Kohistan News

  • Home
  • Kohistan News

Kohistan News Kohistan News is proud to launch a page.
(2)

This platform will showcase high-quality videos, address important social issues concerning the Kohistan region, and actively promote tourism in the area.

جماعتِ اسلامی اور مشتاق احمد خان کےلیے ایک خوبصورت موڑمحمد مشتاق احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مشتاق احمد خان صا...
12/10/2025

جماعتِ اسلامی اور مشتاق احمد خان کےلیے ایک خوبصورت موڑ
محمد مشتاق احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشتاق احمد خان صاحب نے بالآخر جماعتِ اسلامی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرلیا ۔ فٹبال میچ میں جب ایسا کام ہوجاتا جسے عام لوگ انہونی سمجھتے لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ ایسا ہونا ہی تھا، تو ایک مشہور فٹبال کمنٹیٹر ایسے موقع پر اپنے مخصوص اسلوب میں کہتے تھے:
It was always there on the cards!
مشتاق صاحب کا جماعتِ اسلامی، اور اس سے قبل اسلامی جمعیت طلبہ، کے ساتھ بہت طویل تعلق رہا؛ اسی طرح کا طویل تعلق ان کی اہلیہ کا بھی رہا ہے اور وہ اب بھی جماعت کا حصہ ہیں۔ مشتاق صاحب نے سینیٹ آف پاکستان میں جس طرح، اور جن موضوعات پر، جس آہنگ کے ساتھ آواز بلند کی، تو جاننے والے جانتے تھے کہ یہ جماعتِ اسلامی کے عمومی مزاج اور اس کے اپنے لیے متعین کردہ حدود (self-imposed limitations) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھا۔ پھر بالخصوص علی وزیر، منظور پشتین، عمران خان اور بلوچستان سے متعلق مسائل پر وہ ایک مستقل موقف رکھتے تھے، لیکن ”نظمِ جماعت“ کے معاملے میں زیادہ حساس طبیعتوں، اور ماضی میں طے کیے گئے مواقف پر متحجر (fossilized) ہونے والے اذہان، کےلیے مستقل موقف کو سمجھنا بہت مشکل، اور اسے برداشت کرنا اس سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ بات پھر بھی کسی نہ کسی طرح چل رہی تھی اور نبھ رہی تھی، لیکن دو عوامل نے بالآخر اس نتیجے تک پہنچا دیا جسے دیوار پر لکھا ہوا دیکھ تو سبھی رہے تھے، لیکن چاہتا کوئی بھی نہیں تھا کہ وہ وقوع پذیر ہو: ایک، فلسطین میں جاری نسل کشی، جس پر مشتاق صاحب اور ان کی اہلیہ نے وہ موقف اختیار کیا جس کی توقع انھیں جماعتِ اسلامی سے تھی، لیکن جسے جماعتِ اسلامی کی قیادت اس طرح، اس شدت کے ساتھ، اختیار نہیں کرسکی؛ دوسرا، حافظ نعیم الرحمان صاحب کا جماعتِ اسلامی کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا؛ جب تک سراج الحق صاحب امیر تھے، معاملہ کسی نہ کسی طرح چل ہی رہا تھا کیونکہ وہ ایک خاص حد سے آگے کسی کو دبانے کے قائل نہیں تھے، جبکہ حافظ نعیم صاحب ہر قیمت پر نظم کی اطاعت کو یقینی بنانا چاہتے تھے؛ جی ہاں، ہر قیمت پر۔
مشتاق صاحب نے پچھلے تین سالوں کے حالات کا ذکر کیا؛ ان حالات میں بہت کچھ ایسا ہے جس کا میں شاہد ہوں اور بہت سے راز ایسے ہیں جن کا میں امین ہوں؛ میں ان کے متعلق کچھ تب تک نہیں کہوں گا جب تک مشتاق صاحب خود ان پر بات نہ کریں، لیکن اتنا تو میں جماعتِ اسلامی کے دوستوں کو ضرور بتاسکتا ہوں کہ اپنے امیرِ محترم کی ”اعلی ظرفی“ اور ”وسعتِ قلبی“ کی داستان کو بہت طول نہ دیں، تو بہتر ہوگا۔ اتنی درخواست بھی ضرور کروں گا کہ کبھی تنہائی میں خود احتسابی کی توفیق ملے، تو ضرور سوچیے گا کہ شاید قصور ہمیشہ جانے والوں کا نہیں ہوتا، بلکہ کبھی کبھار جانے دینے والوں کا بھی ہوتا ہے:

