04/11/2025
زندگی کا سلیقہ — اصل تعلیم یہی ہے
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عورت کو اکثر اس کے کاموں سے پرکھا جاتا ہے۔ اگر وہ سلائی، کڑھائی یا کھانا پکانا جانتی ہے تو “سلیقہ مند” کہلاتی ہے، اور اگر ورکنگ ویمن ہے تو “خودمختار”۔ مگر حقیقت میں نہ ورکنگ ویمن نہ ہونے سے کوئی جاہل بنتا ہے، اور نہ ہی کھانا نہ پکانے سے کوئی پھوہڑ۔
اصل بات انسان کے طرزِ زندگی، سوچ اور رویہ میں ہے۔
ایک ماں اس لیے اداس ہے کہ اب اس کے پکاۓ ہوئے نرگسی کوفتے کھانے والا کوئی نہیں، جبکہ دوسری ماں اس لیے پریشان ہے کہ اس کی تدریسی روٹین ختم ہو گئی۔ دونوں کی دنیا الگ ہے، مگر دونوں کے دکھ ایک جیسے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو کمتر سمجھتی ہیں — ایک کہتی ہے “نوکری کرنے والی گھر نہیں سنبھال سکتی”، اور دوسری کہتی ہے “گھروں میں بیٹھنے والی عورتیں وقت ضائع کرتی ہیں”۔
اصل المیہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کو اپنے معیار سے تولتے ہیں۔
جو سلائی جانتی ہے وہ فخر سے کہتی ہے “فلاں کو تو سوئی میں دھاگا ڈالنا بھی نہیں آتا”،
جو اچھا پکا لیتی ہے وہ کہتی ہے “انہیں تو انڈہ ابالنا بھی نہیں آتا”،
اور جو ورکنگ ویمن ہے، وہ سمجھتی ہے کہ گھر بیٹھنے والی عورت ترقی نہیں کر سکتی۔
حالانکہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ شلوار سینا یا سالن بنانا سلیقے کا معیار ہے۔
اصل سلیقہ یہ ہے کہ آپ دوسروں کی صلاحیتوں کو تسلیم کریں اور ان کے انتخاب کی عزت کریں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو الگ صلاحیتوں اور رجحانات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کو گھرداری میں مہارت دی، کسی کو پڑھانے کا شوق، کسی کو لکھنے یا تخلیق کرنے کا فن۔ اگر ہم یہ سمجھ جائیں کہ سب کی اپنی جگہ اہمیت ہے تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔
آئن اسٹائن نے کہا تھا:
"The more I learn, the more I realize how much I don’t know."
یعنی جتنا میں سیکھتا ہوں، اتنا ہی سمجھ آتا ہے کہ میں کتنا کم جانتا ہوں۔
سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
دوسروں کو کمتر سمجھنا سب سے بڑی جہالت ہے۔
اصل تعلیم وہ نہیں جو صرف کتابوں میں ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کو انسانوں کی قدر کرنا سکھائے۔