18/10/2025
*سبق آموز کہانی*
دو بھائی چالیس برس سے آپس میں محبت اور اتفاق سے رہ رہے تھے۔ ان کا ایک وسیع زرعی فارم تھا، جس میں ان کے گھر آمنے سامنے بنے ہوئے تھے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کا خیال رکھتے، اور ان کی اولادوں میں بھی پیار و محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔
مگر ایک دن معمولی بات پر اختلاف ایسا بڑھا کہ نوبت گالی گلوچ تک جا پہنچی۔
غصے میں چھوٹے بھائی نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھدوا کر اُس میں قریبی نہر کا پانی چھوڑ دیا، تاکہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔
اگلے روز بڑے بھائی نے ایک مستری کو اپنے گھر بلایا۔
اس نے کہا،
"سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے۔ کل اُس نے میرے اور اپنے گھر کے درمیان کھائی بنوا کر پانی چھوڑ دیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار بنا دو تاکہ میں اُس کی شکل دیکھوں اور نہ ہی اس کا گھر۔ اور یہ کام جلد از جلد مکمل کر دو، اجرت تمہاری مرضی کے مطابق دوں گا۔"
مستری نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
"پہلے وہ جگہ دکھا دیجیے جہاں سے باڑ شروع کرنی ہے، تاکہ پیمائش کے مطابق سامان ساتھ والے قصبے سے لے آئیں۔"
موقع دیکھنے کے بعد وہ بڑے بھائی کو ساتھ لے کر قریبی قصبے گیا، چند کاریگروں کے ساتھ ایک بڑی پک اپ پر سارا سامان لے آیا۔
اس نے کہا،
"اب آپ آرام کریں، یہ کام ہم پر چھوڑ دیجیے، ہم یہ کام رات کو ہی مکمل کر دیں گے۔"
مستری اور اس کے کاریگر ساری رات کام کرتے رہے۔
صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی اور دیوار دیکھنے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو سامنے منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار تو کجا، ایک انچ دیوار بھی نہیں تھی... بلکہ اس کی جگہ ایک شاندار پل بنا ہوا تھا۔
وہ حیرانی سے پل کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ دوسری جانب چھوٹا بھائی کھڑا، نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ دونوں چند لمحے خاموشی سے کھائی اور اس پر بنے پل کو تکتے رہے۔ چھوٹے بھائی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے... اُس نے سوچا، میں نے باپ جیسے بھائی کا دل دکھایا، مگر اس نے پھر بھی تعلق نہیں توڑا۔
بڑے بھائی کا دل بھی پگھل گیا۔ اس نے خود سے کہا، غلطی جس کی بھی تھی، مجھے یوں جذباتی ہو کر معاملہ بگاڑنا نہیں چاہیے تھا۔
دونوں بھائی آنکھوں میں آنسو لیے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دونوں گھروں کے بیوی بچے بھی دوڑتے ہوئے آئے اور پل پر اکٹھے ہو گئے۔
بڑا بھائی مستری کو تلاش کرنے کے لیے ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا۔ وہ اپنے اوزار سمیٹ کر جانے کی تیاری میں تھا۔
بڑا بھائی جلدی سے اس کے پاس گیا اور بولا،
"اپنی اجرت تو لیتے جاؤ!"
مستری مسکرا کر بولا،
"اس پل کی اجرت میں آپ سے نہیں لوں گا، بلکہ اُس سے لوں گا جس کا وعدہ ہے کہ،
'جو شخص اللہ کی رضا کے لیے لوگوں میں صلح کروائے، اللہ اسے عظیم اجر سے نوازے گا۔'"
یہ کہہ کر مستری نے "اللہ حافظ" کہا اور چلا گیا۔
سبق،
*کوشش کریں کہ اس مستری کی طرح لوگوں کے درمیان پل بنائیں*
*خدارا دیواریں نہ اٹھائیں۔*
منقول
والسلام آپ کا بھائی