کوئی کارواں سے چھوٹا، کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی!
شاید اس میں فلسطین میں جاری نسل کشی پر شدید دکھ اور بے بسی کے احساس کا بھی عمل دخل ہو؛ شاید اس میں ملک میں برسہا برس سے جاری لاقانونیت، ظلم اور بنیادی حقوق کی پامالی اور اس پر دینی سیاسی جماعتوں کی ناکام پالیسی کا بھی اثر ہو؛ شاید اس میں کچھ اثر مشتاق صاحب کی سیمابی طبیعت کا بھی ہو:
تُو شاخ سے کیوں پھوٹا، میں شاخ سے کیوں ٹُوٹا
اِک جذبۂ پیدائی، اِک لذّتِ یکتائی!
کل سے جاری سوشل میڈیا پر شور و غوغا نے ایک بار پھر اس پر سوچنے پر مجبور کیا کہ تحریکِ اسلامی کی خمیر میں آخر یہ بات کہاں سے آگئی ہے کہ جس نے جماعتِ اسلامی سے علیحدگی اختیار کرلی، وہ ”الجماعۃ“ سے نکل گیا؛ اس نے اقامتِ دین کا کام ترک کردیا؛ وہ گمراہ ہوگیا؛ وہ راندۂ درگاہِ رحمت ہوا؟ کوئی ”ید اللہ علی الجماعۃ“ یاد دلا رہا ہے، تو کوئی ”من شذّ شذّ في النار“ کی بات کررہا ہے؛ کوئی طلبِ جاہ کا الزام لگا رہا ہے، تو کوئی ڈراوا دے رہا ہے کہ جو جماعت سے نکلا، وہ کہیں کا نہیں رہا۔ کئی ایک سنجیدہ لوگوں نے بھی اس طرح کے دعوے کیے کہ پاکستان میں ”مین سٹریم“ جماعتوں سے نکلنے والوں کا انجام براہ ہوا۔
اس سارے شور میں کئی باتیں نظر انداز کی گئیں: مثلاً یہ کہ مشتاق صاحب نے جماعت کے نظم سے آزاد ہونا اس لیے ضروری سمجھا کہ وہ یکسو ہو کر فلسطین کے مسئلے پر اور دیگر مسائل پر، جو ان کے نزدیک پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کےلیے ضروری ہیں، کام کرنا چاہتے ہیں؛ تو کیا حقیقت یہ نہیں ہے کہ نظمِ جماعت کی پابندی کرتے ہوئے ان کےلیے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا؟ کیا اس صورت میں مناسب عمل یہ ہوتا کہ ان پر مسلسل نظمِ جماعت کی خلاف ورزی کا الزام لگتا رہے اور انھیں دبانے اور انھیں تنہا کرنے کی کوشش میں جماعت کے وسائل اور وقت کا بھی ضیاع ہوتا رہے؟ یا یہ کہ وہ نظمِ جماعت کی پابندی سے آزاد ہو کر جسے اپنے تئیں وہ حق اور درست سمجھتے ہیں، اس کی شہادت دیں اور جماعت کو اپنا کام کرنے دیں؟ کیا جماعتِ اسلامی کے نظم میں ایک دفعہ آجانے کے بعد ہمیشہ کےلیے حق جماعتِ اسلامی میں، اور شہادتِ حق جماعتِ اسلامی کے نظم کی جانب سے جاری کردہ موقف کی پورے دل و جان سے نشر و اشاعت میں، محصور ہوجاتا ہے؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا جماعتِ اسلامی کے نظم سے نکلنا مولانا مودودی کی فکر اور ان کی شروع کردہ تحریک سے بغاوت کے مترادف ہے؟ کیا کوئی شخص جماعت کے نظم کے تحت نہ آکر، یا اس نظم سے نکلنے کے بعد بھی، اسی فکر کے پیراڈائم میں نہیں رہ سکتا؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے جماعتِ اسلامی کے احباب نفی میں دیتے ہیں، تو پھر انھیں اس سوال کا جواب بھی خود بخود ہی مل جانا چاہیے، بشرطے کہ وہ تھوڑا سوچنے کی اور خود احتسابی کی زحمت کریں، کہ لوگ ”الخدمت“ کی خدمات کا معترف ہوتے ہوئے بھی، اور ملک میں اسلامی اقدار اور شعائر کے تحفظ کےلیے جماعتِ اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی مثبت کنٹری بیوشن مانتے ہوئے بھی، کیوں انتخابات میں جماعتِ اسلامی کو ووٹ نہیں دیتے؟
ایک دوست نے اس طرف بھی درست توجہ دلائی ہے کہ مردان جیسے شہر میں سالہا سال سے ضلع و تحصیل کی سطح پر انتخابات میں جماعتِ اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کا اتحاد، یا ”سیٹ ایڈجسٹمنٹ“ ہوجاتی ہے، تحصیل ناظم ایک جماعت کا اور ضلع ناظم دوسری جماعت ہوجاتا ہے اور اسے کوئی اسلام و کفر کا ملغوبہ نہیں کہتا، نہ ہی حق و باطل میں سمجھوتہ قرار دیتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت کے کسی فرد کی جانب سے کسی اور سیاسی جماعت میں شمولیت کو اسلام و کفر کا معرکہ بنا دیا جاتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہوجاتا ہے کہ مشتاق صاحب نے کوئی نئی جماعت بنانے کا، یا کسی اور جماعت میں شمولیت کا، نہ صرف یہ کہ اعلان نہیں کیا، بلکہ صریح الفاظ میں ان دونوں امکانات کی نفی بھی کی؛ پھر وہ کیسے راندۂ درگاہِ رحمت قرار پائے؟ ویسے جن لوگوں نے جماعتِ اسلامی یا کوئی اور سیاسی جماعت چھوڑ کر کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے، ان میں سارے ہی ناکام نہیں رہے۔ کئی واضح مثالیں موجود ہیں ایسے لوگوں کی جو دیگر جماعتوں میں جا کر بھی مؤثر کردار ادا کرتے رہے۔ جماعتِ اسلامی کے اثر کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے، اور یہ بڑی حد تک درست بھی ہے، کہ بندہ جماعت سے نکل بھی جائے، تو جماعت اس میں سے نہیں نکلتی۔ چنانچہ ایسے لوگ جنھوں نے جماعتِ اسلامی کو چھوڑ کر کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کرلی، ان میں اکثر ایسے ہیں جو وہاں بھی تحریکِ اسلامی کی فکر پھیلاتے رہے اور اس لحاظ سے جماعتِ اسلامی کا اثر دوسری جماعتوں میں بھی محسوس کیا جاتا ہے، خواہ کوئی اس کا اعتراف کھلے دل سے کرے یا نہ کرے۔
بچپن سے مولانا مودودی کے لٹریچر اور ان کی فکر کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے میں تحریکِ اسلامی سے عمومی طور پر اور جماعتِ اسلامی کے نظم سے وابستہ افراد کو خصوصی طور پر یہ برادرانہ التماس کرتا ہوں کہ یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ پتہ نہیں یہ برِ صغیر کی مخصوص فضا کا اثر ہے یا کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ملن کے موقع پر دھوم دھڑکا اور جدائی کے موقع پر دھول دھپا لازماً ہوتا ہے۔ طلاق کو رسول اللہ ﷺ نے ”أبغض الحلال“ قرار دیا ہے، لیکن قرآن کریم نے طلاق کی صورت میں بھی ”تسریح بإحسان“ کا حکم دیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جو لوگ اکٹھے چل نہیں سکتے، وہ ہنسی خوشی، اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ، پچھلی رفاقتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے، الگ بھی نہیں ہوسکتے؟ ساحرؔ نے کہا تھا:
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اُسے اِک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا!
سعاد خان
Mushtaq Ahmad Khan

