Fort Munro News

  • Home
  • Fort Munro News

Fort Munro News اسلام علیکم پیج ممبرز پیج کو لائیک اور شیئر کریں شکریہ

*سبق آموز کہانی*دو بھائی چالیس برس سے آپس میں محبت اور اتفاق سے رہ رہے تھے۔ ان کا ایک وسیع زرعی فارم تھا، جس میں ان کے گ...
18/10/2025

*سبق آموز کہانی*

دو بھائی چالیس برس سے آپس میں محبت اور اتفاق سے رہ رہے تھے۔ ان کا ایک وسیع زرعی فارم تھا، جس میں ان کے گھر آمنے سامنے بنے ہوئے تھے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کا خیال رکھتے، اور ان کی اولادوں میں بھی پیار و محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔

مگر ایک دن معمولی بات پر اختلاف ایسا بڑھا کہ نوبت گالی گلوچ تک جا پہنچی۔
غصے میں چھوٹے بھائی نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھدوا کر اُس میں قریبی نہر کا پانی چھوڑ دیا، تاکہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔

اگلے روز بڑے بھائی نے ایک مستری کو اپنے گھر بلایا۔
اس نے کہا،
"سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے۔ کل اُس نے میرے اور اپنے گھر کے درمیان کھائی بنوا کر پانی چھوڑ دیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار بنا دو تاکہ میں اُس کی شکل دیکھوں اور نہ ہی اس کا گھر۔ اور یہ کام جلد از جلد مکمل کر دو، اجرت تمہاری مرضی کے مطابق دوں گا۔"

مستری نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
"پہلے وہ جگہ دکھا دیجیے جہاں سے باڑ شروع کرنی ہے، تاکہ پیمائش کے مطابق سامان ساتھ والے قصبے سے لے آئیں۔"

موقع دیکھنے کے بعد وہ بڑے بھائی کو ساتھ لے کر قریبی قصبے گیا، چند کاریگروں کے ساتھ ایک بڑی پک اپ پر سارا سامان لے آیا۔
اس نے کہا،
"اب آپ آرام کریں، یہ کام ہم پر چھوڑ دیجیے، ہم یہ کام رات کو ہی مکمل کر دیں گے۔"

مستری اور اس کے کاریگر ساری رات کام کرتے رہے۔

صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی اور دیوار دیکھنے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو سامنے منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار تو کجا، ایک انچ دیوار بھی نہیں تھی... بلکہ اس کی جگہ ایک شاندار پل بنا ہوا تھا۔

وہ حیرانی سے پل کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ دوسری جانب چھوٹا بھائی کھڑا، نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ دونوں چند لمحے خاموشی سے کھائی اور اس پر بنے پل کو تکتے رہے۔ چھوٹے بھائی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے... اُس نے سوچا، میں نے باپ جیسے بھائی کا دل دکھایا، مگر اس نے پھر بھی تعلق نہیں توڑا۔

بڑے بھائی کا دل بھی پگھل گیا۔ اس نے خود سے کہا، غلطی جس کی بھی تھی، مجھے یوں جذباتی ہو کر معاملہ بگاڑنا نہیں چاہیے تھا۔

دونوں بھائی آنکھوں میں آنسو لیے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دونوں گھروں کے بیوی بچے بھی دوڑتے ہوئے آئے اور پل پر اکٹھے ہو گئے۔

بڑا بھائی مستری کو تلاش کرنے کے لیے ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا۔ وہ اپنے اوزار سمیٹ کر جانے کی تیاری میں تھا۔
بڑا بھائی جلدی سے اس کے پاس گیا اور بولا،
"اپنی اجرت تو لیتے جاؤ!"

مستری مسکرا کر بولا،
"اس پل کی اجرت میں آپ سے نہیں لوں گا، بلکہ اُس سے لوں گا جس کا وعدہ ہے کہ،
'جو شخص اللہ کی رضا کے لیے لوگوں میں صلح کروائے، اللہ اسے عظیم اجر سے نوازے گا۔'"

یہ کہہ کر مستری نے "اللہ حافظ" کہا اور چلا گیا۔

سبق،
*کوشش کریں کہ اس مستری کی طرح لوگوں کے درمیان پل بنائیں*
*خدارا دیواریں نہ اٹھائیں۔*
منقول
والسلام آپ کا بھائی

16/10/2025

ڈیرہ غازی خان میں آج سے بے نظیر کے پیسے بند ہو گئے ہیں
سموار سے دوبارہ آن ہوں گے
فلحال سب کیمپ کلوز کر دیے گئے ہیں

16/10/2025
*ترجمان پی ٹی سی ایل Ptcl گروپ**محترم صارفین،بین الاقوامی کیبل کنسورشیم کی جانب سے ہماری ایک سب میرین کیبل میں نصب خراب ...
14/10/2025

*ترجمان پی ٹی سی ایل Ptcl گروپ*

*محترم صارفین،بین الاقوامی کیبل کنسورشیم کی جانب سے ہماری ایک سب میرین کیبل میں نصب خراب رپیٹر کی مرمت کا کام آج 14 اکتوبر کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا اور تقریباً 18 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران صارفین کو انٹرنیٹ سروس میں سست روی یا جزوی تعطل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہم اس تکلیف کیلئے معذرت خواہ ہیں*

