Adeel official

  • Home
  • Adeel official

Adeel official here you can find your best interest........

02/04/2024

اپنے اندر کے انسان کی پہچان کرنی ہو تو دو موقعوں پہ خود کا غور سے جائزہ لیں:

پہلا، مصیبت کے لمحات میں آپ کا رویہ کیسا ہوتا ہے ؟
دوسرا، یہ دیکھیں کہ طاقت یا مقام ملنے کے بعد آپ کا طرزِ عمل کیسے بدلتا ہے؟

مصیبت اور طاقت، دونوں میں انسان کی شخصیت کی پہچان چھپی ہے۔

01/07/2022
01/07/2022

Ek Shaam Chura Lu'n?...

09/04/2022



On lighter Note too...
😛😂😉
Good Joke

A Doctor was chatting at a party with a Chartered Accountant.

He asked, "How do I manage this delicate issue when people even at a party like this ask me about their joint pains and heartburn and gas trouble. Just because I am a doctor.... not fair!"

The CA friend replied coolly, "Just tell them the right things politely but send them a bill from your clinic the next morning... only once! Word will soon get around and it will stop immediately!"

"Wow! Thanks for the tip, said the doctor."

Next morning the doctor got a bill from his CA friend, "Consulting charges for Business Development." 👻😎😂🤣

30/03/2022

ہمارے پرکھوں کو کیا خبر تھی!
کہ ان کی نسلیں اداس ہونگی
ادھیڑ عمری میں مرنے والوں کو کیا پتہ تھا!
کہ ان کے لوگوں کی زندگی میں،
جوان عمری ناپید ہوگی
سمے کو بہنے سے کام ہوگا
بڑھاپا محو کلام ہوگا
ہر ایک چہرے میں راز ہوگا
حواس خمسہ کی بدحواسی،
بس ایک وحشت کا ساز ہوگا
زمیں کے اندر آرام گاہوں میں،
سونے والے مصوروں کو کہاں خبر تھی!
کہ بعد ان کے تمام منظر، سبھی تصور
ادھورے ہونگے
دعائیں عمروں کی دینے والوں کو کیا خبر تھی
دراز عمری عذاب ہوگی...!!!🖤
ن.م

22/03/2022

اہمیت کا لفظ اتنا اہم نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں بنیادی طور پر ہم ایک دوسرے کے لیے اہم نہیں ہوتے بلکہ کچھ ضرورتوں نے ہمیں ایک دوسرے سے وابستہ کیا ہوا ہوتا ہے۔وہ ضرورت جب ختم ہوجائے یا اس کا مرکز بدل جائے تو اہمیت کا محور بھی بدل جاتا ہے۔بعض لوگ تمام عمر اسی وہم میں گزار دیتے ہیں کہ انہیں یاد کرنے والے بہت ہیں اور ان کے بغیر لوگوں کو سانس نہیں آئے گا۔لیکن یہ وہ خام خیالی ہے جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔جہاں آپ کی اہمیت ہو وہاں دل کو آنکھوں کی جگہ واں کیجیے اور جہاں محور بدلے تو خود کو سمیٹ کر مسقبل سے منسلک ہوجائیں کیوں کہ ماضی جتنا مرضی خوبصورت ہو ماضی ہی رہتا ہے۔

صبح بخیر از قلم آفتاب شاہ کتاب آفتابیات

21/03/2022

ادھورے مرد، مکمل عورتیں
"ذیشان الحسن عثمانی"