فلوٹیلا میں موجود پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت متعدد افراد کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا۔ دنیا بھر میں...
02/10/2025

فلوٹیلا میں موجود پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت متعدد افراد کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا۔ دنیا بھر میں احتجاج شروع -

سرائیلی فورسز نے غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 37 ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 کارکنوں کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد دنیا بھر میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔

37 ممالک 200 کارکن گرفتار، مشن جاری
ترجمان گلوبل صمود فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے فلوٹیلا میں شامل 37 ممالک کے 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسرائیلی فوجی کشتیوں نے 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل گلوبل فلوٹیلا کو گھیرے میں لیا اور کئی کشتیوں پر پانی کی توپیں چلا دیں۔

غزہ کے قحط زدہ عوام کے لیے امداد لے جانے والے اس فلوٹیلا پر پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور عالمی شہرت یافتہ سماجی رہنما گریٹا تھنبرگ سمیت 500 کے قریب افراد سوار ہیں۔

فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوجی ایک جہاز میں داخل ہوئے اور جہاز پر سوار تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔

پاک فلسطین فورم کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو قابض اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔

پاک فلسطین فورم نے مشتاق احمد خان اور گلوبل صمود فلوٹیلا پر موجود دیگر افراد کی گرفتاری کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر دھرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

