باپ کی گولیوں کا شکار ہونے والی ڈاکٹر سدرہ نیازی اب اس دنیا میں نہیں رہیں ۔۔۔۔
جرم صرف ایک تھا کہ ان پڑھ سے شادی نہیں کروں گی ۔۔ لیول کا تو ہو ۔
یہ کوئی غلط مطالبہ نہیں تھا۔۔۔اس کا شرعی حق تھا کہ لیول کا بندہ تو ہو چاہیے ڈاکٹر نہ ہو۔۔۔۔
تکرار صرف اتنی کہ مجھے کزن سے شادی نہیں کرنی ۔۔۔چونکہ باپ نے پیدا کرنا سیکھا تھا پالنا نہیں اس لئے ہاتھوں سے کروڑوں کی جائیداد جاتے دیکھنا برداشت نہ ہوا اور صبح کے وقت ناشتہ بناتے ہوئے ڈاکٹر سدرہ کو پہلے ٹانگ اور پھر سر پہ گولی مار کر بیٹے کو کہا لے جاؤ میں نے مار دی ہے وہی بیٹا جو باپ کے ہی نقش قدم پہ چلتا آیا ہے اپنے نام سے ایف آئی آر درج کروائی کہ باپ بیٹی میں گھریلو جھگڑا ہوا اور باپ جس کا ذہنی توازن درست نہیں اس نے گولی چلا دی ۔۔۔۔
آج ڈاکٹر سدرہ نیازی زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے شائد جیت گئیں اور اس سفاک خاندان سے کنارہ اختیار کر گئیں
انا اللہ وانا الیہ راجعون
جانے والی چلی گئی مگر سوالات کا انبار چھوڑ گئیں
کیا اپنے لئے آواز اٹھانے والی بیٹیاں یونہی مرتی رہیں گی؟؟؟
کیا پولیس ایسی بے کار اور بے معنی ایف آئی آر درج کر کے اپنی جان چھڑواتی رہے گی؟؟؟
کیا ذہنی توازن درست نہیں کہہ کر کیسا بھی جرم ہوتا رہے گا؟؟؟
کیا ریاست خود کسی مظلوم کے حق میں کھڑی نہیں ہو گی؟؟؟
انسانی حقوق کے نام پہ بنی تنظیمیں صرف اپنی سیاست چمکاتی رہیں گی ۔
Be the first to know and let us send you an email when Hamza Baloch posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.