لینز Lens

  • Home
  • لینز Lens

لینز Lens The most trusted digital media outlet in Gilgit-Baltistan
(7)

22/04/2026
21/04/2026

گلگت بلتستان کے نمائندوں کو عوامی خدمت کا ادراک ہونا چاہیے، نواز شریف

گلگت:

صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے امیدواروں اور منتخب نمائندوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ وہ عوام کی خدمت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، نہ کہ ذاتی آسائشیں حاصل کرنے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو پیچھے نہیں رہنا چاہیے بلکہ آگے بڑھ کر ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے وہاں ایک مختلف طرز کی حکومت قائم ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو واقعی سکھ کا سانس میسر ہے اور کیا انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم، صحت، مفت ادویات اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں کیے جانے والے دعوؤں کی حقیقت سب پر عیاں ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ یہ بات تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے، اور ایسے میں سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔

13/04/2026

چلاس کے علاقے تھور میں دہشت گردی کے حملے میں جہاں پولیس جوان شہید ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے، وہیں مشکل گھڑی میں مقامی افراد نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اسی دوران ایک نوجوان زین علی خان سمدرو نے ڈی ایس پی کی گاڑی خود ڈرائیو کر کے محفوظ مقام تک پہنچائی اور پورے واقعے کے دوران مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر مثبت اور قابلِ تحسین کردار ادا کیا۔

بشکریہ روشن دین دیامری

18/11/2025

‎𝐂𝐚𝐦𝐩𝐮𝐬 𝐀𝐟𝐟𝐚𝐢𝐫 𝐓𝐮𝐫𝐧𝐬 𝐒𝐞𝐜𝐭𝐚𝐫𝐢𝐚𝐧

‎A campus or university is an educational institution.where students study advanced courses and research. University provides specialized knowledge, professional skills and opportunities for personal development.

‎KIU is not a proper institution.It is a centre of unethical and ill-mannered individuals. I consider it one of the meritless institutions of Gilgit Baltistan.

‎Besides, it is the hub of religious agitators. Those people causing trouble, false information and fright across the campus

‎On 18 November, an incident occurred in KIU.Two students from biological or applied sciences fought with each other over a girl Mobile number sent out.

‎After this, religious gangs became active against each other.As the dispute escalated, religious organizations and CSO's entered the university to resolve the conflict

‎Around 3:00 PM, one party is inside the university and the other party outside the university was involved in the conflict state. This state continued till after evening.Now, the conflict became sectarian because one guy Sunni and second guy is shia.

‎After all these scenarios, the government authorities involved in the matter and resolve via the assistance of Rangers and police forces.

‎I have few questions from people,students,university officials, and religious clerics.

‎_ why do student affairs turn sectarian?
‎_why do opportunities turn sectarian?
‎_Why is there nepotism in student opportunities?
‎_ why are laws and rules less effective?
‎_why do student societies promote sectarianism?

‎I quote here a famous trending social media saying nowadays.

‎" If a Shia girl gets into a relationship with the Sunni boy, Shia boys start fighting.If a Sunni girl gets into a relationship with the Shia boy, Sunni boys start fighting "

‎In conclusion, I want to write to the students of KIU. why are you involved in religious debates-why are you debating about alleged blasphemers ?
‎Hey Folks, be real muslim "there is no need for any Sunni,Shia,ahle hadees and Noor Bakshi to our society. Our society needs good Muslims that spread Peace among the ummah.


‎Penned by : Makik Hussain

18/11/2025

اسلام آباد
وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں تعینات بی ایس,20 کے افسر عزیز احمد جمالی کا تبادلہ کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عزیز احمد جمالی کی خدمات واٹر ریسورسز ڈویژن کے سپرد کر دی گئی ہیں جہاں وہ ڈیپوٹیشن پر سیکریٹری واپڈا کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ لینز کے مطابق ان کا تبادلہ فوری طور پر عمل میں لایا گیا ہے اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گا۔

18/11/2025

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں آج جھگڑے میں ملوث دونوں طلبا میں صلح کرا دی گئی۔