News sources: Dawn News

01/10/2025

New Update Mushtaq Ahmad Khan
ہم غ ز ہ سے مزید قریب ہو گئے ہیں اور اب ہمیں دور سے
ازرائیلی جہاز اپنی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آج رات ہم پر حملہ کیا جائے۔ میرا موبائل پہلے ہی ازرائیل نے جام کر دیا ہے لہذا اب اس ناکارہ فون کو میں سمندر برد کرتا ہوں۔
آپ سب سے یہی اپیل ہے جو میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کرتا آیا ہوں کہ اگر آپ غ ز ہ نہیں آ سکتے تو کم از کم تمام دینی و سیاسی جماعتیں اور تمام پاکستانی امریکی سفارت خانے پر لا متناہی پر امن دھرنا دیں کیونکہ امریکہ اس نسل کشی میں ازرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔

بذریعہ اکاؤنٹ ایڈمن

30/09/2025
خواجہ آصف بڑا خوش تھا کہ امریکہ پہنچنے پر مہدی حسن کی جانب سے اسے اپروچ کیا گیا ہے۔ اسے لگا کہ جیسے اب وہ بھی عمران خان ...
28/09/2025

خواجہ آصف بڑا خوش تھا کہ امریکہ پہنچنے پر مہدی حسن کی جانب سے اسے اپروچ کیا گیا ہے۔ اسے لگا کہ جیسے اب وہ بھی عمران خان کی طرح عالمی میڈیا پر ایک مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے گا۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مہدی حسن کے سوالات کی تپش کس قدر جھلسا دینے والی ہوتی ہے

پہلا وار تب ہوا جب مہدی حسن نے عام سے سوالات کے بعد اچانک کہا: "مسٹر آصف، آپ پر الزام ہے کہ آپ نے آٹھ فروری کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چرایا ہے۔ آپ کی حکومت ایک چوری شدہ مینڈیٹ پر کھڑی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے آپ لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا۔"

یہ سنتے ہی خواجہ آصف کا چہرہ بجھ گیا۔ اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ چونک کر اینکر کی طرف دیکھنے لگا، جیسے کوئی طالبعلم امتحان میں مشکل سوال دیکھ کر گھبرا جائے۔ اس نے ہکلانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ سب الزامات ہیں، مگر اینکر نے اگلے ہی لمحے ویڈیو کلپ چلایا جس میں خواجہ آصف خود کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس فارم 45 موجود ہیں اور ان کی بنیاد پر وہ شکست تسلیم کر چکا ہے۔

ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ مہدی حسن نے ایک اور نشتر مارا۔ اس نے کہا: "عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے۔ کیا یہ سیاسی انتقام نہیں؟" خواجہ آصف نے حسبِ روایت کہا کہ عمران خان کرپٹ ہیں۔ لیکن مہدی حسن نے فوراً پلٹ کر کہا: "کیا وجہ ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے یہ مقدمے ان کی حکومت کے دوران سامنے نہیں آئے؟ ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں تو کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ بلکہ آپ کی حکومت کے دوران تو سکینڈلز کی بھرمار ہو گئی۔ پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ عمران خان کرپٹ تھے؟"

خواجہ آصف نے عدالتوں کا ذکر کیا مگر مہدی حسن نے کمال مہارت سے جواب دیا: "کون سی عدالتیں؟ وہی عدالتیں جنہیں آپ نے 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کنٹرول کر لیا؟ وہی عدالتیں جن پر خود ججز نے خط لکھ کر اداروں کی مداخلت کا اعتراف کیا؟"

یہاں خواجہ آصف کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ پسینے میں شرابور ہونے لگا۔ پانی کے گھونٹ لیتا، مائیک کو دیکھتا اور بار بار گلا کھنکھارتا۔ لیکن مہدی حسن کہاں باز آنے والا تھا۔

انٹرویو کے دوران ایک موقع پر اینکر نے کہا: "پاکستان میں تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر نکالا گیا جبکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ کیا یہ سب ریاستی اداروں کے مکمل تعاون کے بغیر ممکن تھا؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کیا۔ مگر مہدی حسن نے تیز لہجے میں کہا: "سپریم کورٹ نے صرف انٹرا پارٹی الیکشنز کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کی جانچ کیوں نہیں ہوئی؟ کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ کھیل نہیں تھا؟"

یہ سوال سنتے ہی خواجہ آصف کے ہاتھوں کی انگلیاں بے قابو ہو کر میز پر بجنے لگیں۔ اس نے سر جھکا کر کچھ مبہم سا کہا، لیکن جھوٹ کا بوجھ اتنا بھاری تھا کہ اس کے چہرے پر عیاں ہو گیا۔

