
24/03/2022
اس عظیم ہستی کے بارے میں کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن ایک بات جو ان کےبارے میں مشہور ہے کہ وہ وطن کی محبت کے اس قدر دیوانے تھے،کہ اس سے آگے انھیں کچھ اور کہنے یاسوچنے کا موقع ہی نہیں ملا،،، پھر بھی انکی شاعری کے حوالے سے ایک تنقید جو کے اکثر و بیشتر سننےکو ملی،کہ انکی شاعری میں جمالیات کی کمی ہے، اور وہ شاعری محض وعظ و تقریر کے کچھ نہیں۔۔۔۔ تو اس بات کا بہت ہی خوبصورت جواب وہ کچھ یوں دیتے ہیں کہ
"میری شاعری میں براہ راست شمشیر و سنان کا ذکر میرے بعض احباب کو پسند نہیں آتا،لیکن میں اپنے جذبات کی یورش سے اس قدر مجبور ہوتا ہوں کہ ان احباب کی ہدایات پر عمل نہیں کر سکتا۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے،اپنے مادر وطن کو استعماریوں کے آہنی پنجوں میں جکڑا ہوا دیکھا ہے،اپنی قوم کی ننگ و ناموس کو کوڑیوں کے دام بکتے دیکھا ہے،اسے سندھ اور پنجاب میں دردر کی ٹھوکریں کھاتے اور ہاتھ پھیلاتے دیکھا ہے،اسے اپنی برہنگی پر پردہ ڈالنے کے لیے پہاڑوں کی گپھاوں میں چھپتے دیکھا ہے، یہ بھی دیکھا ہے کہ انکی سرزمین کے مدفون خزانوں کی برآمدگی سے دوسروں پر دولت کی بارش ہو رہی ہے لیکن خود اسے ایک پھوٹی کوڑی بھی نصیب نہیں ہوتی۔۔۔
میں اپنے معتبر احباب سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا ان حالات میں یہ مناسب ہوگا کہ میں،اپنے وطن کی لوٹ کھسوٹ سے منہ موڑ کر،اپنی قوم کی پامالی سے آنکھیں چرا کر، اپنی ماوں ،بہنوں اور بیٹیوں کی آہ و بکا سے کان بند کر کے میدانوں اور وادیوں میں بکھری ہوئی جوان لاشوں سے بے دھیان ہو کر گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر حسن و عشق، گل و بلبل اور رنگ و نکہت کی کوئی داستان چیڑوں!!! کیا کوئی بھی غیرت مند قوم کا کوئی غیور شاعر ایسا کر سکتا ہے؟؟؟ اگر نہیں تو کیوں مجھ سے ایسی توقع رکھی جاتی ہیں، میں صاف اوربرملا کہتا ہوں کہ میں ایسا نہیں کر سکتا،میں ایک عورت کوبدحال،برہنہ اور دست بستہ نہیں دیکھ سکتا، جن کیمپوں میں رہنے اور اذیتیں اٹھانے کا میرا ذاتی تجربہ ہے ان میں موجود بوڑھوں، جوانوں اور بچوں کا کرب کبھی نہیں بھول سکتا،اسی کیفیت میں میں چیخ اٹھتا ہوں، اور آنسو بہاتا ہوں،ہی میری شاعری ہے"
اس حوالے سے وہ اپنے ایک نظم "مہر نہ زاناں" جسکا ترجمہ یوں ہے،، کہتے ہیں کہ۔۔۔
کون کہتا ہے کہ بیگانہ مہر و وفا ہوں میں
جمال رنگ و روشنی سےنا آشنا ہوں میں
مگر اس دل بے اماں کو کیسے سمھجاےکوئ
اشک آنکھوں کے کیسے چھپاے کوئ
برہنہ تن گرسنہ ماوں اور بہنوں کا ماتم
جابجا خون میں لتھڑی ہوئی لاشوں کا غم
راکھ لے ڈھیر میں بدلتے گھروں کا غم
کوئی ایک دکھ ہو تو بھلاے کوئی۔۔۔