Ismaili Qasidas And Ginans

Ismaili Qasidas And Ginans We upload Qasidas and Ginans with music.

12/22/2025

جو فرقہ اللہ کو ایک مانے اور رسول ص کو اللہ کے آخری نبی مانے وہ مسلمان ہے۔اب کوئی شخص کسی کلمہ گو مسلمان کو کافر کہتا ہے تو خود ذندیق ہے۔

اسماعیلی  دائرہ اسلام سے خارج یعنی کا فر ہیں۔دارالفتاء  جامعہ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کی فتویٰ لگانے کی ویب سائٹ...
12/20/2025

اسماعیلی دائرہ اسلام سے خارج یعنی کا فر ہیں۔
دارالفتاء جامعہ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کی فتویٰ لگانے کی ویب سائٹ ہیں۔اس ویب سائٹ پہ اس دارالعلوم کے مولویوں نے اسماعیلی اسلام کو جو کہ اسلام کی حقیقی شاخ ہے کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔اب جن لوگوں کو تکلیف ہوتی ہیں نا ان کو چاہیے کہ ہم پہ تنقید کرنے سے پہلے اپنے ان مولویوں کو لگام دو ورنہ ہم ان مولویوں کے وہ پول کھول دینگے جو دیکھنے لائق نہیں ہے۔ہمارے اہل سنت کے اہل علم جوانو کب تک تم لوگ ایسے جاہل اور گوار مولویوں کو سنتے رہو گے؟ان میٹرک فیل مولویوں کو آپ لوگ ڈاکٹرز انجینیئر ز بن کے بھی ان کے ہاں میں ہاں ملاتے ہو۔

اسماعیلیوں کے بارے میں انکا کیا فتوی ہے دیکھئیے۔

حکم

سوال

اسماعیلی فرقہ کے عقائد کے بارے میں معلومات در کار ہیں،نیز ان کے کافر ہونے کے بارے میں فتوی درکار ہے۔

جواب

’’ اسماعیلہ‘‘ فرقہ شیعہ کی ایک شاخ ہے ،اسماعیلیہ کے عقائد شیعہ ہی کی طرح بلکہ ان سے بھی آگے ہیں ،یہ فرقہ اسلام سے متصادم عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سےخارج اور کافر ہیں ۔چنانچہ ان کے بنیادی عقائد مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔عقیدہ امامت:

اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام ’’مبعوث من اللہ ‘‘(اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے ہوئے ) ہوتے ہیں ،ایسے ہی ’’ ائمہ معصومین ‘‘ بھی ،یہ عقیدہ تو عام شیعہ فرقہ کا ہے ،آغاخانی اسماعیلی اپنے ’’امام حاضر ‘‘ کو صر ف معصوم ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں ہیں ان کا امام حاضر ہے ،خدا کا مظہر ہے ،خدا تعالی اپنی تما م الہی طاقتوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے امام حاضر میں حلول کرتا ہے ،اس لیے ان کے نزدیک امام حاضر ہی خدا ہے وہی مستحق دعا و عبادت ہے ۔

۲۔بغض صحابہ :

دوسرا بڑا عقیدہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغص و عداوت ہے ، ان کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین ماسوائے حضرات مقداد ،ابوذرغفاری اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور ان تین حضرات نے بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طوعا و کرہا ایک مرتد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی ۔(العیاذ باللہ )

۳۔تحریف قرآن :

ان کے نزدیک موجودہ قرآن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا تحریف کردہ ہے ۔(العیاذ باللہ ) اور اصلی قرآن ائمہ کے پاس منتقل ہوتارہا ہے اور اب امام مہدی کے پاس ہے ،اس کے چالیس پارے ہیں وہ ایک غار ’’ سر من راہ ‘‘ میں اس قرآن کو لیے بیٹھے ہیں ،اپنے ظہور کے بعد اس کو لائیں گے اور نافذ کریں گے۔(مسستفاد از فتاوی بینات،ص:۱۸۸،۱۸۹ )

مزید تفصیل کے لیے ،ڈاکٹر زاہد علی کی تالیف ’’ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام ‘‘ کا مطالعہ کرلیں ۔

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144311101327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

12/20/2025

آغا خانیوں کے ساتھ تعلقات رکھنا حرام ہے۔ان کے ساتھ لین دین رکھنا بھی حرام ہے کہنے والے بھی آجکل گردے اور دل کے مرض کی علاج کے لئے آغاخان اسپتال سے اپنا علاج کراتے ہیں🤣

ائمہ آل محمد صلعم پر نص و توقیف کا بیاناگر ہم آل محمد میں سے جو امام ہوئے ہیں ان پر نص صریح کے بارے میں تمام دلائل و برا...
12/18/2025

ائمہ آل محمد صلعم پر نص و توقیف کا بیان
اگر ہم آل محمد میں سے جو امام ہوئے ہیں ان پر نص صریح کے بارے میں تمام دلائل و براہیں قلمبند کریں اور نص کے مخالفین پر حجت قائم کریں تو یہ موضوع بحث ہماری اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہو جائے گا اس موضوع پر تو ایک علیحدہ کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔
فاطمی خلیفہ حضرت امام منصور باللہ ع نے مسئلہ امامت پر ایک جامع اور مفصل کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے امامت کے اغراض و مقاصد معانی و مطالب حجت براہیں پر کافی روشنی ڈالی ہے۔ چونکہ ہم نے اپنی اس کتاب کے آغاز میں یہ شر ط لگا رکھی ھم تمام۔ضروری اور اھم مسائل پر اختصار کے ساتھ گفتگو کریں گے اس لئے مسئلہ امامت پر بھی ہمارا خامہ فرسائی کرنا لابدی اور ضروری ہو گیا ہے ۔
مسئله امامت
امامت کے متعلق لوگوں کی مختلف رائیں ہیں عوام کا خیال ہے کہ انھیں از خود اپنا امام منتخب کر لینے کا اختیار حاصل ہے ۔ وہ اپنے اس عقیدے کے ثبوت میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ رسول خدا صلعم کے وصال کے بعد صحابہ کرام نے شخص کو اپنا پیشوا منتخب کر لیا تھا لیکن یہ لوگ ایسے شخص کو جس کو وہ اپنا ایک پیشوا بنا ئیں کن کن صفات کا حامل ہونا چاہئیے اور یہ کہ صرف اس کو تنہا کیس وجہ سے امامت کا مستحق قرار دیا جائے اس بارے میں شدید اختلاف رکھتے ہیں۔

