پچھلے تین سالوں سے ہمارے کھیت بنجر، باغ تباہ پڑے ہیں۔ پچھلے تین سالوں سے ہماری مائیں، بہنیں دور دراز کے چشموں سے پینے کا پانی سروں پر لانے پر مجبور ہیں۔ اس نہر کو لے کر پچھلے تین سالوں سے ہم لوگ ذلیل ہو رہے ہیں۔ دو بار کلکوٹ، تھل کے درمیاں مسلح تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ پچھلے تین سالوں سے جرگے کر کر کے ہم لوگ تھک گئے۔ ہر بار جرگہ ممبران اور مقامی انتظامیہ نے ہم سے وعدہ کیا کہ آپ کا مسلہ جلد حل کیا جائے گا لیکن آج تک کچھ نہیں ہوا۔ پچھلے تین سالوں سے ہم نے ہر طرح کی کوششیں کی لیکن ہمیں پانی نہیں ملا لیکن اب اور برداشت نہیں ہوتا، یہ مارچ ہے اور اپریل میں ہمارے ہاں موسم بہار کا آغاز ہوجائے گا۔ ہمیں کھیتی کے لئے پانی چاہیئے اب اور کھیت بنجر چھوڑنا ممکن نہیں ہے۔ جو کچھ جمع پونجی تھی وہ پچھلے تین سالوں میں خرچ کر دی۔ گھر چلانے کے لیے کھیتی ضروری ہے اور کھیتوں کے لئے پانی۔ ہمیں پانی چاہئے بصورت دیگر ہم اے سی آفس سے نہیں جانے والے۔ وعدے وعید پچھلے تین سالوں سے کئے جا رہے ہیں لیکن آج تک ہمارا مسلہ حل نہیں ہوا۔ ہم پچھلے 48 گھنٹوں سے سراپا احتجاج ہیں،3 ٹھنڈی راتیں کھلے آسمان تلے گزاری ہم تب تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک عملی کام شروع نہیں ہوتا۔ ہمیں ہمارا پانی ہر حال میں چاہیئے اس کے لئے ہمیں جہاں تک جانا پڑا ہم جائیں گے
انتظامیہ کو اب ایکشن لینا پڑے گا ۔اب کلکوٹی قوم کی صبر کا پیمانہ ختم ہو گیا ہے۔ اس دفع کچھ اور ہوگا جس کا زمہ وار انتظامیہ دیر بالا اور حکومت وقت ہوگا