18/11/2025

پریس ریلیز

گلگت(پ۔ر) ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی محترمہ سعدیہ دانش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ
گلگت بلتستان اسمبلی سے "گلگت بلتستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن" کا بل حال ہی میں منظوری کے مراحل کامیابی سے طے کر چکا ہے جو خواتین کے حقوق، بااختیاری اور تحفظ کے حوالے سے ایک نہایت اہم سنگِ میل ہے۔ یہ کمیشن نہ صرف ادارہ جاتی سطح پر خواتین کے مسائل کو حل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا بلکہ پالیسی سازی، قانون سازی اور نگرانی کے حوالوں سے بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوگا۔
جب کہ بل منظور ہو چکا ہے حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ چیئرپرسن کی تقرری کے عمل کو ہر سطح پر کھلا، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنائے۔ ہم حکومتِ گلگت بلتستان، اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس عہدے کا اشتہار جاری کیا جائے، میرٹ کو یقینی بنایا جائے، اور اس اہم ادارے میں بہترین اور اہل قیادت کو موقع فراہم کیا جائے
"کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن جیسا اہم ادارہ خواتین کی آواز کو مؤثر فورمز تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کمیشن کی چیئرپرسن کی تقرری کے حوالے سے حکومت سے مطالبہ ہے کہ پورے انتخابی و انتظامی عمل کو مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور قواعد و ضوابط کے مطابق یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ:
چیئرپرسن کی پوزیشن پر کسی کی بھی براہِ راست تقرری میرٹ پر پورا اترنے والی تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور باصلاحیت خواتین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا۔ اس لیے منصب کی تقرری کے لیے اشتہار کے ذریعے اوپن پراسس اختیار کرتے ہوئے مکمل شفافیت اور میرٹ کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈپٹی اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے لیے قائم کیا جانے والا یہ ادارہ اپنی بنیاد سے ہی شفافیت، غیرجانبداری اور میرٹ کی مثال بنے، تاکہ آنے والے وقت میں یہ ادارہ حقیقی معنوں میں خواتین کی فلاح، ترقی اور خودمختاری کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔
آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت گلگت بلتستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کے انتخاب کے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بہترین اور قابل اُمیدوار کا تقرر کرے گی۔

18/11/2025

میر حمید اللہ حمایت
نمبردارِ اعلیٰ جگلوٹ سئ
خسرہ اور روبیلا وہ خطرناک امراض ہیں جو ہمارے بچوں کی صحت، نشوونما اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ بیماریاں بخار، خارش، نمونیہ، دماغی سوزش اور بعض صورتوں میں جان لیوا پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتی ہیں۔
اللہ کے فضل و کرم سے ان امراض سے بچاؤ کا واحد مؤثر، محفوظ اور آزمودہ طریقہ MR ویکسینیشن ہے۔
میں علاقے کے تمام والدین، سرپرستوں اور ذمہ دار شہریوں سے انتہائی مؤدبانہ اپیل کرتا ہوں کہ:
اپنے بچوں کی خسرہ و روبیلا (MR) ویکسینیشن ہر صورت مکمل کروائیں۔
یہ ویکسین 6 ماہ سے 5 سال کی عمر تک کے تمام بچوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔
یہ ویکسین مکمل طور پر محفوظ، مفت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق فراہم کی جا رہی ہے۔
ویکسینیشن آج—آپ کے بچوں کا محفوظ مستقبل.
اور خصوصاً:
ویکسین لگانے والی محکمۂ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ ان کا احترام کریں، ان کی رہنمائی پر عمل کریں، اور ان کا کام آسان بنائیں۔
والدین کی ذرا سی غفلت پورے خاندان، گاؤں اور معاشرے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
آئیں، ہم سب مل کر اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا مستقبل بنائیں جہاں بیماری نہیں، صرف صحت، خوشی اور روشن امیدیں ہوں۔
صحت مند بچہ… محفوظ اور روشن مستقبل۔۔۔۔

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when لینز Lens posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to لینز Lens:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share