلکہ اختیار، تربیت اور عملی مواقع دیے جائیں۔
جب #نوجوان بیدار ہوتے ہیں تو قومیں بدل جاتی ہیں 🇵🇰
Iqrar Ul Hassan #اقرارکاپیغام

  عبداللہ تنولی – بہادری، انسانیت اور پاکستان کا فخرعبداللہ تنولی کا تعلق ضلع ایبٹ آباد سے ہے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم ...
25/12/2025


عبداللہ تنولی – بہادری، انسانیت اور پاکستان کا فخر

عبداللہ تنولی کا تعلق ضلع ایبٹ آباد سے ہے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد ہی سے حاصل کی، بعد ازاں کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے شوق نے آپ کو انگلینڈ پہنچایا، جہاں آپ نے پروجیکٹ مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ لندن میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ بطور سیکیورٹی آفیسر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ گزشتہ سال 12 اگست کو دورانِ ڈیوٹی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب آسٹریلیا سے آئی ہوئی 11 سالہ بچی پر ایک شخص نے حملہ کر دیا۔ اس نازک موقع پر عبداللہ تنولی نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر فوری طور پر مداخلت کی، بچی کی جان بچائی اور حملہ آور کو قابو میں لا کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

بچی کی سرجری کامیاب رہی اور اب وہ بالکل صحت مند ہے۔ اس غیر معمولی بہادری اور انسانیت کے اعتراف میں برطانیہ کی عدالت نے حال ہی میں فیصلہ سناتے ہوئے لندن حکومت کو عوامی فنڈ سے 1000 پاؤنڈ انعام دینے کا حکم دیا، جبکہ عبداللہ تنولی کو عدالتی ایوارڈ سے بھی نوازا جائے گا۔

اس وقت عبداللہ تنولی لندن میں بطور اسسٹنٹ بلڈنگ منیجر اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

عبداللہ تنولی نے اپنی جرات، فرض شناسی اور انسان دوستی سے نہ صرف پاکستان بلکہ تنولی قوم کا نام پوری دنیا میں فخر سے بلند کیا ہے۔
آپ بلاشبہ پورے پاکستان کا فخر ہیں۔

نوجوان انتظار کی علامت نہیں، فیصلہ سازی کی طاقت فکری سمت اور سماجی جدوجہد ملکِ پاکستان کے نوجوانوں کو برسوں سے ایک منظم ...
25/12/2025

نوجوان انتظار کی علامت نہیں، فیصلہ سازی کی طاقت فکری سمت اور سماجی جدوجہد

ملکِ پاکستان کے نوجوانوں کو برسوں سے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ذہنی غلام بنا کر رکھا گیا۔ انہیں یہ باور کرایا گیا کہ قیادت ان کا کام نہیں، سیاست ان کے بس کی بات نہیں، اور فیصلے ہمیشہ کوئی اور کرے گا۔ اس سوچ کا مقصد صرف ایک تھا:
نوجوان کے دل میں یہ سوال ہی پیدا نہ ہو کہ وہ خود بھی لیڈر بن سکتا ہے

مگر اب وقت بدل رہا ہے۔
اب نوجوان آہستہ آہستہ یہ پہچاننے لگا ہے کہ وہ محض مستقبل کا انتظار کرنے والا کردار نہیں بلکہ پاکستان کا اصل معمار اور فیصلہ ساز بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی تناظر میں عمران علی مغل نے اپنی نئی تحقیق اور مشاہدات کو سوشل میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ نوجوانوں کو دانستہ طور پر غیر سیاسی اور غیر مؤثر رکھنے کی کوشش کی گئی، تاکہ چند مخصوص چہرے اور طبقات ہمیشہ اقتدار پر قابض رہیں۔ بحیثیت کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، عمران علی مغل نے اس سوچ کو للکارا ہے اور نوجوانوں کو خود پر یقین کرنے کا پیغام دیا ہے۔

یہی پیغام ٹیم سرعام پاکستان کے بانی سید اقرار الحسن کی تحریک کا بنیادی ستون ہے۔ سید اقرار الحسن کی سوچ محض تنقید تک محدود نہیں بلکہ شعور، جرات اور عملی میدان میں اترنے کی دعوت ہے۔ یہ تحریک نوجوانوں کو تماشائی نہیں بلکہ حصہ دار بناتی ہے۔

ٹیم سرعام پاکستان، بالخصوص مانسہرہ میں، نوجوانوں کو سیاسی اور سماجی لیڈر بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ مقصد واضح ہے:
ایسے نوجوان تیار کرنا جو سوال بھی کریں، جواب بھی مانگیں اور کل کو خود نظام کا حصہ بن کر اسے بہتر بھی بنائیں۔

اب نوجوانوں کے ہاتھ میں صرف موبائل نہیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ اب وہ خود طے کریں گے کہ انہیں موروثی سیاست چاہیے یا نظریاتی قیادت، خاموشی چاہیے یا شرکت، غلامی چاہیے یا خود مختاری۔

