Daily Shahbaz

  • Home
  • Daily Shahbaz

Daily Shahbaz Daily Shahbaz is a historical newspaper which was first published in 1942 from Lahore. The 1st owner

• اگر محافظ ہی قاتل بن جائیں تو عوام شکایت کس سے کریں؟ — میاں افتخار حسین• جعفر شاہ کے قاتل فوری گرفتار کر کے قوم کے سام...
12/09/2025

• اگر محافظ ہی قاتل بن جائیں تو عوام شکایت کس سے کریں؟ — میاں افتخار حسین
• جعفر شاہ کے قاتل فوری گرفتار کر کے قوم کے سامنے پیش کیے جائیں
• ٹارگٹ کلنگ کا نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہو چکا ہے — میاں افتخار
• دہشت گرد اتنے طاقتور نہیں، انہیں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
• گزشتہ 45 سال سے پشتون قوم قتلِ عام اور دہشت گردی کا شکار ہے
• ہمارے خون پر ڈالر کمائے جا رہے ہیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
• چالیس ہزار سے زائد افراد دوبارہ کس کے اشارے پر آباد کیے گئے؟
• اگر دہشت گردی ختم کرنا مقصود ہوتا تو پنجاب میں کارروائی کیوں نہیں؟

پشاور :عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اگر محافظ ہی قاتل بن جائیں تو عوام شکایت کس سے کریں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعفر شاہ کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قوم کے سامنے پیش کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
میاں افتخار حسین نے پارٹی رہنما اور سابق نائب ناظم جعفر شاہ کی شہادت پر اہلِ خانہ سے تعزیت کے بعد کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا ایک نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ ریاست اُن آوازوں کو دبانا چاہتی ہے جو امن، پشتون خطے کی فلاح اور پرامن مستقبل کے لیے بلند ہوتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہ خود بخود وجود میں نہیں آتے بلکہ اُن کے پیچھے سہولت کار اور پشت پناہی کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔مولانا خانزیب کو جس جگہ شہید کیا گیا، وہاں اس سے قبل بھی تین افراد کو نشانہ بنا کر شہید کیا جا چکا تھا، حالانکہ وہاں سیکورٹی ادارے موجود تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سیکورٹی موجود ہے تو عام شہری کھلے عام کیوں قتل ہو رہے ہیں؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ دہشت گرد اتنے طاقتور نہیں بلکہ انہیں سہولت فراہم کی جاتی ہے؟
اے این پی صوبائی صدر نے کہا کہ گزشتہ 45 سالوں سے پشتون قوم مسلسل قتلِ عام اور دہشت گردی کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ کبھی خودکش دھماکے، کبھی نامعلوم فائرنگ اور اکثر بڑے گروہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو بھی شہید کیا گیا، قاتل گرفتار ہوا لیکن مجھ سے کہا گیا کہ ایف آئی آر درج کرو۔ اگر ایک فوجی شہید ہوتا تو کیا اُس کے والد سے ایف آئی آر درج کروائی جاتی یا قاتل کو سزا ملتی؟ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن قائم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے خون پر ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔ چالیس ہزار سے زائد دہشت گرد دوبارہ کس کے اشارے پر آباد کیے گئے، کون انہیں واپس لا رہا ہے اور کس نے انہیں پناہ دی؟ یہ سوال قوم کے سامنے ہیں۔
میاں افتخار نے کہا کہ افغانستان کی حکومت پاکستان اور امریکہ دونوں کی پیداوار ہے اور بڑے معاہدوں کے بدلے خطے کو خون میں نہلایا جا رہا ہے۔ اگر دہشت گردی ختم کرنا مقصد ہوتا تو پنجاب میں موجود درجنوں تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جاتی، مگر وہاں سب کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بڑے عالمی تنازعات چند دنوں میں سیز فائر کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں تو پشتون خطے میں 45 سال سے جاری بدامنی کیوں ختم نہیں کی گئی؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ یہاں دہشت گردی ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔میاں افتخار حسین نے پشتون قوم سے اتحاد و یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم متحد ہوں تو کوئی طاقت ہماری جدوجہد کو روک نہیں سکتی۔ شہداء کے خون کا حساب لینے اور آنے والی نسلوں کو تحفظ دینے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کی سربراہی میں باچا خان مرکز پشاور میں سماعت ہوئی، جس میں فاروق خان شیخ...
11/09/2025

