09/19/2025
*امام سے مدد مانگنا یا استمداد*
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سوال :ہم اسماعیلی امام سے مدد مانگتے ہیں یا ہم لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یا علی مدد کہتے ہیں. یا امام سے مشکلات کا حل طلب کرتے ہیں جسے شیعہ اسلام میں استمداد کہتے ہیں جبکہ اسلام کے دیگر مسالک میں مدد صرف اللہ سے مانگتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن میں ایسا کوئی ارشاد ہے جس سے یہ ظاہر ہو یا واضح ہوجا ئے کہ یا علی مدد کہنا جائز قرار پائے؟
جواب : جی ہاں اگر قرآن کو حکمت کی نظر سے دیکھیں یا پڑھینگے تو معلوم ہو جائے گا،کہ ہم اسماعیلی از روئے قرآن امام سے مانگتے ہیں،اور مدد طلب کرتے ہیں.
اس بارے میں قرآن میں بہت سے حکیمانہ آیات ہیں لیکن ہم مختصراً دو آیات کو لیتے ہیں اور اپنے بزرگان دین کی تسریحات کے مطابق دیکھتے ہیں، جیسا کہ سورہ ابرھیم کی آیت نمبر ۳۴ میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَ اٰتٰىكُمْ مّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُؕ-وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ.
اور جو کچھ تم نے خدا سے مانگا سب تم کو دیا اور اگر تم خدا کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو گن نہیں سکتے ہو اس میں تو شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔
اس فرمان الٰہی سے ظاہر ہے،کہ حقیقی مومنیں نے جسمانیت میں یا روحانیت میں بزبانِ قال یا بزبانِ حال پروردگار سے جو کچھ طلب کیا وہ سب اُس نے انہیں دے رکھا ہے،اب ہم نے قرآن سے دیکھنا ہے،کہ۔خدا نے سب کچھ کس صورت میں مومنین کو دے رکھا ہے؟ اس کا جواب سورہ یٰسٓ کی آیت نمبر ۱۲ میں موجود ہے,خدا فرماتا ہے
وَ كُلََّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۔
اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین (کی نورانیت) مین گھیر لیا یے، تو معلوم ہوا کہ خدا نے تمام چیزیں امام کی صورت میں ہم کو دی ہے، اور امام ہی خدا کی کلّ چیزوں کا خزانہ ہے. اب اس قانوں قدرت کے تحت کیا ہم اپنی مرضی سے امام سے مانگتے ہیں؟ نہیں قرآن کے حکم کے مطابق مانگتےہیں، اگر خدا کی تمام چیزین امام کی صورت میں ہم کو دی گئی ہیں،تو پھر ہمارے مطلُوب بھی امام ہی سے پورے ہونگے،امام سے ہی طلب کرنا ہوگا،کیونکہ خدا خود فرماتا ہے، کہ میں نے تمام چیزین روحانی طور پر امام مبین میں رکھا ہے، تو اس صورت میں ہمارے تمام روحانی مسائل امام سے ہی حل ہو جائیں گے ۔
ازکتاب یا علی مدد