12/10/2025
جماعتِ اسلامی اور مشتاق احمد خان کےلیے ایک خوبصورت موڑ
محمد مشتاق احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشتاق احمد خان صاحب نے بالآخر جماعتِ اسلامی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرلیا ۔ فٹبال میچ میں جب ایسا کام ہوجاتا جسے عام لوگ انہونی سمجھتے لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ ایسا ہونا ہی تھا، تو ایک مشہور فٹبال کمنٹیٹر ایسے موقع پر اپنے مخصوص اسلوب میں کہتے تھے:
It was always there on the cards!
مشتاق صاحب کا جماعتِ اسلامی، اور اس سے قبل اسلامی جمعیت طلبہ، کے ساتھ بہت طویل تعلق رہا؛ اسی طرح کا طویل تعلق ان کی اہلیہ کا بھی رہا ہے اور وہ اب بھی جماعت کا حصہ ہیں۔ مشتاق صاحب نے سینیٹ آف پاکستان میں جس طرح، اور جن موضوعات پر، جس آہنگ کے ساتھ آواز بلند کی، تو جاننے والے جانتے تھے کہ یہ جماعتِ اسلامی کے عمومی مزاج اور اس کے اپنے لیے متعین کردہ حدود (self-imposed limitations) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھا۔ پھر بالخصوص علی وزیر، منظور پشتین، عمران خان اور بلوچستان سے متعلق مسائل پر وہ ایک مستقل موقف رکھتے تھے، لیکن ”نظمِ جماعت“ کے معاملے میں زیادہ حساس طبیعتوں، اور ماضی میں طے کیے گئے مواقف پر متحجر (fossilized) ہونے والے اذہان، کےلیے مستقل موقف کو سمجھنا بہت مشکل، اور اسے برداشت کرنا اس سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ بات پھر بھی کسی نہ کسی طرح چل رہی تھی اور نبھ رہی تھی، لیکن دو عوامل نے بالآخر اس نتیجے تک پہنچا دیا جسے دیوار پر لکھا ہوا دیکھ تو سبھی رہے تھے، لیکن چاہتا کوئی بھی نہیں تھا کہ وہ وقوع پذیر ہو: ایک، فلسطین میں جاری نسل کشی، جس پر مشتاق صاحب اور ان کی اہلیہ نے وہ موقف اختیار کیا جس کی توقع انھیں جماعتِ اسلامی سے تھی، لیکن جسے جماعتِ اسلامی کی قیادت اس طرح، اس شدت کے ساتھ، اختیار نہیں کرسکی؛ دوسرا، حافظ نعیم الرحمان صاحب کا جماعتِ اسلامی کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا؛ جب تک سراج الحق صاحب امیر تھے، معاملہ کسی نہ کسی طرح چل ہی رہا تھا کیونکہ وہ ایک خاص حد سے آگے کسی کو دبانے کے قائل نہیں تھے، جبکہ حافظ نعیم صاحب ہر قیمت پر نظم کی اطاعت کو یقینی بنانا چاہتے تھے؛ جی ہاں، ہر قیمت پر۔
مشتاق صاحب نے پچھلے تین سالوں کے حالات کا ذکر کیا؛ ان حالات میں بہت کچھ ایسا ہے جس کا میں شاہد ہوں اور بہت سے راز ایسے ہیں جن کا میں امین ہوں؛ میں ان کے متعلق کچھ تب تک نہیں کہوں گا جب تک مشتاق صاحب خود ان پر بات نہ کریں، لیکن اتنا تو میں جماعتِ اسلامی کے دوستوں کو ضرور بتاسکتا ہوں کہ اپنے امیرِ محترم کی ”اعلی ظرفی“ اور ”وسعتِ قلبی“ کی داستان کو بہت طول نہ دیں، تو بہتر ہوگا۔ اتنی درخواست بھی ضرور کروں گا کہ کبھی تنہائی میں خود احتسابی کی توفیق ملے، تو ضرور سوچیے گا کہ شاید قصور ہمیشہ جانے والوں کا نہیں ہوتا، بلکہ کبھی کبھار جانے دینے والوں کا بھی ہوتا ہے:
کوئی کارواں سے چھوٹا، کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی!