ہمارے ملک کی بھی ایک ٹیگ لائن ہونی چاہئیے۔ "ادھورے لوگوں کا ملک"۔ ہم میں سے اکثرلوگ ادھورے ہوتے ہیں۔ ادھوری زندگی گزارتے ہیں، ادھورے رشتے نبھاتے ہیں، ادھورہ عشق کرتے ہیں، ادھورے کام کرتے ہیں، ادھورے خواب دیکھتے ہیں، ادھوری تعبیر پاتے ہیں، ادھورے گناہ کرتے ہیں، اور روتے پیٹتے ادھوری موت مر جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا مرد بالخصوص ادھورا ہوتا ہے۔ ڈرا ہوا، سہما ہوا، بے حوصلہ، انجانے خوف کا اسیر، اَن دیکھی زنجیروں کا قیدی، درد ناک راہوں کا مسافر اور جھوٹی تمناوں کا امیدوار۔ اس کے باوجود بے چارہ پورا عذاب سہتا ہے، پورا الزام اپنے سر لیتا ہے اور پوری ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ عورت سلام کا جواب نہ دے اور مرد ہاتھ پکڑ لے۔ ہمارے مرد تو بہت ڈرپوک ہوتے ہیں۔ گناہ سے نہیں ڈرتے، گناہوں کے الزام سے ڈرتے ہیں۔ مگر جب بات آگے بڑھ جائے تو قصور سارے کا سارا بےچارے مرد پر۔ اور عورت تو جیسے بےزبان، جذبات سے عاری کوئی موم کی مورتی ہو کہ پتہ ہی نہ چلا اور کب پگھل گئی۔
مردوں کے برعکس عورتیں نہ صرف پوری مکمل ہوتی ہیں ، بلکہ مردوں کو مکمل کرنے اور ادھورہ چھوڑ جانے کا فن بھی جانتی ہیں . ان کے جذبات بھی مکمل ہوتے ہیں اوراحساسات بھی ، یہ محبت بھی مکمل کرتی ہیں اور نفرت بھی. عورتوں کے لئے محبت اور زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا جبکہ مرد محبت ، زندگی ، معاش ، کام ، ایمان سبکو الگ الگ خانوں میں رکھتا ہے .
تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے تو ماتم ہوتا ہے۔ یہ ادھورا مرد اپنی مردانگی کا ڈھنڈورا پیٹنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے آخر انہیں مکمل تو عورت کی ذات ہی کرتی ہے۔
جس معاشرے کو نقاب پوش خاتون کے جینز اور ٹی شرٹ والے شوہر پر اعتراض نہیں اُسے داڑھی والے شخص کی بے پردہ عورت پر کمنٹس کا بھی کوئی حق نہیں۔
پیمانہ اگر صبر ہو تو ملکِ عزیز کے تمام مرد عورتیں اور عورتیں مرد قرار پائیں۔ اور سونے پہ سہاگہ جب ان ادھورے مردوں کی "پوری" غیرت جاگ جائے۔ اللہ کی پناہ۔
"آپ کی بیٹی بس اسٹاپ پر کھڑی باتیں کر رہی تھی"۔ "آپ کی بہن نے برقع نہیں پہنا"، اور "آپکی بیوی کی تصویر فیس بک پر کیوں؟" اَجی آپ کی دینی غیرت کہاں مر گئی ہے ہمارے گھر ایسا ہوتا تو کشتے کے پشتے لگا دیتے۔
پتہ نہیں لوگ چاہتے کیا ہیں۔ یہی کہ غریب کا گھر برباد ہو جائے؟ بلاوجہ اپنی پاکیزگی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والے کی عمر کیا ہے؟ کن مسائل سے گزر رہا ہے؟ کن سوچوں میں مگن ہے؟ کون سی جنگ سے ہار کے لوٹا ہے؟ کون سا محاذ ہے جِس پہ جانا باقی ہے؟
عورت کو پاؤں کی جوتی بنا کر رکھو۔ کیوں بھائی، لے کر ہی کیوں آتے ہو کسی غریب کو اگر ایسے ہی اِرادے ہیں؟

مرد پیسہ لاتا ہے، کماتا ہے، تو۔ کیا وہ مالک ہو گیا۔ جسم کا، سوچ کا، اِرادوں کا، رُوح کا، گماں کا، اِمکان کا؟

مرد پیسے لاتا ہے مگر بچے پیسے نہیں کھاتے۔
مرد پیسے لاتا ہے مگر بچے پیسوں پہ نہیں سوتے۔
مرد پیسے لاتا ہے مگر پیسوں سے راحت نہیں ملتی۔ نہ خوشی ملتی ہے۔ نہ اطمینان۔
اِن پیسوں کو کھانا عورت بناتی ہے۔ اِن پیسوں کو گھر، خوشی، اطمینان، سکون اور بستر عورت بناتی ہے۔