عمران علی مغل کی جانب سے سید اقرار الحسن کو نوجوانوں کو خود سیاسی میدان میں آنے کی دعوت دینے پر مبارکباد پیش کرنا دراصل اس یقین کا اظہار ہے کہ یہ تحریک محض ایک آواز نہیں بلکہ ایک سیاسی و سماجی تبدیلی کا آغاز ہے۔

ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے نوجوان خود سیاسی قیادت کے طور پر سامنے آئیں گے، ایم پی اے، ایم این اے اور حتیٰ کہ وزیر اعظم بن کر ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں، باشعور نوجوانوں سے بنتی ہیں۔

یہ وقت ہے پہچان کا،
یہ وقت ہے قیادت کا،
یہ وقت ہے کہ نوجوان خود لکھیں
پاکستان کا اگلا باب۔
کالم نگار
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ
عمران علی مغل
ٹیم سرعام مانسہرہ
Iqrar Ul Hassan

قوم اُس وقت مرتی ہے جب جب سچ بولنے والے مجرم اور جھوٹ بولنے والے لیڈر بن جائیں۔قومیں گولی نہیں، غلط راہنماؤں کے ہاتھوں م...
24/12/2025

قوم اُس وقت مرتی ہے جب

جب سچ بولنے والے مجرم اور جھوٹ بولنے والے لیڈر بن جائیں۔
قومیں گولی نہیں، غلط راہنماؤں کے ہاتھوں مرتی ہیں۔

جب انصاف صرف کمزوروں کے لیے رہ جائے، طاقتور کے لیے نہیں۔
جہاں ایک مزدور پر قانون لاگو ہو، لیکن ایک وزیر پر نہیں…
وہاں قوم کی قبر پہلے دن ہی کھود دی جاتی ہے۔

جب لوگ ظلم دیکھ کر کہیں:
“مجھے کیا؟”
بے حسی—یہ سب سے بڑا زہر ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب قوم مر کر بھی خود کو زندہ سمجھتی رہتی ہے۔

جب رشوت خوش اخلاقی کا نام بن جائے،
اور ایمانداری بیوقوفی۔
یہ وہ دن ہے جب قوم زمین پر چلتی ضرور ہے،
مگر روح مر جاتی ہے۔

جب تعلیم ڈگریوں کا کاروبار بن جائے،
اور علم کردار سے نکل جائے۔
پھر ملک پڑھے لکھے جاہلوں سے بھر جاتا ہے—
اور جاہل قوم کبھی زندہ نہیں رہتی۔

جب حکمران ریاست کو باپ کی جاگیر سمجھ لیں،
اور عوام غلاموں کی طرح قطاروں میں دھکے کھائیں۔
یہ وہ معاشرہ نہیں رہتا—یہ جیل بن جاتا ہے۔

جب نوجوانوں کے خواب نوکری کے فارم، ٹیسٹ، سفارش،
اور مایوسی کے قبرستان میں دفن ہو جائیں۔
نوجوان مرے تو قوم خود بخود مر جاتی ہے۔

سچ یہ ہے:

قومیں ایک دن میں نہیں مرتیں۔
وہ سالوں کی ناانصافی، خاموشی، خوف، جبر، بدتمیزی، لالچ اور ناسمجھی سے آہستہ آہستہ گھٹ گھٹ کر مرتی ہیں۔
پھر ایک دن انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ جسم تو ہیں…
مگر روح بہت پہلے مر چکی ہے۔

آپ کے خیال میں ہماری قوم کس وجہ سے زیادہ مر رہی ہے
ظلم، ناانصافی، یا ہماری اپنی خاموشی؟
اپنی رائے ضرور لکھیں، کیوں کہ قومیں بات کرنے سے دوبارہ زندہ ہوتی ہیں۔
کالم نگار
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ
عمران علی مغل

فوجی نہیں، سیاسی آمریت  اصل مسئلہ کہاں ہےپاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم بارہا فوجی آمریت کے خلاف اٹھی، قربانیا...
23/12/2025

فوجی نہیں، سیاسی آمریت اصل مسئلہ کہاں ہے

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم بارہا فوجی آمریت کے خلاف اٹھی، قربانیاں دیں، جیلیں بھریں، کوڑے کھائے، مگر نتیجہ ہمیشہ ادھورا ہی رہا۔ اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ قوم نے فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد سیاسی آمروں کے سہارے کی۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی ڈکٹیٹر، فوجی ڈکٹیٹروں کے خاتمے کی جنگ نہیں لڑتے، بلکہ وہ فوجی آمروں کو
اپنے ساتھ ملانےبکی جدوجہد کرتے ہیں۔ اقتدار کی شراکت، مفاہمت، این آر او اور بند کمروں کے معاہدے ہی ان کی سیاست کا حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے میں فوجی آمریت کمزور نہیں ہوتی بلکہ شکل بدل لیتی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ فوجی آمریت اور سیاسی آمریت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک بندوق کے زور پر حکومت کرتا ہے، دوسرا ووٹ، نعرے اور وراثتی سیاست کے پردے میں۔ دونوں کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا نہیں بلکہ طاقت کو مخصوص ہاتھوں میں قید رکھنا ہے۔

