جب میں چودہ سال کا تھا تو میں نے کھانے کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا چرایا، جس کی وجہ سے انہوں نے مجھے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا اور چھ مہینے تک مجھے مفت روٹی دیتے رہے۔۔۔ بس یہی انسانی عدالت ہے۔
~ وکٹر ہیوگو
29/07/2022
کتاب زیست کا ایک اور باب ختم ہوا
شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا
ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے
سراب ختم ہوا اضطراب ختم ہوا
برس کے کھل گیا بادل ہوائے شب کی طرح
فلک پہ برق کا وہ پیج و تاب ختم ہوا
جواب دہ نہ رہا میں کسی کے آگے منیر
وہ اک سوال اور اس کا جواب ختم ہوا
کِتنی دلکش ہے اُس کی خامشی
ساری باتیں فُضول ہوں جیسے
نام معلوم نہیں
17/07/2022
مندر سے اِک لاش ملی ہے
ماتھے پہ محراب کے اُوپر تِلک لگا ہے
ہاتھ میں تسبیح
سر پہ پگڑی
جیب سے بائبل جھانک رہی ہے
آس پڑوس کے لوگ سبھی اِنکاری ہیں
سوچ رہے ہیں دفنائیں؟؟
یا گنگا راکھ بہانی ہے؟
شاید رب کو ڈھونڈتا کوئی
مندر تک آ پہنچا تھا
گیتا یا قرآن کا مالک
عیسٰی والا نانک والا
کوئی تو آئے لاوارث کی لاش اٹھائے
لاش جو تیرے راز کی طرح فاش ملی ہے
مندر سے اک لاش ملی ہے...!
12/07/2022
میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف
آہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف
تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں
ڈھُونڈ چُکا میں موج موج، دیکھ چُکا صدف صدف
عشقِ بُتاں سے ہاتھ اُٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا
نقش و نگارِ دَیر میں خُونِ جگر نہ کر تلَف
کھول کے کیا بیاں کروں سِرِّ مقامِ مرگ و عشق
عشق ہے مرگِ با شرف، مرگ حیاتِ بے شرف
صحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہُوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سربکف
مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درختِ طُور سے آتی ہے بانگِ’ لاَ تَخَفْ‘
خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
علامہ اقبال
11/07/2022
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کر
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
ترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں
انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے
مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سے
نہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری
انہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
ساحر لدھیانوی
11/07/2022
مرحوم کی طبعیت میں ظرافت تھی۔ خشک فلسفیانہ مسائل کو بھی لطیفوں اور پھبتیوں سے دل چسپ بنا دیتے تھے کہ جی چاہتا پہروں بیٹھے اِن کی باتیں سنتے رہیں۔ یوں تو ہر روز دو تین لطیفے ہوجایا کرتے تھے لیکن جو پھبتیاں انہوں نے سر شہاب الدین کے متعلق کہی ہیں اُنہیں تاریخی حیثیت حاصل ہوگئی۔ ایسا معلوم ہوتا کہ اُنہیں دیکھ کر علامہ اقبال کو لطیفوں اور پھبتیوں کے سوا اور کچھ نہیں سوجھتا تھا۔ سر شہاب الدین کی رنگت سیاہ تھی۔ ایک دن وہ سیاہ سوٹ پہن کر اسمبلی میں تشریف لے آئے۔ علامہ اقبال نے اُنہیں دیکھا تو ہنس کر فرمایا” چودھری صاحب! آج تو آپ ننگے ہی چلے آئے۔“
Be the first to know and let us send you an email when YAVUZ TUBE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.