Shekhan News Network

Shekhan News Network In this page you see the News all over the world. Members of this page are very hard worker.News Team Update you all Important News.

ماشاءاللہ نہایت خوشی اور فخر کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہمحبوب الٰہی صاحب (ولد امیر حمزہ)ساکن شیخاندہ بمبوریت نےگورنمن...
17/01/2026

ماشاءاللہ
نہایت خوشی اور فخر کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ
محبوب الٰہی صاحب (ولد امیر حمزہ)
ساکن شیخاندہ بمبوریت نے
گورنمنٹ جامعتہ الدعوۃالاسلامیہ میں
درسِ نظامی / دینی تعلیم کا باضابطہ نصاب کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔
یہ کامیابی آپ کی محنت، استقامت اور شوقِ علم کا روشن ثبوت ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے،
آپ کو دینِ اسلام کی صحیح خدمت کرنے کی توفیق دے
اور آپ کو علمِ نافع کا چراغ بنائے۔ آمین
اہلِ خانہ، اساتذہ اور تمام دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو

قابلِ فخر لمحہ اقبال حسن ولد محمد نظار، ساکن وریجنغاندہ بونی نے آغا خان یونیورسٹی سے بیچلر آف نرسنگ کی ڈگری کامیابی کے س...
17/01/2026

قابلِ فخر لمحہ

اقبال حسن ولد محمد نظار، ساکن وریجنغاندہ بونی نے آغا خان یونیورسٹی سے بیچلر آف نرسنگ کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی۔
تقریبِ تقسیمِ اسناد کے موقع پر یہ اعزاز انہیں پرنس زہرہ آغا خان کے ہاتھوں عطا کیا گیا، جو نہ صرف اقبال حسن بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔
اہلِ علاقہ، دوست احباب اور خاندان کے افراد نے اقبال حسن کی اس شاندار کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور وہ انسانیت کی خدمت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کریں۔









روز چترال کی طرف سے ایک اور طالب علم کو اسکالرشپ  دیدیا گیا  روز چترال نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے اپنے مشن کو آگے بڑھاتے ...
17/01/2026

روز چترال کی طرف سے ایک اور طالب علم کو اسکالرشپ دیدیا گیا

روز چترال نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے اپنے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اسکالرشپ نمبر 731 کے تحت ایک اور مستحق طالب علم کو تعلیمی سہولت فراہم کی۔ اس موقع پر انیس الرحمٰن ساکن بکرآباد، لوئر چترال کو اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں بی ایس کمپیوٹر سائنسز میں داخلے کے لیے اسکالرشپ نامزدگی لیٹر جاری کیا گیا۔

یہ اسکالرشپ روز کوٹہ کے تحت 50 فیصد فیس میں رعایت پر مشتمل ہے، جس کی مجموعی مالیت 5 لاکھ 76 ہزار روپے بنتی ہے۔ یہ سہولت انیس الرحمٰن کے لیے نہ صرف مالی بوجھ کم کرے گی بلکہ انہیں جدید تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کا اعتماد بھی فراہم کرے گی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی محکم الدین تھے، جو ایک سرگرم سماجی کارکن، صحافی اور چترال پریس کلب کے رکن ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روز چترال چترال میں اعلیٰ تعلیم کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے مقامی کمیونٹی کو بھی آگے آنا ہوگا اور تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔

روز چترال اپنے شراکت دار اداروں اور قومی سطح کے مخیر حضرات کے تعاون سے چترال کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کر رہا ہے۔ اس ادارے کا مقصد یہ ہے کہ مالی وسائل کی کمی کسی بھی طالب علم کے خواب کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

اس موقع پر روز چترال کی جانب سے مقامی ڈاکٹروں، انجینئرز، وکلاء، اساتذہ اور دیگر صاحبِ حیثیت افراد سے اپیل کی گئی کہ وہ اس نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ان کا تعاون نہ صرف انفرادی طلبہ کی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پورے علاقے کے تعلیمی مستقبل کو روشن کر سکتا ہے۔

روز چترال اس یقین کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ تعلیم ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، اور اس سفر میں کمیونٹی کی شمولیت سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔

آرندو گول میں جنگلات کی تباہی اور اربوں کی اسمگلنگ: ماحولیاتی ایمرجنسی اور ریاستی بے عملی کا المناک تضادتحریر نورالہدیٰ ...
17/01/2026

آرندو گول میں جنگلات کی تباہی اور اربوں کی اسمگلنگ: ماحولیاتی ایمرجنسی اور ریاستی بے عملی کا المناک تضاد

تحریر نورالہدیٰ یفتالی

نہ جانے چترالی قوم کے کتنے افراد کی جیبیں کٹ گئیں، اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی

2013 سے خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی قیادت میں بننے والی حکومتوں کے دوران صوبے کے جنگلات کو شدید اور غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔ آزاد ذرائع اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیےجن میں گوگل ارتھ جیسے پلیٹ فارم شامل ہیں واضح طور پر بتاتے ہیں کہ صوبے کے کئی علاقوں میں جنگلاتی رقبہ مسلسل اور بڑے پیمانے پر کم ہوتا جا رہا ہے۔
لکڑی مافیا کی جانب سے جنگلات کی تباہی برسوں سے بلا روک ٹوک جاری ہے، جس سے خیبر پختونخوا کے جنگلات کا قدرتی توازن اور مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جنگلات کے تحفظ اور قانون پر عمل درآمد کو مضبوط بنانے کے بجائے، اس دور میں بنائی گئی کئی پالیسیوں نے جنگلاتی نظام کو مزید کمزور کیا اور خیبر پختونخوا فاریسٹ آرڈیننس 2002 اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔
مختلف ناموں سے متعارف کروائی گئی پالیسیاں جیسے ووڈلاٹ منصوبے، خشک اور مردہ درختوں کی کٹائی کی اجازت، اور کوہستان و چترال جیسے حساس علاقوں میں نرم قوانین عملی طور پر بڑے پیمانے پر تجارتی کٹائی کا ذریعہ بن گئیں۔ ان اقدامات نے تحفظ کے بجائے قانون کو نظر انداز کیا، جس کے نتیجے میں جنگلات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، حیاتیاتی تنوع تیزی سے کم ہوا، اور موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ کے مقابلے میں جنگلات کی قدرتی طاقت کمزور پڑ گئی۔
ایک نہایت تشویش ناک تجویز ہزارہ ڈویژن میں تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار ایکڑ گزرہ جنگلات کی ڈی نوٹیفکیشن ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر ان علاقوں کو کمرشل ہاؤسنگ منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے۔ مکنیال فارسٹ اس کی واضح مثال ہے، جہاں جنگلاتی زمین کو رئیل اسٹیٹ کے لیے استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اس سے وہ قدرتی نظام شدید خطرے میں ہے جو سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور پانی کی کمی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
افغان سرحد کے قریب چترال کا علاقہ ارندو گول بھی لکڑی مافیا کی طاقت کی ایک بڑی مثال ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق سن 2000 سے اب تک یہاں کے 35 فیصد جنگلات ختم ہو چکے ہیں، اور اندازاً 100 ارب روپے سے زائد مالیت کی لکڑی افغانستان اسمگل کی گئی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر میں بتایا کہ صرف 2025 کے سیلابوں سے پاکستان کو 34 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا، اور ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق 2010، 2015، 2022 اور 2025 کے سیلابوں سے مجموعی نقصان 91 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو پاکستان کی تقریباً دس سالہ معاشی ترقی کے برابر ہے۔
وقت نے کئی تلخ حقائق بے نقاب کیے ہیں۔ ایک جانب خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے عملی تحفظ کے ذریعے اپنی کارکردگی ثابت کی، جبکہ دوسری طرف محکمۂ جنگلات کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھتے رہے، جہاں تقرریوں اور تبادلوں میں لکڑی مافیا کا اثر صاف دکھائی دیا2025 میں اقوامِ متحدہ نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 1.5 ارب امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا، مگر یہ رقم تاحال موصول نہیں ہو سکی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ امداد واقعی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو جنگلات بچانے اور لکڑی مافیا کو قابو کرنے میں مدد دے پائے گی؟ اگر سوات اور چترال کے لکڑی مافیا کے سرکردہ افراد اور ان کے ساتھیوں کے بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا کی ٹمبر پالیسی کی غیر شفاف حقیقت سامنے آ سکتی ہے۔ اس نظام میں اصل منافع سوات اور پشاور میں بیٹھے سرمایہ کار اور ان کے ایجنٹ سمیٹ لیتے ہیں، جبکہ 95 فیصد مقامی آبادی محرومی کا شکار رہتی ہے۔
وزیرِ اعظم کی جانب سے 2025 کے سیلابوں کے دوران ماحولیاتی ایمرجنسی کے اعلان جس میں جنگلات کی کٹائی کو آفات کی شدت کا بڑا سبب تسلیم کیا گیا اور زمینی حقائق کے درمیان فرق بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ اس اعلان کے باوجود، سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں، جو ہمیشہ قدرتی حفاظتی دیوار رہے ہیں، جنگلات کی کٹائی بدستور جاری ہے۔
معتبر رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کے باقی ماندہ قدرتی جنگلات میں سے تقریباً 27 فیصد اس وقت شدید خطرے میں ہیں، اور خدشہ ہے کہ انہیں کمرشل اور رہائشی منصوبوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ مارگلہ ہلز، جو محفوظ قدرتی ورثے کی علامت سمجھی جاتی تھیں، بھی بے قابو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باعث ٹکڑوں میں بٹ رہی ہیں۔
یہ صورتحال صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی سلامتی، پانی کی دستیابی، موسمیاتی تحفظ اور جنگلات پر انحصار کرنے والی آبادیوں کے روزگار کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ جنگلات کی تباہی سیلاب کے خطرات بڑھاتی ہے، مٹی کے کٹاؤ کو تیز کرتی ہے، آبی نظام کو متاثر کرتی ہے اور پہلے سے غریب علاقوں میں غربت کو مزید گہرا کرتی ہے۔ یوں ماحولیاتی بدانتظامی ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے جنگلات کوئی معمولی یا قابلِ قربانی اثاثہ نہیں۔ یہ موسمیاتی شدت اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف صوبے کی پہلی حفاظتی دیوار ہیں۔ اگر یہی غفلت چاہے پالیسی کی ناکامی ہو یا دانستہ لاپروائی جاری رہی تو یہ جنگلات اس حد تک تباہ ہو سکتے ہیں جہاں ان کی بحالی ممکن نہ رہے، اور اس کی قیمت آج اور آنے والی نسلوں کو چکانا پڑے گی۔