آپ کا نام نہاد’’مرد‘‘ تو روز آفس سے گالیاں، غیبت، بہتان، جھوٹ، ظلم اور حسد کھا کے آتا ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو اُسے تسکین دیتی ہے۔ کھانا کھلاتی ہے۔ دوبارہ سے جوڑتی ہے اور صبح ’مرد‘ بنا کے بھیجتی ہے، جس اِسلام نے عورت کے اِستحصال کے درجنوں طریقے ختم کر کے اُسے نکاح کی حفاظت میں دیا۔ ہم مسلمان ایسے گئے گزرے کہ اسے جانور کے حقوق بھی نہ دیں۔ تف ہے ایسی مردانگی پر۔

یہ عورتیں زندگی میں اعراب کی مانند ہوتی ہیں۔ کوئی کومہ، تو کوئی سیمی کولون، خوش نصیب ہوتے ہیں وہ جن کے پاس کوئی فل اسٹاپ ہو کہ اِس کے آ جانے سے زندگی رُک جائے، تھوڑی دیر کو ہی سہی۔

سلام ہے اِس ادھورے لوگوں کے ملک کی مکمل عورتوں پر۔

جیتی رہیں اور خوش رہیں۔

18/03/2022

#آسانیاں

اشفاق احمد کہتے ہیں جس پہ کرم ہے، اُس سے کبھی پنگا نہ لینا۔ وہ تو کرم پہ چل رہا ہے۔ تم چلتی مشین میں ہاتھ دو گے، اُڑ جاؤ گے۔
کرم کا فارمولا تو کوئی نہیں ۔اُس کرم کی وجہ ڈھونڈو۔
جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، جب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا جس پر ربّ کا کرم تھا، اُسے عاجز پایا۔
پوری عقل کے باوجود بس سیدھا سا بندہ۔
بہت تیزی نہیں دکھائے گا۔
اُلجھائے گا نہیں۔
رستہ دے دے گا۔
بہت زیادہ غصّہ نہیں کرے گا۔
سادہ بات کرے گا۔
میں نے ہر کرم ہوئے شخص کو مخلص دیکھا ـــ اخلاص والا۔۔۔ غلطی کو مان جاتا ہے۔ معذرت کر لیتا ہے۔ سرنڈر کردیتا ہے۔
جس پر کرم ہوا ہے ناں، میں نے اُسے دوسروں کے لئے فائدہ مند دیکھا۔*
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کی ذات سے نفع ہو رہا ہو، اور اللہ آپ کے لئے کشادگی کو روک دے؛ وہ اور کرم کرے گا۔
میں نے ہر صاحبِ کرم کو احسان کرتے دیکھا ہے۔
حق سے زیادہ دیتا ہے۔
اُس کا درجن 13 کا ہوتا ہے، 12 کا نہیں۔
اللہ کے کرم کے پہیے کو چلانے کے لئے آپ بھی درجن 13 کا کرو اپنی زندگی میں۔
اپنی کمٹمنٹ سے تھوڑا زیادہ احسان کیا کرو۔
نئیں تو کیا ہو گا؟ حساب پہ چلو گے تو حساب ہی چلے گا
دل کے کنجوس کے لئے کائنات بھی کنجوس ہے۔
دل کے سخی کے لئے کائنات خزانہ ہے۔
جب زندگی کے معاملات اَڑ جائیں؛ سمجھ جاؤ تم نے دوسروں کے معاملات اَڑاۓ ہوۓ ہیں۔
آسانیاں دو؛ آسانیاں ملیں گی

18/03/2022

لکھاری
"ذیشان الحسن عثمانی "
لکھنے والے اور پڑھنے والے یوں تو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ٹھرے ، مگر ان دونوں کی کیفیات اور کرب میں صدیوں کا فاصلہ ہے . لکھاری بہت مظلوم ہوتا ہے ، وہ تمام چیزیں ، واقعات ، کیفیات ، جزئیات ، کارگزاری ، دن اور راتیں جو سب کے لئے معمولی ہوتی ہیں وہ لکھنے والے کو مستقل عذاب میں رکھتی ہیں ، وہ جب تک ان کرداروں کو صفحات پر منتقل نہ کردے اسے چین ہی نہیں آتا