عوام اس بات کا صاف انکار کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک کسی ایسے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا ہے جو آپ کے بعد منصب امامت کے فرائض انجام دے سکے ۔ عوام کے ایک طبقے کا یہ بھی خیال ہے کہ رسول اکرم صعلم نے ایسے شخص کی طرف ایسے شخص کی طرف صرف اشارہ فرمایا تھا ۔ اس کا نام نہیں بتایا تھا وہ کہتے ہیں کہ جس کی طرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے اشارہ فرمایا تھا وہ حضرت ابو بکر ہیں۔
آنحضرت صلعم نے ان کو نماز پڑھانے کے لئے آگے کر دیا تھا چونکہ نماز کا تعلق زکوۃ سے بہت ہی گہرا ہے لہذا یہ واجب ہو گیا کہ زکوۃ بھی اسی شخص کو دی جائے جس کو نماز پڑھانے کے لئے مقدم کیا گیا ہے۔ یہ عام مسلمانوں کا خیال ہے وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ والی (یعنی امام ) خواہ حبشی ہی کیوں نہ ہو اس کی ہر حال میں اطاعت واجب ہے اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہے خواہ گناہوں کا ارتکاب ہی کیوں نہ کرتا ہو !

فرقہ مرحبہ کا عقیدہ ہے کہ لوگوں پر یہ واجب ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا امام بنائیں جو صاحب علم و فضل ہو وہ ایسے شخص کی تلاش میں اپنی رائے اور عقل و دانش سے کام لیں اور جس کو اپنا امام بنالیں اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان خدا کی کتاب قرآن اور رسول خدا اسلم کی سنت کے مطابق احکام جاری کرے اور جس مسئلے کا حل خدا کی کتاب اور رسول مقبول صلعم کی سنت میں نہ ملے تو پھر اس میں اپنی رائے سے کام لے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس امام کی اطاعت اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ خدا کی اطاعت پر خود لازم رہے اور جب خدا کی نافرمانی اور عصیان پر اتر آئے تو لوگوں پر اس کی اطاعت واجب نہیں ہے۔ ان کو چا ہے کہ وہ ایسے شخص کو مسند امامت سے اُتار دیں اور اس کی جگہ کوئی دوسرا امام منتخب کرلیں۔
فرقہ معتزلہ یہ کہتا ہے کہ رسول صعلم نے نہ توکسی شخص کی طرف اشارہ فرمایا ہے کسی شخص کو بطور امام نامزد کیا ہے البتہ آپ نے لوگوں کو اس بات کا اختیار دیا ہے اپ ع بعد کسی شخص کو اپنا امام بنالیں چنانچہ عوام نےحضرت ابوبکر کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اپنا امام منتخب کر لیا۔
خوارج کہتے ہیں کہ ہمیں نہ اس کا علم ہے نہ ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آیا رسول اکرم صعلم نے منصب امامت کے متعلق کوئی حکم صادر فرمایا ہے کہ نہیں! اور کسی شخص کی طرف اشارہ بھی کیا ہے یا نہیں! البتہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ ایک امام ضرور ہونا چاہئے جو بندگان خدا کے درمیان احکام الہی کو جاری کرے لہذا اس ضرورت کے پیش نظر ھمیں۔خود اپنا امام منتخب کر لینا چاہئے۔
سید نا قاضی العنان فرماتے ہیں کہ ہم خدا کی توفیق و ہدایت سے یہ بات ان لوگوں۔سے کہتے ہیں جن کا یہ گمان ہے کہ رسول خدا صلعم نے اپنے بعد کسی شخص کو اپنی امت کا امام مقرر نہیں فرمایا ہے ( یہ عقیدہ مرحبہ معتزل اور خوارج کا ہے)
تمہارے اس صریح انکار کو قبول کر لینا ہمارے اور خود تمہارے نزدیک کسی حالت میں جائز نہیں ہے۔ کیونکہ عام مسلمانوں کا اس بات پر پورا اتفاق ہے کہ ایسا شخص جو خود کسی واقعہ کے وجود کا منکر ہو وہ کسی صورت میں گواہ بننے کے لائق نہیں ہے گواہ تو وہی شخص ہو سکتا ہے جو واقعہ کا اثبات کرتا ہے اور یہ کہتا ہو کہ اس نے اس کا بذات خود مشاہدہ کیا ہے ٹھیک اسی طرح تم لوگ اس کا کلیتہ انکار کرتے ہوک رسول آکرم صلی اللہ علیہ والہ وصعلم نےاپنے بعد کسی شخص کو اپنی امت کا خلیفہ یا امام ہی بنایا ہے تو گویا یہ کہہ کر وجود امام کا انکار کر دیا اورتم نے اس چیز کی نفی کی جس کوتم نا پسند کرتے ہو اب رہا وہ شخص جو امامت کے وجود کا قائل ہے تو وہ زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ اس کی شہادت قبول کی جائے اور زیادہ واجب ۔ ہے کہ وہی شخص تم میں سے گواہ ہو کیونکہ تم اور تمام امت کا ایسے دو شخصوں کے متعلق پورا اتفاق ہے کہ ان میں سے اگر ایک یہ کہے کہ میں نے فلان شخص کو ایسا کہتے ہوئے ہوئے سنا ہے یا ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا اس کے برعکس یہ کہے کہ میں نے فلاں شخص کو نہ تو ایسا کہتے ہوئے سنا ہے اور نہ ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے تو ان دونوں میں سے جس نے سنا یا دیکھا ہے اسی شخص کی شہادت قبول کی جائے گی اور جس نے نہ تو سنا ہے نہ دیکھا ہے وہ کسی صورت میں گواہ بننے کے قابل نہیں ہے اور اس کا صرف، انکار کر دینا اتنا کافی نہیں ہے کہ اس شخص کی بات کو ٹال دیا جائے جو کہتا ہے کہ میں نے خود سنا اور دیکھا ہے ۔