موت کا ایک دن مقرر ہے وہ ہر حال میں آئے گی .( نماز قایم کرو(روزانہ صدقہ ادا کرو )۔(صدقہ بری موت سے بچاتا ہے )اور اللّه ک...
09/10/2025

موت کا ایک دن مقرر ہے وہ ہر حال میں آئے گی .
( نماز قایم کرو(روزانہ صدقہ ادا کرو )۔(صدقہ بری موت سے بچاتا ہے )اور اللّه کے راستے میں غریبوں پر مال خرچ کرو

8 اکتوبر 2005ایک ایسی صبح جس نے لاکھوں انسانوں کو سورج ہی نہ دیکھنے دیا۔شہرِ بالاکوٹ لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ماں ک...
08/10/2025

8 اکتوبر 2005
ایک ایسی صبح جس نے لاکھوں انسانوں کو سورج ہی نہ دیکھنے دیا۔
شہرِ بالاکوٹ لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
ماں کو بچہ نہ ملا، اور بچوں کو ماں باپ نہ ملے۔
ہر دل میں ایک دردناک کہانی، ہر آنکھ میں ایک خاموش فریاد۔
زندگی بھر کی کمائی لمحوں میں زمین نگل گئی۔
اے اللہ! زلزلہ کے تمام شہداء کے درجات بلند فرما۔ آمین 🤲
بیادِ زلزلہ – 8 اکتوبر 2005

06/10/2025

حَسْبُنَا اللهُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ❤️
اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے

03/10/2025

‏اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور
تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

مسلمانو بیدار ہو جاؤ 😭😭😭اور ایک ہی صدا بلند کرو کہ راہ خدا کے سب مسافروں کو رہا کیا جائے ۔۔۔سینیٹر مشتاق احمد خان ہمارا ...
02/10/2025

مسلمانو بیدار ہو جاؤ 😭😭😭
اور ایک ہی صدا بلند کرو کہ راہ خدا کے سب مسافروں کو رہا کیا جائے ۔۔۔
سینیٹر مشتاق احمد خان ہمارا فخر ہیں ۔۔۔😭
゚viralシ

دنیا کی زندگی
29/09/2025

دنیا کی زندگی

نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے، مگر وہاں، جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔گرد و پیش زمین خشک تھی آسمان بلکل صاف، نہ باد...
13/09/2025

نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے، مگر وہاں، جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔
گرد و پیش زمین خشک تھی آسمان بلکل صاف، نہ بادل تھے نہ بارش کی کوئی آہٹ۔
لیکن نوحؑ کے کانوں میں وحی کی بازگشت تھی.
"ایک طوفان آنے والا ہے۔ زمین ڈوب جائے گی۔ سرکش غرق ہوں گے۔"
یہ عام آدمی کے لیے ایک دیوانے کا خواب ہو سکتا تھا، مگر نوحؑ کے لیے یہ رب کا وعدہ تھا۔
اللہ کا حکم تھا: "کشتی بناؤ"
اور وہ بنانے لگے۔ درختوں کو کاٹا گیا، لکڑیاں جوڑی گئیں، کیل ٹھونکے گئے۔ اور وہ تین منزلہ کشتی خشکی پر اٹھنے لگی۔
قوم کے سردار روز گزرتے، ہنستے، طعنے دیتے، اور کہتے: "کیا سمندر اب تمہارے خوابوں سے نکلے گا؟"
نوحؑ نے جواب دیا، جو قرآن میں آج بھی محفوظ ہے:
"وَيَصۡنَعُالۡفُلۡكَوَكُلّمَا مَرّعَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ سَخِرُوۡا مِنۡهُؕ قَالَاِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنّا فَاِنّا نَسۡخَرُمِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَؕ"
(سورہ ہود: 38)
"اگر تم ہم پر ہنستے ہو، تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے، جیسے تم ہنستے ہو۔"
یہ کشتی نہیں بن رہی تھی، یہ یقین لکڑی سے جوڑ بنا رہا تھا ، توکل کے کیلوں سے جُڑی ہوئی یہ کشتی، صبر کے پانی سے سیراب کی گئی تھی۔ نوحؑ نے قوم کے قہقہوں کو نہیں سنا، صرف رب کے حکم کو سنا۔
طوفان آیا۔
وہی زمین جسے لوگ خشک سمجھتے تھے، سمندر بن گئی۔ جو کل مذاق کر رہے تھے، آج مدد کیلئے چیخ رہے تھے۔ لیکن وقت گزر چکا تھا۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔
نجات صرف اُس کشتی میں تھی، جو وقت پر اللہ کے حکم پر بنائی گئی تھی۔
نوحؑ علیہ السلام پیغمبر تھے ، مگر ہم خاتم النبیین ﷺ کے اُمتی ہیں۔ ہمارے لیے بھی احکام ہیں، ہدایات ہیں، اور کچھ طوفان ہمارے ایمان، وقت، نسل، اور اقدار کو بہا لے جانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
آج ہمیں بھی خشکی پر اپنی کشتی بنانی ہے محنت کی، دعا کی، علم کی، اور نیت کی۔
بہت مذاق اڑے گا رکاوٹیں آئیں گی، تاخیر بھی ہوگی۔
مگر حکم ہو چکا ہے۔
کشتی بنانی ہے۔ اپنے ایمان کو بچانا ہے.
پانی کا انتظار تو بس ڈوبنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایمان کا سفر ہے. یہی بندگی کا امتحان ہے.

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fort Munro News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share