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کی سربراہی میں باچا خان مرکز پشاور میں سماعت ہوئی، جس میں فاروق خان شیخو ذاتی طور پر پیش ہوئے۔سماعت کے دوران فاروق خان شیخو نے پارٹی مشران کو مطمئن اور تسلی بخش جواب دیا اور عہد کیا کہ وہ آئندہ کسی بھی غیر آئینی سرگرمی میں شامل نہیں ہوں گے، پارٹی ڈسپلن کو مقدم رکھیں گے اور آئین و پارٹی کے ہر فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے۔
پارٹی مشران نے انہیں ہدایت کی کہ وہ پارٹی ڈسپلن کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، صوبائی نائب صدر صلاح الدین مومند، صوبائی جوائنٹ سیکرٹری حامد طوفان، صوبائی سالار شاکر اللہ شنواری، ضلعی صدر شکیل بشیر عمرزئی سمیت دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین کی منظوری کے بعد، صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے امام حسین ت...
10/09/2025

عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین کی منظوری کے بعد، صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے امام حسین تراب کو پارٹی کی صوبائی کلچر کمیٹی کا ممبر مقرر کیا ہے۔

| |

پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی پڑھتے نہیں یا سمجھ بوجھ کی کمی ہے یا کس کو بے وقوف بنارہی ہےشائد دنیا کی واحد جماعت ہے جس کے ا...
10/09/2025

پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی پڑھتے نہیں یا سمجھ بوجھ کی کمی ہے یا کس کو بے وقوف بنارہی ہے

شائد دنیا کی واحد جماعت ہے جس کے ارکان اسمبلی اپنی ہی حکومت سے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن قانون واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں
وزیراعلی اگر چاہے تو ایک منٹ میں واپس نہیں کرسکتے کیا?

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کا خدائی خدمتگار محمد افضل خان (شانگلہ) کے انتقال پر اظہار افسوس  |     #
10/09/2025

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کا خدائی خدمتگار محمد افضل خان (شانگلہ) کے انتقال پر اظہار افسوس
| #

10/09/2025

سپیکر خیبر پختونخوا بابر سلیم سواتی نے صوبے فوجی آپریشن کی تصدیق کردی
مگر صوبائی حکوت کے ترجمان بیر سٹر سیف کا کہنا ہے کہ صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا ہے

عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر اور قومی امن جرگہ کی صوبائی کمیٹی کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے اعلان کیا ہے کہ 2...
31/07/2025

عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر اور قومی امن جرگہ کی صوبائی کمیٹی کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے اعلان کیا ہے کہ 23 اگست کو سفید جھنڈوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف "امن مارچ" منعقد کیا جائے گا۔ یہ ایک پاور شو ہوگا جس کا آغاز صبح 10 بجے صوابی انٹرچینج سے ہوگا۔ تمام سیاسی، قومی اور اولسی قافلے صوابی انٹرچینج پر جمع ہو کر اسلام آباد کی جانب پرامن مارچ کریں گے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پشتون قوم امن کی داعی ہے اور ہر اس قوت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی جو علاقے کو دوبارہ خونریزی کی دلدل میں دھکیلنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں ایک بار پھر جنگ مسلط کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، لیکن پشتون قوم اس بار مزید کسی جنگ کا ایندھن بننے کو تیار نہیں۔ امن کے نام پر دہشت گردی اور بدامنی کی نئی لہر کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، قومی وطن پارٹی، جماعت اسلامی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ، پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی، پاکستان مزدور کسان پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی ورکر پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی قائدین شریک تھے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج سے 20 اگست تک قومی امن جرگہ کی صوبائی کمیٹی تمام مرکزی سیاسی قیادت، قبائلی مشران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرے گی تاکہ 23 اگست کے مارچ کو وسیع تر قومی حمایت حاصل ہو سکے۔ انہوں نے تمام اضلاع میں موجود سیاسی اتحاد، اولسی پاسون اور قومی کمیٹیوں سے اپیل کی کہ وہ امن مارچ کی کامیابی کے لیے اپنے اپنے علاقوں میں عملی اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے ان اضلاع کے عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدور کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سیاسی اتحاد موجود نہیں، وہاں فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس (APC) کا انعقاد کر کے سیاسی اور قومی اتحاد تشکیل دیے جائیں تاکہ کوئی طاقت پشتون قوم کے امن کے قافلے کو روک نہ سکے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ مارچ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پشتون قوم کے اجتماعی ضمیر اور بیداری کی علامت ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کھڑے ہوں، سفید جھنڈے امن کا پیغام ہیں اور ہم ریاست کو باور کرائیں گے کہ پشتون قوم مزید کسی مسلط شدہ جنگ کو برداشت نہیں کرے گی۔