ا ہم بیان کر چکے ہیں کہ رسول اکرم صعلم نے مقام غدیر خم میں امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کا بر سر ملار عام طور سے اعلان کر دیا تھا۔ اس تم . واقعہ کو بھی بیان کرتے ہو یہ سب سے زیادہ تاکیدی بعیت تھی اور ہم نے امامت کے ثبوت میں جتنے بھی د دلائل پیش کئے ہیں ان میں ، سب سے زیادہ مضبوط اور محکم ثبوت یہی بیعت غدیر خم ہے۔ یہاں ہم نے طویل ب بحثوں میں نہ الجھتے ہوئے اختصار سے کام لیا ہے اور محض وضاحت پر اکتفا کیا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ تمہارے زعم کے مطابق امام و خلیفہ کا انتخاب لوگوں کے اختیار میں ھے تورسول اکرم صعلم عام مسلمانوں کو جمع کر کے ان کو یہ حکم سنادیتے کہ تم لوگ میرے بعد جس کو چاہو اپنا امام و خلیفہ بنالو۔ حالانکہ یہ ناممکن سی بات ہے کہ لوگ ایک شخص کے انتخاب پر کلیتہ راضی ہوں کیو نکہ ان میں سے ہر ایک اپنی الگ رائے رکھتا ہے اور پھر اکثر لوگوں میں بغض و حسد بھی تو ہوتا ہے۔ اگر امام کا انتخاب مان لیا جائے کہ لوگوں کے ایک شخص پر اتفاق ہی کر لینے سے ہونا چاہے تو یاد رکھے کہ لوگ کبھی بھی ایک شخص کو اپنا امام و خلیفہ بنانے پر متفق نہیں ہو سکتے اس کا ثبوت یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں جو صحابہ کرام موجود تھے وہ حضرت ابو بکر کی بیعت پر متفق نہیں ہوئے تھے۔ انصار نے یہ کہکر کہ (امیر ہم میں سے ہونا چاہیے حضرت ابوبکر کی بیعت سے انکار کر دیا تھا انکے علاوہ رسول خدا صعلم اکا بر اصحاب کرام نے حضرت ابو بکر کی بیعت نہیں کی تھی۔
اور جو مسلمان دوسرے شہروں میں آباد تھے ان کی تو بات ہی جانے دو اس کے جواب میں تم اگر یہ دلیل پیش کرو کہ اظہار رائے اور امر خلافت کا استحقاق ایک قوم کو حاصل ہے۔ دوسرے شہر اور قبیلہ والوں کو نہیں تو اس کے ثبوت میں تم خدا کی کتاب اور رسول اللہ صلعم کی سنت سے بطور دلیل و حجت کوئی مثال پیش کرو ؟ لیکن ہمیں جہاں تک معلوم ہے تم ہرگز کوئی ایسی دلیل پیش معلوم نہیں کر سکتے ! اور اگر تمہارے کہنے کے مطابق یہ تسلیم کر لیا جائے کہ امام وخلیفہ قوم ہی منتخب کرے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے امام کو لوگوں کا تابع فرمان ہونا چاہئے ۔ وہ اس وقت تک کسی چیز کا مالک و مختار نہ ہو گا جب تک کہ لوگ اس کو مالک و مختار نہ بنائیں اس نظریہ کے مطابق تو گویا امام کو منتخب کر نیوالے خود امام ہیں اور انھوں نے جس کو اپنا امام بنایا ہے وہ ان کے عاملوں کارکنوں میں سے ایک عامل (یعنی کارکن ، ہے کار پرواز ہے وہ جب چاہیں اپنے خود ساختہ امامم کو معزول کر سکتے ہیں جیسا کہ مرحبہ فرقہ اس بات کا قائل ہے کہ اگر امام گناہوں کا ارتکاب کرے تو اس کو معزول کر دینا چاہئے اس عقیدے کا فساد اتنا واضح ہے کہ اس پر مزید روشنی ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ فادة
عامتہ المسلمین کا یہ کہنا کہ وہ ایسا کام کرتے ہیں جس کا حکم نہ رسول خدا صعلم نے دیا ہے اور نہ خود آپ نے اس کام کو کیا ہے گویا وہ "بدعت" کرنے کا اقرار کرتے ہیں عوام اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ امامت دین خدا کا ایک حصہ ہے اور خداوند تعالٰی نے اپنی کتاب میں یہ واضح کر دیا ہے کہ اس نے اپنے دین کو مکمل کر دیا ہے اور ہم اس سے پہلے یہ بتا چکے ہیں کہ خدا کا دین اس وقت مکمل ہوا تھا جبکہ رسول خدا صلعم نے (خدیر خم میں امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کر دیا تھا لیکن ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ عام مسلمان اس بات کا کس طرح اقرار کرتے ھیں کہ خدا نے اپنے دین کو کامل کردیا ہے جبکہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے امر امامت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے حالانکہ خود ان کے اقرار کے مطابق امامت دین الہی کا ایک حصہ ہے۔ کیا ایسا ہے کہ خدائے تو یہ فرما دیا کہ اس نے اپنے دین کو کامل بنادیا ہے لیکن اس نے خود اپنے دین کو کامل نہیں کیا بلکہ لوگوں نے اس کے دین کو کامل بنایا ہے یا پھر خداوند تعالیٰ نے جس جس امر کی وضاحت فرض کی تھی اس کی ادائیگی سے رسول اکرم صعلم عاجز و قاصر رہے اور لوگوں نے اس کی وضاحت کی ؟ عوام کا یہ نہایت بد ترین عقیدہ ہے اور خدا و رسول کے خلاف ایک بہت بڑی جسارت ہے۔
ھم ان لوگوں سے کہتے ہیں جن کا یہ گمان ہے کہ رسول اکرم صعلم نے حضرت ابوبکر کی طرف اشارہ فرمایا تھا اس لیے انہوں عام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر کو اپنا خلیفہ اور امام بنالیا حلانکہ تم عام مسلمان اس بات کا بھی اقرار کرتے ہو کہ امامت دین خدا کا ایک جزو ہے تو پھر ہم تم سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ کیا خدا کے دین میں ذرہ برابر۔بھی کسی قسم کی تبدیلی کرنا جائز ہے ؟ یقینا تم یہی جواب دو گے کہ نہیں تو پھر ان سے کہا جائے گا کہ اگر ایسا ہی ہے کہ فرض امامت پر عمل اس طرح ہو کہ امام اشارے سے قائم کیا جائے جیسا کہ تم کہتے ہو کہ آنحضرت صعلم نے حضرت ابو بکر کی امامت کی طرف اشارہ فرمایا تھا تو پھر تم ھی بتاؤ کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کے ساتھ کیا کیا ؟ اور حضرت عمر نے حضرت عثمان کے ساتھ کیا کیا ؟ تو تم عام مسلمان اس سوال کا یہ جواب دو گے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر پر نص کی اور حضرت عمر نے منصب امامت و خلافت کو چھ اصحاب کے درمیان مشورہ پر معلق چھوڑ دیا اور حضرت صہیب کو نماز پڑھانے پر مامور کر دیا یہ تو خدا کے دین میں انحضرت صعلم۔کے طرز عمل کی صریح مخالفت ہوئی حالانکہ خدا وند تعالی نے رسول اکرم صعلم کے مکمل پیروی اور اتباع کرنے کا حکم دیا ہے اور آنحضرت صعلم کی مخالفت کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے کہ ۔ : سورة الحشر کی ایت نمبر 7
ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ۘ﴿۷﴾
اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو ، اور جس سے منع کریں اسے باز رھو اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہا کرو ، یقیناً اللہ تعالٰی سخت عذاب والا ہے ۔
حضرت ابوبکر کے طرز عمل سے رسول کی مخالفت ہوئی تو ہوئی، مگر حضرت عمر
نے بھی حضرت ابو بکر کے عمل کے خلاف کیا گویا (اے مسلمانوں ، ) خود تمہارے اقرار کے مطابق ان دونوں حضرات نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے اپنے اپنے عمل سے خدا کے دین میں تغیر پیدا کیا اور حکم خدا میں تبدیلی کا ارتکاب کیا اور خدا کے رسول کی مخالفت کی عام مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق وہ عقیدہ یہ کہ رسول اکرم صعلم نے حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کے لئے مقدم فرمایا تھا اس لئے وہ خلافت و امامت کے حقدار ہو۔ گئے تو حضرت صہیب کو نماز پڑھانے کی وجہ حضرت عثمان سے زیادہ امامت و خلافت کا حقدار ہونا چاہئے کیونکہ حضرت عمر نے ان کو نماز پڑھانے پر مامور کیا تھا ٹھیک اسی طرح جیسا کہ (عام مسلمانوں کا) یہ گمان ہے کہ رسول اکرم صلعم نے چونکہ حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے پر مامور کیا تھا اس لئے وہ ان کے نزدیک امامت و خلافت کے حقدار ہو گئے حالانکہ رسول اللہ صلعم نے حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم ہی نہیں دیا تھا اب جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت صلعم نے حضرت ابوبکر کرنے نماز پڑھانے کا اشارہ کیا تھا تو ہم ان سے کہیں گے کہ برائے کرم تم اس دلیل کو نہ پیش کرو کیونکہ تمہارے نزدیک تو ہر نیک وبد کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اور اس کے ثبوت میں تم بہت سے واقعات پیش کر کے اپنے مخالفین پر دلیل و حجت قائم کرتے ہو حالانکہ تم خود اس بات کا بھی اقرار کرتے ہو کہ رسو اللہ مسلم نے غزوہ ذات السلاسل کے موقع پر جب عمر بن العاص کو قائد اور عامل مقرر فرمایا تھا اس وقت عمر بن العاص کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے عمر بن العاص ان دونوں حضرات کو اور دوسرے لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے اور یہ دونوں حضرات عمر بن العاص کے جھنڈے کے نیچے (یعنی ما تحت) تھے ساتھ ہی ساتھ تم لوگ (عام مسلمان) اس بات کا بھی اقرار کرتے ہو کہ رسول اللہ صلم نے امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام پر بھی کی شخص کو بطور عامل وقائد مقرر نہیں فرمایا تھا اور نہ آپ کوکسی اورنہ آپ کوکسی اور کے پچھے نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا تم لوگ حضرت ابوبکر کے جس نماز پڑھانے کا تذکرہ کرتے ہو کہ رسول اللہ صعلم نے انہیں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا اس نماز میں جناب امیر المومنیں علیہ السلام شریک نہیں ہوتے تھے بلکہ جیسا تم کہتے ہو کہ آپ رسول اللہ صلعم کے ہمراہ تھے اور آنحضرت کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ تو تمہارے ھی دعوی مطابق امیرالمومنین علی بن ابوطالب علیہ السلام اس شخص سے زیادہ افضل ہوئے جس کو تم نے مقدم کیا ہے اسی طرح تم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہو کہ رسول اکرم صعلم نے اسامہ بن زید کو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر پر آمر بنایا تھا اور یہ دونوں حضرات آنحضرت صلعم کی وفات تک اسامہ بن زید کے ماتحت رھے ہے اور وہ نماز میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے امام اور امیر تھے اور انحضرت صعلم نے اپنی آخری وصیت میں یہ فرما دیا تھا کہ لشکر اسامہ کو مہم پر روانہ کر دیا جائے جو شخص اس لشکر میں شامل نہ ہوگا اس پر خدا کی لعنت ہے۔ چنانچہ حضرت اسامہ اپنا مہم پر جا چکے تھے لیکن پیچھے رہ جانے والوں میں یہ دونوں حضرات بھی تھے لہذا تمہارے کہنے کے مطابق اسامہ بن زید اور عمر بن العاص یہ دونوں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے زیادہ امامت کے حقدار ہوئے کیونکہ امام او ہوئے کیونکہ اسامہ اور عمر بن العاص اور حضرت عمر سے زیادہ امامت دونوں نماز میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے امام تھے۔ تم عام مسلمان اس بات کا بھی اقرار کرتے ہو کہ حضرت عمر نے جب منصب امامت کو چھ اصحاب کے درمیان مشورہ پر چھوڑ دیا اور صہیب کو نماز پڑھانے پر مامور کر دیا پھر بھی صہیب تمہارے نزدیک خلافت وامامت کے حقدار نہ ہوئے ساتھ ہی ساتھ حضرت ابوبکر کے جس نماز پڑھانے کا تم دعوی کرتے ہو وہ تمہاری ان خبروں اور روایتوں کے اختلاف کی وجہ سے ثابت نہیں جن کو تم حضرت عائشہ بنت ابوبکر کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہو اور تم یہ بھی کہتے ہو کہ جس شخص کے متعلق کسی ایک حدیث میں بھی اختلاف واقع ہو جائے تو گویا وہ ایسا ہے جس سے کوئی حدیث ہی نقل نہیں کی گئی ہے۔ اور جب تم امیر المومنین علی بن ابو طالب ع کے لئے سیدہ عالم جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی شہادت نا منظور کرتے ہو تو پھر کیونکر تم جناب عائشہ کی شہادت کو ان کے والد حضرت ابوبکر کے لئے جائز سمجھتے ہو ؟ جبکہ نماز پڑھانے کی بات حضرت عائشہ کے سوا کسی اور سے ثابت نہیں ہے اور جب رسول اکرم صعلم کو اس بات کا علم ہوا کہ (حضرت ابو بکر نماز پڑھا رہے ہیں، تو آپ بیت الشرف سے باہر تشریف لائے اس وقت لوگوں نے حضرت ابو کر کو بچھے ہٹادیا اد ا حضرت صلعم نے خود نماز پڑھائی ہے۔
فرقہ مرحبہ کا یہ کہنا کہ لوگ خود ہی امام منتخب کر لیں مگر جب وہ ظلم وجور سے پیش آئے تو اس کو بر طرف کر دینا چاہئے وہ اپنے عقیدے کی رو سے اس بات کے زیادہ حقدار اور اہل ہیں کہ خود ہی امام بن بیٹھیں جب کہ انھیں کسی کو والی اور امام مقرر کرنے کا اختیار ہے تو اس کو معزول کرنے کا اختیار بھی انہیں کو حاصل ہے اس قول پر کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے ہم نے اس سے قبل اس عقیدے کا فساد واضح لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔
اور فرقہ معتزلہ کا یہ کہنا کہ رسول اگر صعلم کا وہ طرز عمل جو آپ نے مقام غدیرخم میں جناب امیر علیہ السلام کے متعلق اختیار کیا تھا یعنی آپ نے جناب امیر علیہ السلام کی ولایت اور خلافت وامامت کے سلسلے میں جو اعلان فرمایا تھا۔ اس کا تذکرہ کر دیا ہے اور جن لوگوں کا یہ گمان ہے کہ امام کا انتخاب ان کے اختیار میں ہے اس کی تردید میں ہم نے اوپر بہت کچھ لکھ دیا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا و رسول ہر گز کسی ایسی بات کے متعلق کوئی ایسا حکم صادر نہیں کرتے نہ ہونے والی ہے اور خدا کسی ایسے شخص کی اطاعت بھی واجب و فرض قرار نہیں دیتا جس کا انتخاب اس شخص کے اختیار میں ہوجس پراس منتخب امام کی اطاعت فرض کی گئی ہے۔ اور اس امام کے انتخاب کے ساتھ ساتھ اس کا برطرف کر دینا بھی اس کے اختیار میں ہو اور اس کو یہ بھی اختیار حاصل ہو کہ وہ جس کو انتخاب کرے اس کو خوب نقد و تبصرہ کے بعد قائم کرے اگر یہ جائزہ ہوتا کہ لوگ اپنا امام منتخب کر لیں تو ان کے لئے یہ بھی کر جائز ہوتا کہ وہ نبی کو بھی قائم کرلیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اماموں کی اطاعت کو انبیاء علیہم السلام کی اطاعت کے ساتھ منسلک کردیا ہے اور اماموں کو انبیاء کے بعدان کی امتوں میں ان کا جانشین اور حاکم مقرر فرمایا ہے جس طرح انبیاء لوگوں کے در میان خدا کے جانشین اور حاکم ہوتے ہیں۔
فرقے خوارج کا یہ کہنا کہ رسول اکرم صعلم نے جو کچھ کیا ہے اس کا انھیں کوئی علم نہیں ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی یہ لا علمی اس شخص پر حجت نہیں بن سکتی جو خبر دار اور صاحب علم ہے ایسا شخص جو کس بات کو نہ جانتا ہر اس پر واجب ہے کہ اس شخص سے معلوم کرنے کی کوشش کرے جو جانتا ہے ۔ اگر ہم سے یہ لوگ ۔ پوچھیں کہ پھر تمہیں یہ بتاؤ کہ امام کس طرح قائم کیا جا سکتا۔ تو ہم ان کو یہ جواب دیں گے کہ امام کا تقرر ایک ایسی صورت سے ممکن ہے جس کو رد کرنے کی کس کو جرات نیہں۔ھوسکتی نه خود رد کرسکتے ھو نہ تمہارے علاوہ دوسرے لوگ رو کر سکتے ہیں وہ نا قابل تردید صورت یہ ہے کہ امام نص و توقیف سے قائم ہوتا کہ نص و توقیف کا تصور رکھنے والے پر کوئی حجت قائم نہ ہو سکے اور نہ اس کے مخالف کے لئے کوئی جائے مقال رہے ۔۔
ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت و خلافت سے آگاہ کر دیا تھا۔ اور آنحضرت صعلم نے ان کو اپنا جانشین اور لوگوں کا امام مقرر کر دیا تھا۔ اور پھر اس طرح امیرالمومنین علیہ اسلام نے امام حسن علیہ اسلام کو امام مقرر فرمایا اور امام حسن علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کو امام مقرر فرمایا اور امام حسین علیہ السلام نے امام زین العابدین علیہ اسلام کو امام مقرر کردیا زین العابدین علیہ اسلام نے امام محمد الباقر علیہ السلام کو امام مقرر قردیا امام محمدالباقر ع نے جعفر الصادق کو امام مقرر فرمایا اور پھر مام جعفر الصادق علیہ اسلام کے بعد یکے بعد دیگرے کو امام قائم ہوتے رہے یہ وہ ائمہ طاہرین علیہم السلام ہیں جن کے بارے میں ہمارے پیشتروں سے ہم تک خبر آتی ہے اور ہم نے اپنے عہد میں جن اماموں کو دیکھا ہے انھوں نے بھی نص ہی کے طریقے پر عمل کیا ہے پس نص کا طریقہ نہایت واضح اور حجت قاطع ہے اس میں کسی کو کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ کوئی حرف زنی کر سکتا ہے۔ یہی بات ہم رسولوں کے بارے میں اور ان کے درمیان جو ائمہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ منصب امامت کا انعقاد نص و توقیف ہی سے ہوتا ہے وہ اس طرح سے کہ ایک نبی اپنے بعد ایک امام کو بذریعہ نص و توقیف مقرر کر جاتا ہے اور وہ امام اپنے بعد کے امام کو بذریعہ نص قائم کر جاتا ہے اور ایک نپی اپنے بعد کے آنے والے نبی کی بشارت دیتا ہے ۔ جیسا کہ خاوند تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن حکیم میں ارشاد رہا ہے ک.
وَ مُبَشِّرًاۢ بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ"
ترجمہ - اور ایک پیغبر جن کا نام احمد ہوگا اور میرے بعد آئیں گے۔ ان کی خوشخبری سناتا ہوں ۔ چنانچہ أئمہ ایک دوسرے کو مقام امامت بذریعہ نص سونپتے رہتے ہیں اور اپنے بعد کے آنے والے امام سے واقف و خبر دار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جس نبی کی خوشخبری دی گئی تھی اس کا ظہور ہو جاتا ہے جیسا کہ عام مسلمان بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے شیث علیہ السلام پرنص کی تھی اور پھر شیت علیہ السلام نے اپنے فرزندوں میں سے اپنے بعد انے والے امام پرنص کی تھی عرض اماموں کے نص کرنے کا یہی طریقہ تھا ھر امام اپنے بعد آنے والے امام پر بذریعہ نص اگاہ کرتا تھا یہاں۔تک یہ سلسلہ نوح علیہ السلام تک پہنچا اور نوح علیہ السلام آگاہ کرتا رہا یہاں تک کہ سلسلہ نوح علیہ سے ابراہیم علیہ اسلام تک پہنچا اور ابراہیم علیہ سلام سے موسی علیہ السلام تک پہنچا اور موسی علیہ اسلام سے عیسی علیہ اسلام تک پہنچااور عیسی علیہ اسلام سے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صعلم تک پہنچا۔
عام مسلمان اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ گذشتہ انبیا کرام میں سے ہر نبی نے اپنا ایک وصی مقرر کیا تھا جو اس کے بعد اس کے تمام کام کو خوبی انجام دتیا ھویے ان کے اپنے پیغمبرمحمد مصطفی صلعم کے کہ آپ نے کس کو اپنا وصی نہیں بنایا ہے حالانکہ لوگوں سے وحی و نبوت کا سلسلہ منقطع ہو جانے کے سبب اوصیاء اور ائمہ کی سخت ضرورت تھی لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جب پروردگار عالم نے محمد رسول اللہ صعلم پر سلسلہ نبوت کو ختم کردیا تو اس نے امت کے تمام امور کو اہل بیت علیہم السلام کے حوالے کر دیا اور قیامت تک کے لئے ائمہ طاہرین علیہم السلام کو مخلق خدا کی نگہداشت کا کام سونیا گیا ہے۔ پس ہم نے جیسا کہ اوپر لکھا ہے اس طرح نبوت اور امامت کے بارے میں نص و توقیف کے قائل ہیں، نہیں کہ عام مسلمانوں کا جیسا کہ یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء و مرسلین کی رسالت و نبوت کی تصدیق کے لئے بطور ثبوت ان کے معجزات کافی ہیں نص و بشارت اور توقیف نہیں اگر وہ قرآن حکیم کا غور سے مطالعہ کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ قرآن انبیاء و مرسلین علیہم السلام سے معجزات طلب کرنے والوں کی سخت ندمت کرتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ میں خدا وند تعالیٰ نے رسول اکرم صعلم سے مخاطب ہوکر فرمایا ہے کہ :
یَسْئَلُکَ اَہۡلُ الْکِتَابِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْکم کِتَابًا مِنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِہِمۡ ۚ وَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْہُمُ الْبَیْنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوۡسٰی سُلْطٰنَۢا مُبِیۡنَۚ"
ترجمہ: "(اے رسول) اہل کتاب (یہودی) جو تم سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک کتاب آسمان سے اتار دو تو تم اس کا خیال نہ کرو کیونکہ یہ لوگ موسی سے تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کے درخواست کر چکے ہیں۔ چنانچ کہنے لگے کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو
(سورہ النساء، آیت 153
( اور دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ھے
"وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنۢبُوعًا ۙ
وَ اَنۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْہٰرَ خِلٰلَہَا تَفْجِیۡرًا ۙ
اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰہِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا ۙ
اَوْ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُہٗ ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیۡ هَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا" . . . ترجمہ:
"اور (اے رسول) کفار مکہ نے تم سے کہا کہ جب تک تم ہمارے واسطے زمین سے چشمہ بہا نکالو گے ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یا یہ نہیں تو کھجوروں اور انگوروں کا تمہارا کوئی باغ ہو اس میں تم بیچ بیچ میں نہریں جاری کرکے دکھا دو یا جیسا تم گمان رکھتے تھے۔ ہم پر آسمان ہی کو ٹکڑے مکڑے کر کے گراؤ یا خدا اور فرشتوں کو اپنے قول کی تصدیق میں ہمارے سامنے گواہی میں لاکھڑا کرو۔ یا تمہارا کوئی زیب و زینت کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تم کے اس چڑھنے کا بھی یقین نہ کریں جب تک کہ تم ہم پر ایک کتاب نہ نازل کرو جسے ہم پڑھ سکیں۔ (اے رسول) کہہ دو کہ سبحان اللہ! میں تو ایک انسان ہوں، ایک رسول ہوں . . . . . (سورہ الاسراء، آیت 90-93)
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
"وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا یَاۡتِیۡنَا بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اَوَلَمۡ تَاۡتِہِمۡ بَیِِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوۡلٰی
ترجمہ:"اور اہل مکہ کہتے ہیں کہ اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی معجزہ ہماری مرضی کے موافق کیوں نہیں لاتا تو کیا جو پیشن گوئیاں اگلی کتابوں (توریت انجیل) میں (اس کی) گواہ ہیں وہ بھی ان کے پاس نہیں پہنچیں. .
" (سورہ طہ، آیت 133)
قران۔حکیم میں اس قسم کی بکثرت آیتیں موجود ہیں اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالٰی جس نبی کو مبعوث کرتا ہے اس کی اطاعت فرض اور واحب ہوتی ہے۔ پس جس نے اس کی تصدیق کی اور قبل اس کے کہ وہ نبی کوئی معجزہ پیش کرے تکذیب کی حالت میں مر جائے تو عوام کے نزدیک وہ بالا تفاق کا فر کی موت مرگیا اگر عوام کے ڑعم کے مطابق انبیاء کی نبوت کے لئے ان کے معجزات ہی ثبوت اور دلیل و حجت ہیں تو پھر وہ شخص قابل مواخذہ نہیں جو معجزہ ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہ لائے۔ لیکن عوام اگر ہم سے دریافت کریں کہ انبیا کے معجزات لانے کا کیا مقصد ہے؟ تو ہم ان کو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالی انبیا ءکرام کواس لئے معجزات دے کر معبوث کرتا ہے کہ اپنی مخلوق کے دلوں میں خوف و رعب پیدا کر دے اور اپنے رسولوں کی تائید اور ان کے ان دلائل و براہیں کو مضبوط بنانے کے لئے جو وہ اپنے مخالفین کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے خدا انبیاء علیہم السلام کو معجزات دے کر مبعوت کرتا ہے ۔ چنانچہ اس آیت کریمہ میں ارشاد ہے کہ: وَ مَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا"
ترجمہ:، اور ہم تو معجزے صرف ڈرانے کی غرض سے بھیجا کرتے ہیں"
(سورہ الاسراء، آیت 59)
اللہ تعالٰی نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا تھا وہ اپنی قوم کو ساڑھے نو سو برس تک دعوت کرتے رہے اس طویل مدت کے درمیان آپ کی تکذیب کرنے والے بکثرت لوگ حالت کفر میں مر گئے اور خدا وند تعالی نے یہ خبر دی ہے کہ نوح علیہ اسلام کا معجزہ آپ کی کشتی ہے اور عام مسلمانوں کا بھی یہی خیال ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ کشتی کا یہ معجزہ آپ کے آخری زمانے میں پیش آیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ نوح کی قوم پر ان کے کفر کی وجہ سے عذاب بھی آیا اور خدا نے انھیں ان کی نافرمانی کا مزہ چکھایا اور نوح علیہ السلام اور آپ ان ساتھیوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ یہاں پر قابل غور بات تو یہ ہے کہ کشتی نوح سے پہلے وہ قومیں آپ کی تکذیب کر چکی تھیں وہ آپ کی تکذیب اور جو آپ نےاپنے پروردگار کی طرف سے لائے تھے اس کی تکذیب کی وجہ سے داخل جہنم۔ھوچکی تھی۔ پس اگر قوم نوح علیہ اسلام کے نزدیک اپ کے نبوت کا ثبوت معجزہ ہی ہوتا تو ان پر کچھ فرض و واجب نہ تھا کہ وہ آپ پر ایمان لاتے اور جب قوم نوح پر یہ واجب ہی نہ تھا کہ نوح علیہ اسلام پر ایمان لائیں تو نوح علیہ السلام کے لئے یہ سزا وار نہ تھا کہ وہ کوئی معجزہ پیش کئے بغیر ان کو دعوت کرتے کیونکہ ان پر نوح علیہ السلام کی تصدیق کی معجزہ کے بغیر واجب ہی نہ تھی اور نہ ھی یہ واجب تھا کہ نوح علیہ اسلام انکو کسی ایسی چیز کی طرف دعوت کرتے جس کا قبول کرنا ان پر واجب ھی نہ تھا حلانکہ خداوند تعالی جب کسی پیغبر کو معبوث کرتا ھے تو اس کی اطاعت واجب اورفرض ہوتی ہے یہ بات اس شخص کے لئے روشن اور واضح ہے جو غور و فکر کرے اور سمجھے۔ اگر ہم اس سلسلے میں مزید اور باتیں بیان کریں تو یہ اس کتاب کی حد : سے باہر سے ھوگا ھم تو ان میں سے چند نکتے بیان کر دیئے ہیں جس کو صاحبان عقل ہی سمجھتے ہیں اور خدا اپنی رحمت سے راہ ثواب پر چلنے کی توفیق عطا کرنے والا ہے ۔ کتاب دعائم الاسلام حصہ اول
ابوحنیفہ قاضی نعمان اثار علم فاطمی خلافت