شاید اس میں فلسطین میں جاری نسل کشی پر شدید دکھ اور بے بسی کے احساس کا بھی عمل دخل ہو؛ شاید اس میں ملک میں برسہا برس سے جاری لاقانونیت، ظلم اور بنیادی حقوق کی پامالی اور اس پر دینی سیاسی جماعتوں کی ناکام پالیسی کا بھی اثر ہو؛ شاید اس میں کچھ اثر مشتاق صاحب کی سیمابی طبیعت کا بھی ہو:
تُو شاخ سے کیوں پھوٹا، میں شاخ سے کیوں ٹُوٹا
اِک جذبۂ پیدائی، اِک لذّتِ یکتائی!
کل سے جاری سوشل میڈیا پر شور و غوغا نے ایک بار پھر اس پر سوچنے پر مجبور کیا کہ تحریکِ اسلامی کی خمیر میں آخر یہ بات کہاں سے آگئی ہے کہ جس نے جماعتِ اسلامی سے علیحدگی اختیار کرلی، وہ ”الجماعۃ“ سے نکل گیا؛ اس نے اقامتِ دین کا کام ترک کردیا؛ وہ گمراہ ہوگیا؛ وہ راندۂ درگاہِ رحمت ہوا؟ کوئی ”ید اللہ علی الجماعۃ“ یاد دلا رہا ہے، تو کوئی ”من شذّ شذّ في النار“ کی بات کررہا ہے؛ کوئی طلبِ جاہ کا الزام لگا رہا ہے، تو کوئی ڈراوا دے رہا ہے کہ جو جماعت سے نکلا، وہ کہیں کا نہیں رہا۔ کئی ایک سنجیدہ لوگوں نے بھی اس طرح کے دعوے کیے کہ پاکستان میں ”مین سٹریم“ جماعتوں سے نکلنے والوں کا انجام براہ ہوا۔
اس سارے شور میں کئی باتیں نظر انداز کی گئیں: مثلاً یہ کہ مشتاق صاحب نے جماعت کے نظم سے آزاد ہونا اس لیے ضروری سمجھا کہ وہ یکسو ہو کر فلسطین کے مسئلے پر اور دیگر مسائل پر، جو ان کے نزدیک پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کےلیے ضروری ہیں، کام کرنا چاہتے ہیں؛ تو کیا حقیقت یہ نہیں ہے کہ نظمِ جماعت کی پابندی کرتے ہوئے ان کےلیے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا؟ کیا اس صورت میں مناسب عمل یہ ہوتا کہ ان پر مسلسل نظمِ جماعت کی خلاف ورزی کا الزام لگتا رہے اور انھیں دبانے اور انھیں تنہا کرنے کی کوشش میں جماعت کے وسائل اور وقت کا بھی ضیاع ہوتا رہے؟ یا یہ کہ وہ نظمِ جماعت کی پابندی سے آزاد ہو کر جسے اپنے تئیں وہ حق اور درست سمجھتے ہیں، اس کی شہادت دیں اور جماعت کو اپنا کام کرنے دیں؟ کیا جماعتِ اسلامی کے نظم میں ایک دفعہ آجانے کے بعد ہمیشہ کےلیے حق جماعتِ اسلامی میں، اور شہادتِ حق جماعتِ اسلامی کے نظم کی جانب سے جاری کردہ موقف کی پورے دل و جان سے نشر و اشاعت میں، محصور ہوجاتا ہے؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا جماعتِ اسلامی کے نظم سے نکلنا مولانا مودودی کی فکر اور ان کی شروع کردہ تحریک سے بغاوت کے مترادف ہے؟ کیا کوئی شخص جماعت کے نظم کے تحت نہ آکر، یا اس نظم سے نکلنے کے بعد بھی، اسی فکر کے پیراڈائم میں نہیں رہ سکتا؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے جماعتِ اسلامی کے احباب نفی میں دیتے ہیں، تو پھر انھیں اس سوال کا جواب بھی خود بخود ہی مل جانا چاہیے، بشرطے کہ وہ تھوڑا سوچنے کی اور خود احتسابی کی زحمت کریں، کہ لوگ ”الخدمت“ کی خدمات کا معترف ہوتے ہوئے بھی، اور ملک میں اسلامی اقدار اور شعائر کے تحفظ کےلیے جماعتِ اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی مثبت کنٹری بیوشن مانتے ہوئے بھی، کیوں انتخابات میں جماعتِ اسلامی کو ووٹ نہیں دیتے؟