بونیر: فخر افغان باچا خان کی 37ویں اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی 19ویں برسی کی مناسبت سے عوامی نیشنل پارٹی ضلع بو...
03/02/2025

بونیر: فخر افغان باچا خان کی 37ویں اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی 19ویں برسی کی مناسبت سے عوامی نیشنل پارٹی ضلع بونیر کے زیراہتمام جلسہ،سابق وزيراعلی خیبر پختونخواامیرحیدر خان ہوتی کا خطاب:

پی ٹی آئی پنجاب کی سیاست اور تخت اسلام آباد کیلئے پختونوں کو استعمال کررہی ہے، امیر حیدر خان ہوتی
پی ٹی آئی کا اصل مقصد سرکاری خزانے سے چوریوں پر این آر او کا حصول ہے
پی ٹی آئی کے موجودہ صدر احتجاجوں میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کا اعتراف کرچکے ہیں
ہر دفعہ احتجاجوں میں کارکنان کو بے یار ومددگار چھوڑ کر یہ لوگ خود غائب ہوجاتے ہیں؟
پوچھنا چاہتے ہیں کہ کس مقصد کیلئے ان احتجاجوں میں لوگوں کو شہید کرایا گیا؟
8 فروری کو ایک دفعہ پھر پختونوں کو ذاتی انا کیلئے استعمال کرنے کی تیاریاں ہورہی ہے
پنجاب میں الیکشن پراعتراض ہے تو وہاں سے لوگوں کو احتجاج کیلئے کیوں نہیں نکالا جاتا؟
پختونخوا دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، 12 سال سے مسلط حکمران تماشہ کررہے ہیں
قیام امن کیلئے ہم نے سروں کے نذرانے پیش کئے، موجودہ حکومت لاتعلق ہے
ہم نے جرات، بہادری اور عزم کے ساتھ دہشتگردوں کا میدان میں مقابلہ کیا
دہشتگردی کے خلاف پی ٹی آئی کی تینوں حکومتیں مل کر بھی وہ کردار ادا نہیں کرسکتی جو ہم نے ادا کیا ہے
دہشتگردی میں ملاکنڈ ڈویژن سے نکل مکانی کرنے والوں کو ہم نے ریکارڈ وقت میں دوبارہ آباد کرایا
ہماری حکومت کے بعد دہشتگردی کے باعث بے گھر ہونے آج بھی بے یار ومددگار ہیں
ہم نے دہشتگردی اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ تعمیر اور ترقی کے سفر کا بھی آغاز کیا
انفراسٹرکچر سمیت تعلیمی میدان اور دیگر شعبوں میں میں ہم نے ریکارڈ ترقیاتی کام کئے
این ایف سی ایورڈ، اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبے کی شناخت سرخ جھنڈے کے کارنامے ہیں
ہم نے اپنی حکومت میں کبھی عوام کو یہ عذر نہیں پیش کیا کہ خزانے میں پیسے نہیں ہیں
آج منصوبوں مکمل کرنے کیلئے بھی صوبے کے خزانے میں پیسے نہیں ہیں
ہم یونیورسٹیاں بنا رہے تھے، یہ لوگ یونیورسٹیوں کی زمینیں بیچ رہے ہیں
ہم نے سرکاری ملازمین کی مراعات میں اضافہ کیا، یہ لوگ ان پر لاٹھی چارج کررہے ہیں
ہم نے اپنی حکومت میں بلا تفریق پورے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا
پی ٹی آئی حکومت نے اپوزيشن میں بیٹھے اراکین کے حلقوں کو ترقی سے محروم کردیا ہے
سازش کے تحت ہمیں پارلیمان سے تو باہر کرسکتے ہیں لیکن سیاست سے نہیں
سازشوں ، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے باوجود ہم آج بھی میدان میں ہیں
ہم جب موجودہ حکومت کی کرپشن بارے بات کرتے ہیں تو اسکو پراپیگنڈا قرار دیا جاتا ہے
صوبے میں حکومتی پارٹی کے اراکین خود پختونخوا میں کرپشن کا اقرار کررہے ہیں
باچا خان اور انکے ساتھیوں نے تکالیف کا سامنا کرکے آزادی کی جنگ لڑی
بدقسمتی سے پاکستان میں ہمیں تاریخ اور نصاب میں ہمیں کچھ اور پڑھایا جاتا ہے
لیکن حقیقت یہ ہے کہ باچا خان اور خدائی خدمتگار نہ ہوتے تو انگریز آج بھی اس سرزمین پر حکمران ہوتا
ولی خان کی دوراندیشی کا ایک زمانہ معترف ہے، ان جیسا نہ کوئی پیدا ہوا ہے نہ ہوگا
جمہوری نظام اور آئین کی بالادستی کیلئے ولی خان کا کردار ناقابل فراموش ہے
ولی خان بطور اپوزیشن لیڈر مثبت کردار ادا نہ کرتے تو آج 1973 کا آئین نہ ہوتا
صوبائی خودمختاری کی بنیاد قائد جمہوریت ولی خان نے 1973 کے آئین میں رکھی تھی
اسفندیار ولی خان نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شکل میں اس کو عملی شکل دی
اپنے اکابرین کی تعلیمات پر عمل کرکے ہم انکو بہتر انداز میں خراج عقیدت پیش کرسکتے ہیں
عزم کرتے ہیں کہ قوم کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے

جلسہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان، مرکزی سیکرٹری خارجہ امور سردار حسین بابک، صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، نائب صدر صلاح الدین خان، نائب صدر خدیجہ بی بی، جائنٹ سیکرٹری ایاز شعیب خان، سیکرٹری یوتھ افیئرز طارق افغان ایڈوکیٹ، ضلعی صدر محمد کریم بابک، سینئر نائب صدر حاجی رؤف خان، جنرل سیکرٹری قیصر ولی خان، اور دیگر ضلعی و تحصیل ذمہ داران ، ذیلی تنظیموں کے اراکین اور پارٹی کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
۔

02/01/2025

باچا خان کی 37ویں اور ولی خان کی 19ویں برسی کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز 20 جنوری سے ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افتتاحی تقریب 20 جنوری 2025 کو باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوگی، جس کے مہمان خصوصی مرکزی صدر ایمل ولی خان ہوں گے۔ افتتاحی تقریب میں پارٹی کے دیگر قائدین بھی شرکت کریں گے۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان کے مطابق 25 جنوری کو سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے اراکین شریک ہوں گے۔ باچا خان اور ولی خان کی برسیوں کی مناسبت سے 26 جنوری کو کراچی میں عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں مرکزی صدر ایمل ولی خان اور دیگر پارٹی قائدین شرکت کرینگے۔ اسی سلسلے میں 9 اور 10 فروری کو عوامی نیشنل پارٹی اسلام آباد اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زيراہتمام دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں مرکزی صدر ایمل ولی خان اور پارٹی کے دیگر قائدین سمیت مختلف مکتبہ فکر کے لوگ شریک ہوں گے۔ ڈاکٹر محمد سلیم خان کے مطابق14 فروری 2025 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں مرکزی صدر ایمل ولی خان اور دیگر رہنما خصوصی شرکت کرینگے۔اے این پی پختونخوا اور بلوچستان برسیوں کی مناسبت سے تقریبات اور جلسوں بارے جلد اپنے شیڈول کا اعلان کرینگے۔

16/12/2024

اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان روز اول سے اعلان کرچکے ہیں کہ وہ کبھی بھی سرکاری عہدہ نہیں لیں گے۔ مخالفین کا پراپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ ایمل ولی خان جس تحریک کی نمائندگی کررہے ہیں، انہیں کسی عہدے یا کرسی کی ضرورت نہیں۔ یہ پراپیگنڈہ دراصل وہ لوگ کررہے ہیں جو ایمل ولی خان کی جانب سے سینیٹ کے فلور اور انٹرویوز میں تلخ حقائق سننے کی طاقت نہیں رکھتے۔

عوامی نیشنل پارٹی حکومتی عہدوں اور کرسیوں کی لالچ نہیں رکھتی۔ ولی باغ کو وزارت عظمی اور صدارت تک کی آفرز کی گئی، گذشتہ حکومت میں بھی اے این پی کو کئی بار وزارتوں کی پیشکش ہوئی لیکن ہم اپنے اصولی مؤقف کے ساتھ آج بھی کھڑے ہیں۔ ہم نہ حکومت کا حصہ ہیں اور نا ہی اس کمپرومائزڈ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھیں گے۔ جمہوریت کی بقا، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین کی حکمرانی اور اپنے حقوق کیلئے یہ تاریخی جدوجہد ہمارے خون میں ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

انجینئر احسان اللہ خان
مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی

15/11/2024
خیبر: عوامی نیشنل پارٹی تحصیل جمرود کے زیراہتمام شمولیتی تقریب سے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کا خطاب:ڈی جی آئی ایس پی آ...
15/11/2024

