28/12/2025
وزیر اعلیٰ کے پی کے جب بغیر کسی دعوت نامہ کے پنجاب اسمبلى ميں پہنچے تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا
پنجاب حکومت پر لگا یہ داغ سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں اس سارے معاملے کو احسن طریقے سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا تھا مگر ایسا کچھ دیکھنے میں آیا جیسے دیکھ کر دل میں سوا رنج کے کچھ نہیں ہو رہا تھا کہ کیسے لوگ ہم پر مسلط کر دیئے گئے ہیں
جن کو اخلاقی حدود تک کا احساس نہیں ویسے تو وزیر اعلیٰ کے پی کے کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہئے تھا کہ انہوں نے اس طرح کی صورت حال کیوں پیدا کیں
مگر ہر جانب اخلاقیات کا فقدان ہمارے ملک کے لئے ہر روز ایسے مسائل پیدا کر دیتا ہے
سہیل آفریدی جیسے شخص کو کے پی کے کا وزیر اعلیٰ بنانا اس صوبے کے لوگوں کی توہین ہے جیسے نا اپنی عزت کا خیال ہے اور نا دوسروں کی عزت کا خیال ہے
یہ تماشہ جب میڈیا پر دکھایا جا رہا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے کو دھکّے دے کر اسمبلى ہال سے باہر نکالا جا رہا ہے
ہم نے پوری دنیا کو کیا پیغام دیا کہ ہم کس سطح تک گر چکے ہیں
میں نے پہلے ہی نشاندہی کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو پنجاب اسمبلى بغیر حکومتی دعوت نامے کے نہیں جانا چاہئے تھا
مگر پنجاب حکومت کو بھی اس طرح کا گھٹیا رویہ نہیں اپنانا چاہئے تھا
میں ذاتی طور پر سہیل آفریدی سے نہیں بلکہ کے پی کے کی عوام سے اس تمام معاملے پر معذرت چاہتا ہوں جو کچھ ہوا اس پر ہم سب شرمندہ ہیں
تحریر محمد سلیمان صدیق