ہنزہ گلگت بلتستان کی قابل فخر اسماعیلی بہن محترمہ ثمینہ بیگ   کا اک اور اعزاز۔
12/17/2025

ہنزہ گلگت بلتستان کی قابل فخر اسماعیلی بہن محترمہ ثمینہ بیگ کا اک اور اعزاز۔

12/17/2025

اب جو کوئی امام زمان کی شان میں گستاخی کرے گا ہم ان کے خودساختہ اماموں کا پول بھی کھولنے سے دریغ نہیں کرینگے۔لوہے کو لوہا ہی پگھلا سکتا ہے۔بعض لوگ باتوں سے نہیں لاتوں سے سمجھتے

12/15/2025

اپنے بچوں کو طالبان،سپاہ صحابہ اور زینبیئون و فاطمیون کے نام رکھ کر دہشت گر د مت بناؤ۔مقدس نام رکھ کر کسی کا گلہ کاٹنے سے وہ مقدس ہستیاں تم سے خوش نہیں ہونگی۔

12/14/2025

ویسے خانہ حکمت والوں سے لاکھوں ہمارے اختلافات سہی مگر انکو کس دہشت گردی کے تحت کالعدم قرار دیا گیا؟اور انکو کالعدم قرار دینے کی سفارش کس نے کی؟

12/13/2025

ہمارے اسماعیلی الواعظین کو امام کے دشمنوں جیسے الغزالی کی کتابیں پڑھنے سے کوئی مسلہ نہیں ہے۔جبکہ علامہ نصیر الدین ہنزائی کی کتب پڑھنے سے ایمان کو خطرہ درپیش ہے۔

اسماعیلی مذہب امن  و سلامتی کا نام ہے۔یہاں دیگر مکاتب کی طرح کسی دوسرے فرقے پر کفر و بدعتی کے فتویٰ لگانا قطعاً منع ہے۔ا...
12/12/2025

اسماعیلی مذہب امن و سلامتی کا نام ہے۔یہاں دیگر مکاتب کی طرح کسی دوسرے فرقے پر کفر و بدعتی کے فتویٰ لگانا قطعاً منع ہے۔اہل بیت نے ہمیں اپنے دشمن کو بھی دعا دینے کی تلقین کی ہے۔

مگر یہ شخص چند لائکس اور چند ہزار پیسوں کے لئے فیس بک پر گلگت بلتستان خصوصاً ہنزہ کے اسماعیلیوں کے بارے میں پروپیگنڈہ کرتا ہے۔نہایت چالاکی کے ساتھ یہ شخص خانہ حکمت کا نام استعمال کرکے ہنزہ اور ہنزہ کی جماعت کی دل آزاری کرتا ہے۔

یہ شخص اس سے جو بھی اختلاف کرتا ہے تو اس پہ خانہ حکمت یا ہنزائی ہونے کا فتوی لگا کر تمسخر اڑاتا ہے۔اس کا پول کھول کے کمنٹ کرو تو وہ فوراً ڈیلیٹ کرتا ہے۔

اسکا کہنا ہے کہ خانہ حکمت ایک۔ کالعدم تحریک ہے اس لئے وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو بھائی پہلے یہ بتاؤ کہ خانہ حکمت والوں نے سپاہ صحابہ اور طالبان کی طرح کس کس کو قتل کیا؟یا کس کے خلاف کفر کا فتویٰ لگایا جس کی وجہ سے انکو کالعدم قرار دیا گیا؟

12/12/2025

صابر سلیم نامی بندہ گلگت بلتستان کے اسماعیلی خصوصاً ہنزہ کے اسماعیلیوں کے خلاف پیڈ کمپین کررہا ہے۔اس شخص کے خلاف قانونی کاروائی کیا جانا چاہیے۔اور ساتھ میں یہ اثناعشری فرقے کے عقائد پہ بھی ڈائریکٹ ہٹ کرتا ہے جو کہ ہم
اسماعیلیوں کے مطابق درست نہیں ہے۔

*امام سے مدد مانگنا یا استمداد* بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم  سوال :ہم اسماعیلی امام سے مدد مانگتے ہیں یا ہم لوگ جب ایک دوس...
09/19/2025

*امام سے مدد مانگنا یا استمداد*
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سوال :ہم اسماعیلی امام سے مدد مانگتے ہیں یا ہم لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یا علی مدد کہتے ہیں. یا امام سے مشکلات کا حل طلب کرتے ہیں جسے شیعہ اسلام میں استمداد کہتے ہیں جبکہ اسلام کے دیگر مسالک میں مدد صرف اللہ سے مانگتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن میں ایسا کوئی ارشاد ہے جس سے یہ ظاہر ہو یا واضح ہوجا ئے کہ یا علی مدد کہنا جائز قرار پائے؟
جواب : جی ہاں اگر قرآن کو حکمت کی نظر سے دیکھیں یا پڑھینگے تو معلوم ہو جائے گا،کہ ہم اسماعیلی از روئے قرآن امام سے مانگتے ہیں،اور مدد طلب کرتے ہیں.
اس بارے میں قرآن میں بہت سے حکیمانہ آیات ہیں لیکن ہم مختصراً دو آیات کو لیتے ہیں اور اپنے بزرگان دین کی تسریحات کے مطابق دیکھتے ہیں، جیسا کہ سورہ ابرھیم کی آیت نمبر ۳۴ میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَ اٰتٰىكُمْ مّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُؕ-وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ.
اور جو کچھ تم نے خدا سے مانگا سب تم کو دیا اور اگر تم خدا کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو گن نہیں سکتے ہو اس میں تو شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔
اس فرمان الٰہی سے ظاہر ہے،کہ حقیقی مومنیں نے جسمانیت میں یا روحانیت میں بزبانِ قال یا بزبانِ حال پروردگار سے جو کچھ طلب کیا وہ سب اُس نے انہیں دے رکھا ہے،اب ہم نے قرآن سے دیکھنا ہے،کہ۔خدا نے سب کچھ کس صورت میں مومنین کو دے رکھا ہے؟ اس کا جواب سورہ یٰسٓ کی آیت نمبر ۱۲ میں موجود ہے,خدا فرماتا ہے
وَ كُلََّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۔
اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین (کی نورانیت) مین گھیر لیا یے، تو معلوم ہوا کہ خدا نے تمام چیزیں امام کی صورت میں ہم کو دی ہے، اور امام ہی خدا کی کلّ چیزوں کا خزانہ ہے. اب اس قانوں قدرت کے تحت کیا ہم اپنی مرضی سے امام سے مانگتے ہیں؟ نہیں قرآن کے حکم کے مطابق مانگتےہیں، اگر خدا کی تمام چیزین امام کی صورت میں ہم کو دی گئی ہیں،تو پھر ہمارے مطلُوب بھی امام ہی سے پورے ہونگے،امام سے ہی طلب کرنا ہوگا،کیونکہ خدا خود فرماتا ہے، کہ میں نے تمام چیزین روحانی طور پر امام مبین میں رکھا ہے، تو اس صورت میں ہمارے تمام روحانی مسائل امام سے ہی حل ہو جائیں گے ۔

ازکتاب یا علی مدد

Address

Plano, TX

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ismaili Qasidas And Ginans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share