خیبر: عوامی نیشنل پارٹی تحصیل جمرود کے زیراہتمام شمولیتی تقریب سے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کا خطاب:

ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیان سے پوری پختون قوم کا دل دکھا ہے، میاں افتخار حسین
متنازعہ باتیں کرکے ڈی جی آئی ایس پی آر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت اپنے صوبے کا وسائل پر ہمارا آئینی حق ہے
یہ سرزمین اور اس میں موجود قدرتی وسائل ہمیں وراثت میں ملے ہیں
پاکستان کی تمام قومیتوں کا اپنی سرزمین میں موجود وسائل پر آئینی حق ہے
ڈکٹیٹر شپ کا دور گزر چکا، وسائل پر اختیار کا یہ حق ہم نے جمہوریت سے جیتا ہے
انکو قومپرستی کا مطلب تک معلوم نہیں ہے، ہمیں اپنی قومپرستی پر فخر ہے
جس وقت ہم انگریز کو اس سرزمین سے نکالنے کی جدوجہد کررہے تھے اس وقت یہی لوگ انکا ساتھ دے رہے تھے
انگریز نے جہیز اپنےوفاداروں لوگوں کیلئے چھوڑی ہوگی ہمارے لئے نہیں
تاريخ گواہ ہے ہم نے انگریز کی غلامی نہیں کی ہے تو انکے وفاداروں کی کیا کریں گے
کئی ادوار میں مختلف بادشاہتوں نے ہمارے وسائل پر قبضے کی کوشش کی
سینکڑوں سالوں سے ہر بیرونی حملہ آور کو شکست دیکر ہم اپنی سرزمین پر آباد ہیں
ڈی جی آئی ایس پی آر ہمیں طعنے نہ دیں، مطالبہ کرتے ہيں کہ اپنی بات واپس لے
چالیس سال سے ہم پاکستان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اپنوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں
ضیاء دور میں پرائی جنگ کو ہماری سرزمین لاکر پیسوں کی خاطر جہاد بنادیا گیا
ہم نے پیسوں کی خاطر دھرتی نہیں بیچی بلکہ جانوں کے نذرانے دیکر اسکی حفاظت کی
دہشتگردی کی جنگ میں جب سب تماشہ کررہے تھے باچا خان کے پیروکار اس دھرتی کی حفاظت کیلئے کھڑے تھے
ہم دہشتگردوں کا مقابلہ نہ کرتے تو آج پورے پاکستان پر دہشتگردوں کا قبضہ ہوتا
ہم نے اپنے دور میں دہشتگردوں کے مقابلے کیلئے پولیس کو مضبوط کیا
ہم اپنی پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور انکا حوصلہ مضبوط کیا
آج پولیس کو حکومت کی جانب سے تھانوں سے نہ نکلنے کی ہدایات مل رہی ہیں
صوبائی حکومت خود بزدل ہے اور پولیس کو بھی بزدل بنا رہی ہے
پختونخوا کے ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع عملی طور پر دہشتگردوں کے کنٹرول میں ہیں
پختونخوا میں دہشتگردی کا دوبارہ جنم جنرل فیض کی پیداوار ہے
8 فروری کے انتخابات میں ہمارے مینڈیٹ کو بھی جنرل فیض نے ہی چوری کرکے پی ٹی آئی کو دیا ہے
جنرل فیض پر کرپشن کی بجائے قوم کا سودا کرنے کا مقدمہ چلایا جائے
اپنی سرزمین، قوم اور وسائل پر اختیار کی جدوجہد ہم پچھلے سو سال سے کررہے ہیں
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے باچا خان، ولی خان اور انکے ساتھیوں کے ارمانوں کو پورا کیا
اٹھارہویں آئینی ترمیم میں صوبائی خودمختاری ایک تاریخی اور خاموش انقلاب ہے
افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کو بند کرکے پختونوں کو معاشی طور پر کمزور کردیا گیا ہے
مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے
پختونخوا میں معاشی سرگرمیاں بڑھانے کیلئے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے
گڈ اور بیڈ کی تفریق ختم کرکے دہشتگردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے
اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، پاکستان کی تمام اکائیوں کو انکے آئینی حقوق دینے ہوں گے
صوبائی خودمختاری، جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمان اور آئینی کی بالادستی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے

تقریب سے صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، ضلعی صدر شاہ حسین شینواری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Shahbaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Daily Shahbaz:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share