ایک دوست نے اس طرف بھی درست توجہ دلائی ہے کہ مردان جیسے شہر میں سالہا سال سے ضلع و تحصیل کی سطح پر انتخابات میں جماعتِ اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کا اتحاد، یا ”سیٹ ایڈجسٹمنٹ“ ہوجاتی ہے، تحصیل ناظم ایک جماعت کا اور ضلع ناظم دوسری جماعت ہوجاتا ہے اور اسے کوئی اسلام و کفر کا ملغوبہ نہیں کہتا، نہ ہی حق و باطل میں سمجھوتہ قرار دیتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت کے کسی فرد کی جانب سے کسی اور سیاسی جماعت میں شمولیت کو اسلام و کفر کا معرکہ بنا دیا جاتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہوجاتا ہے کہ مشتاق صاحب نے کوئی نئی جماعت بنانے کا، یا کسی اور جماعت میں شمولیت کا، نہ صرف یہ کہ اعلان نہیں کیا، بلکہ صریح الفاظ میں ان دونوں امکانات کی نفی بھی کی؛ پھر وہ کیسے راندۂ درگاہِ رحمت قرار پائے؟ ویسے جن لوگوں نے جماعتِ اسلامی یا کوئی اور سیاسی جماعت چھوڑ کر کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے، ان میں سارے ہی ناکام نہیں رہے۔ کئی واضح مثالیں موجود ہیں ایسے لوگوں کی جو دیگر جماعتوں میں جا کر بھی مؤثر کردار ادا کرتے رہے۔ جماعتِ اسلامی کے اثر کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے، اور یہ بڑی حد تک درست بھی ہے، کہ بندہ جماعت سے نکل بھی جائے، تو جماعت اس میں سے نہیں نکلتی۔ چنانچہ ایسے لوگ جنھوں نے جماعتِ اسلامی کو چھوڑ کر کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کرلی، ان میں اکثر ایسے ہیں جو وہاں بھی تحریکِ اسلامی کی فکر پھیلاتے رہے اور اس لحاظ سے جماعتِ اسلامی کا اثر دوسری جماعتوں میں بھی محسوس کیا جاتا ہے، خواہ کوئی اس کا اعتراف کھلے دل سے کرے یا نہ کرے۔
بچپن سے مولانا مودودی کے لٹریچر اور ان کی فکر کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے میں تحریکِ اسلامی سے عمومی طور پر اور جماعتِ اسلامی کے نظم سے وابستہ افراد کو خصوصی طور پر یہ برادرانہ التماس کرتا ہوں کہ یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ پتہ نہیں یہ برِ صغیر کی مخصوص فضا کا اثر ہے یا کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ملن کے موقع پر دھوم دھڑکا اور جدائی کے موقع پر دھول دھپا لازماً ہوتا ہے۔ طلاق کو رسول اللہ ﷺ نے ”أبغض الحلال“ قرار دیا ہے، لیکن قرآن کریم نے طلاق کی صورت میں بھی ”تسریح بإحسان“ کا حکم دیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جو لوگ اکٹھے چل نہیں سکتے، وہ ہنسی خوشی، اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ، پچھلی رفاقتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے، الگ بھی نہیں ہوسکتے؟ ساحرؔ نے کہا تھا:
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اُسے اِک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا!
سعاد خان
Mushtaq Ahmad Khan