اور کتنا فرق ہوتا ہے نہ لکھنے والوں اور وہ جو لکھے گئے ، وہ جو لکھے جانے کے قابل تھے ، وہ جو لکھے جانے کے شوقین تھے اور پیسہ دے کر اپنی برہنہ شخصیت کو روشنائی کی پوشاک پہنانا چاہتے تھے یہ جانے بنا کہ روشنائی تو ہر چیز کو مزید روشن کر دیتی ہے اس کالے بورڈ کی سیاہی کی طرح جو سفید چاک سے اور نمایاں ہو جاتی ہے ، اور وہ جو لکھنے کی پاداش میں جلا وطن ہوئے ، قتل کروادئیے گئے ، مٹا دیئے گئے ، اور وہ جنہیں لکھے ہوئے کو مٹانے کا زعم تھا ، اور وہ جو لکھے ہوئے کو ماننے کو تیار نہ تھے ، اور کچھ ایسے بھی خوش نصیب کہ ہمّت کے کانے اور شکر کی دوات سے قسمت کے کنوس پر جو چاہے لکھ دیں اور کائنات ان کے لکھے کی اپنے لکھے سے ہم آہنگی پر مسکراتی رہے

لکھاری کا لوح و قلم سے بڑا تعلق ہوتا ہے ، وہ لکھے میں سے لکھتا ہے اور بیوقوف لوگ اسے ادیب جان کر قابل ستائش سمجھتے ہیں اور وہ جو سب سے بڑا لکھاری ہے اسے بھول جاتے ہیں . آخر لکھے میں سے لکھنا کون سی بڑی بات ہے ؟
لکھاری معاشرے کی غلاظتوں کو بیان کر کے سارا گناہ اپنے سر لے لیتا ہے . وہ تو جسم لکھتا ہے . آنکھیں تو قارئین کی ہوتی ہیں ، جو چاہیں رنگ دے دیں ، چاہیں تو جسم کو حسن کی حدّت میں جلاکر راکھ کر دیں اور چاہیں تو جسم کو دیوتا بنا کر عقیدت میں غرق ہوجائیں

لکھنے کا فن سیکھا بھی جاتا ہے اور ودیعت بھی ہوتا ہے ، جو لکھ کے پڑھتے ہیں وہ اچھا لکھتے ہیں ، جو پڑھ کے لکھتے ہیں وہ کمال کرتے ہیں ، آنکھ کھلی ہو تو قدرت کی ہر شے میں لکھا نظر آتا ہے ، وہ بھی جو صاف ظاہر ہے اور وہ بھی جو پوسشیدہ . بادشاہوں کی تقدیر ماتھے پر سجائے لوگ قسمت کا رونا روتے ہوئے کتنے عجیب لگتے ہیں نا ؟

کچھ لوگ کہانیاں لکھتے ہیں اور کچھ کو کہانیاں لکھتی ہیں . محبّت کی تشریح ممکن ہی نہیں، یہ تو محبّت ہے جو بندے کوڈیفائن کرتی ہے . نجانے لوگ کیسے دعوی کرتے ہیں کہ انہیں کسی سے الله کے لئے محبّت ہے ، مجھے تو آج تک الله سے الله کے لئے محبّت نہ ہو سکی

دعاؤں کی طرح لکھے گئے کی بھی کوئی ایکسپائری میعاد نہیں ہوتی، جس طرح آپکی دعا کہ الله اسے چلنا سکھا ، بولنا سکھا تا عمرقابل استعمال رہتی ہے اسی طرح لکھا ہوا بھی صدیوں تک اپنے وجود کی گواہی دیتا رہتا ہے

اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ لکھنے والے لکھے ہوئے سے ڈر جاتے ہیں ، علم سے ڈر جاتے ہیں ، ہوش کھو بیٹھتے ہیں اور پھر یہاں سے آگہی کا سفر شروع ہوتا ہے

17/03/2022

ھرل قوم کی تاریخ ۔۔۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adeel official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share