سابق ایم این اے شہزادہ افتخارالدین کا لکھا ہوا کالم، جو فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہوا، قارئین کے لیے اس کالم کو اردو میں تحریر کیا گیا ہے

ڈاکٹر شمس العارفین کو شاندار کامیابی مبارک ہو دروش (لوئر چترال) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شمس العارفین کو نیشنل یونیورسٹی...
17/01/2026

ڈاکٹر شمس العارفین کو شاندار کامیابی مبارک ہو
دروش (لوئر چترال) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شمس العارفین کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، اسلام آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر کر دیا گیا ہے، جو علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔
ڈاکٹر شمس العارفین کا تعلق دروش کے علاقے جنجیرات، ضلع لوئر چترال سے ہے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم معروف ادارے GIKI سے حاصل کی، جہاں سے ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مکمل کیں۔
اس سے قبل وہ فاسٹ نیشنل یونیورسٹی پشاور میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور وہ علم و تحقیق کے میدان میں ملک و قوم کا نام روشن کرتے رہیں۔









حالیہ ایٹا (ETA) ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بمبوریت سے تعلق رکھنے والے شفیق عالم کو پرائمری استاد منتخب ہونے پر ش...
17/01/2026

حالیہ ایٹا (ETA) ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بمبوریت سے تعلق رکھنے والے شفیق عالم کو پرائمری استاد منتخب ہونے پر شیخان نیوز نیٹورک کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد۔
اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کو قوم کے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

ایون ویلی کے عوام کے تحفظات دور، بحالی کی نئی امید پچھلے مہینے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد بالآخر متعلقہ ...
16/01/2026

ایون ویلی کے عوام کے تحفظات دور، بحالی کی نئی امید
پچھلے مہینے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد بالآخر متعلقہ حکام نے ایون ویلی کے عوام کے دیرینہ تحفظات کا نوٹس لے لیا۔
ورلڈ بینک کے 34 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے منصوبے کے حوالے سے چیئرمین زکوٰۃ مسعود الرحمٰن اور سماجی کارکن وقار یونس ایون تھوڑیاندہ کی مسلسل جدوجہد رنگ لے آئی۔ ویڈیو پیغام اور بھرپور کوششوں کے نتیجے میں وادی ایون میں سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ایک نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔
متعلقہ حکام نے سائٹ کا دورہ کیا اور جلد بھاری مشینری تعینات کرنے اور باؤنڈری وال کو مزید بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ عوام اب عملی اقدامات کے منتظر ہیں اور شفافیت، ذمہ داری اور بروقت کام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ 2015 کے سیلاب کے زخم بھرے جا سکیں۔








🔴 اہم خبر 🔴چترال: بمبوریت کے آخری گاؤں شیخاندہ میں ٹیلی نار نیٹ ورک 14 دن سے بند، عوام شدید مشکلات کا شکارچترال کی وادی ...
16/01/2026

🔴 اہم خبر 🔴
چترال: بمبوریت کے آخری گاؤں شیخاندہ میں ٹیلی نار نیٹ ورک 14 دن سے بند، عوام شدید مشکلات کا شکار
چترال کی وادی بمبوریت کے آخری گاؤں شیخاندہ میں گزشتہ چودہ دنوں سے ٹیلینار (Telenor)کا موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر غائب ہے، جس کے باعث علاقے میں رابطوں کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ نیٹ ورک کی طویل بندش نے عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے سبب طلبہ کی آن لائن تعلیمی سرگرمیاں، بزرگوں کے رابطے، ایمرجنسی معاملات اور کاروباری امور سب بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق نیٹ ورک کی بندش کی وجہ جنریٹر کی خرابی بتائی جا رہی ہے، تاہم صرف ایک جنریٹر کی خرابی کے باعث دو ہفتوں تک نیٹ ورک معطل رہنا ٹیلی نار جیسی بڑی کمپنی کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
علاقہ مکینوں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال اور ٹیلی نار کمپنی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے تاکہ عوام کو مزید ذہنی اذیت سے نجات مل سکے۔
عوام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں موبائل نیٹ ورک بنیادی ضرورت بن چکا ہے، اور اس کی عدم دستیابی عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہی ہے۔Deputy Commissioner Lower Chitral
Pakistan