فوجی ڈکٹیٹرشپ سے حقیقی نجات اسی دن ممکن ہو گی جب قوم پہلے سیاسی ڈکٹیٹرشپ سے جان چھڑائے گی۔ جب تک سیاست چند خاندانوں، چند چہروں اور چند ناموں کے گرد گھومتی رہے گی، اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ مداخلت کا جواز ملتا رہے گا۔

پاکستان کو آج ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جو کسی ایک شخص یا خاندان کی ملکیت نہ ہوں بلکہ عوام کی ملکیت ہوں۔ ایسی جماعتیں جن کے اندر جمہوریت ہو، جہاں قیادت موروثی نہ ہو بلکہ انٹرنل الیکشن کے ذریعے مخصوص مدت کے لیے منتخب کی جائے۔ جہاں فیصلے ایک فرد کے حکم سے نہیں بلکہ مشاورت، بحث اور اجتماعی دانش سے ہوں۔

جب سیاسی جماعتیں خود آمرانہ ڈھانچے پر کھڑی ہوں تو وہ ملک میں جمہوریت کیسے قائم کر سکتی ہیں؟ جو جماعت اپنے کارکن کو رائے دینے کا حق نہیں دیتی، وہ قوم کو کیا دے گی؟ جو پارٹی اپنے اندر احتساب سے ڈرتی ہو، وہ ریاستی اداروں کو کیسے جوابدہ بنائے گی؟

قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ شخصیات کے سحر سے نکل کر اصولوں کی سیاست کو اپناتی ہے یا نہیں۔ نجات کسی مسیحا کے آنے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاسی نظام کی تعمیر میں ہے جو افراد سے بالا ہو۔

یاد رکھیے!
فوجی آمریت کا خاتمہ نعروں سے نہیں، بلکہ سیاسی آمریت کے خاتمے
سے مشروط ہے۔ جب سیاست جمہوری ہو گی، تب ریاستی ادارے بھی اپنی آئینی حدود میں رہنے پر مجبور ہوں گے۔ یہی پاکستان کی بقا، استحکام اور حقیقی جمہوریت کا واحد راستہ ہے۔
ازقلم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ
عمران علی مغل ٹیم سرعام مانسہرہ
Iqrar Ul Hassan

17/12/2025

بھگوڑوں اور مودیوں کے علاؤہ ساری قوم مانتی ہے کہ پاکستان نے بھارت کو بدترین شکست دی۔ اور پاکستان آرمی دنیا کی بہترین آرمی ھے

کیا آپ حامد میر صاحب اتفاق کرتے ہیں۔ اپنی رائے ضرور دیں
17/12/2025

کیا آپ حامد میر صاحب اتفاق کرتے ہیں۔ اپنی رائے ضرور دیں

16/12/2025

کون بچائے گا پاکستان

نوجوان بچائیں گے 🇵🇰

Iqrar Ul Hassan

15/12/2025

مشہور و معروف سیاسی و سماجی شخصیت حاجی منیر صاحب کے ہاں سجی خوبصورت محفل۔ کالا خان صاحب کو عمرے کی ادائیگی پر مبارکباد پیش کی گئی اس موقع پر پھلڑہ پڑہنہ لساں نواب سے تعلق رکھنے سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ بریال ویلفیئر فاؤنڈیشن کے روحِ رواں حاجی منیر صاحب نے خصوصی طور پر دعوت طعام کا انتظام کیا۔ کال خان نے خصوصی طور پر حاجی منیر صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ حاجی منیر صاحب کا شمار تناول کی ان چند شخصیات میں ہوتا ھے جو ہر وقت خدمت اور فلاحی کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ غرباء کی مدد ہو یا علاقے کی بہتری کے لیے کوئی اجتماعی کام #حاجی صاحب کا کوئی ثانی نہیں بریال ویلفیئر فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری بشیر خان کی خدمات بھی سہرفہرست ہیں۔ #پروفیسر عبد الرزاق عادل ہمیشہ کی طرح محفل کو چار چاند لگا دیتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس طرح کی شخصیات کے ساتھ مل کر اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ھے  #سید اقرار الحسن Iqrar Ul Hassan  Babar Ali Tanoli
15/12/2025

لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ھے
#سید اقرار الحسن
Iqrar Ul Hassan


Babar Ali Tanoli

Address

Near NBP Bank
Mansehra
21320

Telephone

+923451300455

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TEN News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to TEN News:

Share