29/08/2026
سعودی عرب میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت
سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے اقامہ، لیبر اور بارڈر سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
حالیہ ایک ہفتے کی کارروائیوں میں ملک بھر میں غیر قانونی داخلے اور رہائش سے متعلق متعدد کیسز سامنے آئے۔
سرحدی علاقوں میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 1,450 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ان میں 58 فیصد ایتھوپیائی اور 41 فیصد یمنی شہری شامل بتائے گئے ہیں۔
غیر قانونی طور پر سعودی عرب سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے والے 44 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
حکام نے غیر قانونی افراد کو رہائش، ٹرانسپورٹ یا پناہ فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی۔
ایسی سہولت کاری کے الزام میں 27 افراد کو گرفتار کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کارروائی صرف تارکین تک محدود نہیں۔
سرکاری اعداد کے مطابق تقریباً 30 ہزار غیر ملکی اس وقت مختلف قانونی مراحل سے گزر رہے ہیں، جن میں 1,981 خواتین بھی شامل ہیں۔
تقریباً 18,900 افراد کو سفارتی دستاویزات کے حصول کے لیے متعلقہ سفارت خانوں کے حوالے کیا جا چکا ہے۔
مزید 2,867 افراد کے سفری انتظامات آخری مراحل میں ہیں، جبکہ 14,900 افراد کو ملک سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین کو سہولت فراہم کرنے والوں کو بھی سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قوانین کے تحت بعض خلاف ورزیوں پر 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
یہ کارروائیاں سعودی عرب میں اقامہ اور بارڈر قوانین پر عمل درآمد کو مزید سخت کیے جانے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
تارکینِ وطن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اقامے اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھیں اور غیر قانونی سرگرمیوں سے مکمل اجتناب کریں۔
HASHTAGS:
DISCLAIMER: This post is for informational and report-based purposes only. Details may vary depending on sources and official confirmations. Image is AI-generated for illustrative purposes only and may not depict actual events or persons.