اپر چترال کے لیے اعزاز پی ایم ایس افسر ناظم الدین کو صوبائی حکومت کی جانب سے سیکشن آفیسر ہائر ایجوکیشن پشاور تعینات کر د...
16/01/2026

اپر چترال کے لیے اعزاز
پی ایم ایس افسر ناظم الدین کو صوبائی حکومت کی جانب سے سیکشن آفیسر ہائر ایجوکیشن پشاور تعینات کر دیا گیا ہے۔
ناظم الدین کا تعلق اپر چترال کے علاقے پرواک سے ہے اور وہ عرب الامین کے فرزند ہیں۔
اس تعیناتی سے قبل وہ ضلع اپر چترال میں اسسٹنٹ کمشنر (انڈر ٹریننگ) کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، جہاں انہوں نے مختلف انتظامی امور نہایت احسن طریقے سے سرانجام دیے۔
اہلِ علاقہ نے ناظم الدین کو اس اہم ذمہ داری ملنے پر مبارکباد پیش کی ہے اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔




لوئر چترال پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری لوئر چترال پولیس منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر ک...
16/01/2026

لوئر چترال پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری

لوئر چترال پولیس منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت مسلسل ٹارگٹڈ کارروائیاں کر رہی ہے۔
ایکٹنگ ڈی پی او لوئر چترال عتیق الرحمن کے خصوصی احکامات پر،
ایس ڈی پی او سرکل چترال سجاد حسین کی سربراہی میں
ایس ایچ او تھانہ سٹی چترال انسپکٹر علی احمد نے پولیس نفری کے ہمراہ کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ملزم کی شناخت جمشید احمد سکنہ فیض آباد ہون چترال کے نام سے ہوئی
ملزم کے قبضے سے 2 کلو 460 گرام چرس برآمد
ملزم کے خلاف تھانہ سٹی چترال میں مقدمہ درج
مزید تفتیش جاری ہے
لوئر چترال پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ اور معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
عوام سے اپیل ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس سے تعاون جاری رکھیں۔





وادی بمبوریت کا ہونہار قابل اعتماد درحشان بیٹا عرفان الدین ولد محمد شکیل استاذ سکنہ سروجال کو FGEI federal  govt educati...
16/01/2026

وادی بمبوریت کا ہونہار قابل اعتماد درحشان بیٹا عرفان الدین ولد محمد شکیل استاذ سکنہ سروجال کو
FGEI federal govt educational institution Directorate Nowshehra Kant
منتحب Bps 14میں بحثیت ٹیچر
ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ایک اچھا طالبعلم ایک کامیاب انسان ہمیشہ موقع ضایع نہی کرتا بلکہ اپنی محنت لگن کوشش سے ہر آپرچونیٹی سے فایدہ اٹھاتا ہے میں امید کرتا ہوں عرفان بیٹا مزید محنت کرکے اس اپتدائ سفر کو کامیابیوں کے عروج تک لے جایے گا کیونکہ وہ تمام صلاحیت برخوردار کی شخصیت میں موجود ہیں جو کسی انسان کو تخت ثریا کی پتہ بتاتی ہیں ویلڈن عرفان اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کا حامی و ناصر ہو

افسوسناک ٹریفک حادثہ آج بروز 16 جنوری 2026 بوقت 09:20 صبح پشاور سے تورکھو (اپر چترال) جانے والی فلائنگ کوچ (گاڑی نمبر 18...
16/01/2026

افسوسناک ٹریفک حادثہ

آج بروز 16 جنوری 2026 بوقت 09:20 صبح پشاور سے تورکھو (اپر چترال) جانے والی فلائنگ کوچ (گاڑی نمبر 1832) مقام کوراغ، ریشت کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی۔ گاڑی سڑک سے پھسل کر دریا کے کنارے جا گری۔
حادثے کے وقت گاڑی میں 11 مسافر سوار تھے۔ افسوسناک حادثے میں محمد الیاس سکنہ بونی کی اہلیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی میں انتقال کر گئیں، جبکہ دیگر مسافر شدید زخمی ہوئے۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے۔ آمین۔

Address

Chitral

Telephone

03440566778

Website

https://www.youtube.com/@IbadRehmanvlogs

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shekhan News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shekhan News Network:

Share