اس کے بعد مہدی حسن نے انسانی حقوق کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ "پاکستان کی جیلوں میں خواتین قید ہیں، ہزاروں کارکنان بغیر مقدمے کے گرفتار ہیں، صحافیوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب آپ کی حکومت نہیں کر رہی؟" خواجہ آصف نے کہا کہ یہ سب نو مئی کے ملزمان ہیں۔ مہدی حسن نے فوراً وار کیا: "نو مئی کی تحقیقات کہاں ہیں؟ اگر تحقیقات ہی نہیں ہوئیں تو پھر کس بنیاد پر ہزاروں کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا؟"

یہاں تو خواجہ آصف کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ اس نے کہا کہ شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں ہوئیں۔ مگر مہدی حسن نے سوال کیا: "کیا واقعی پاکستان کی پولیس اتنی تیز ہے کہ دو دن کے اندر ہزاروں لوگوں کے شواہد حاصل کر لیے گئے اور پھر ان کی بنیاد پہ پندرہ ہزار لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کر لیا گیا؟ یہ دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔"

یہ سن کر خواجہ آصف کی آنکھوں میں گھبراہٹ صاف جھلکنے لگی۔

پھر آئینی ترامیم کی بات آئی۔ مہدی حسن نے کہا: "26ویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی تاریخ کی سیاہ ترین ترمیم کہا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے عدالتوں کو کنٹرول کیا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ترامیم پارلیمنٹ کے ذریعے آئیں۔ مگر مہدی حسن نے فوراً جواب دیا: "کیا یہ سچ نہیں کہ سینیٹرز کو اغوا کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا اور زبردستی ووٹ لیے گئے؟ اختر مینگل کے اپنے سینیٹرز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں دھمکایا گیا۔ تو پھر یہ ترامیم کیسے آزادانہ طور پر منظور ہوئیں؟"

یہاں خواجہ آصف کی حالت اس قیدی جیسی تھی جو قاضی کے سامنے جھوٹ بولنے کی کوشش کرے اور قاضی اس کے سامنے ہر ثبوت رکھ دے۔ وہ بار بار موضوع بدلنے کی کوشش کرتا رہا مگر مہدی حسن بار بار اصل سوال کی طرف لے آتا۔

انٹرویو کے آخری لمحات میں خواجہ آصف مکمل طور پر ہار چکا تھا۔ اس کی آواز بیٹھ گئی تھی، الفاظ ٹوٹ پھوٹ گئے تھے۔ وہ بار بار "یہ عدالتوں کا کام ہے" دہراتا رہا یہ جملہ اب ایک بے بسی کی چیخ بن چکا تھا۔ دوسری طرف مہدی حسن فاتحانہ انداز میں بیٹھا تھا، جیسے شکاری اپنے شکار کو بے بس دیکھ کر مسکرا رہا ہو۔

اسلام آباد پولیس افسر نے ایک دن، جب مشتاق احمد فلسطین کے حق میں اسلام آباد میں ریلی میں شریک تھے، طنزیہ کہا تھا: "فلسطین...
26/09/2025

اسلام آباد پولیس افسر نے ایک دن، جب مشتاق احمد فلسطین کے حق میں اسلام آباد میں ریلی میں شریک تھے، طنزیہ کہا تھا: "فلسطین کی مدد کرنی ہے تو اسلام آباد چھوڑو، غزہ جاؤ۔"
آج انہیں جان لینا چاہیے کہ مشتاق احمد خان واقعی غزہ کی راہ پر نکل پڑے ہیں اور وہ پہنچنے والے ہیں۔

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن شاہ خالد ، شاہ فیصل ، مولوی علی نارنگشاہ خیل کے چھوٹے بھائی شاہ نواز طویل علال...
23/09/2025

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
شاہ خالد ، شاہ فیصل ، مولوی علی نارنگشاہ خیل کے چھوٹے بھائی شاہ نواز طویل علالت کے بعد اس دارِ فانی سے رحلت کر گئے ہیں اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے آمین۔

*مہران یونیورسٹی جامشورو کے سابق وائس چانسلر سید مظفر علی شاہ کی بیوی یتیم خانے میں وفات پا گئیں۔* ```ایک بیٹا فخر علی ش...
21/09/2025

*مہران یونیورسٹی جامشورو کے سابق وائس چانسلر سید مظفر علی شاہ کی بیوی یتیم خانے میں وفات پا گئیں۔*

```ایک بیٹا فخر علی شاہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہے ایک بیٹی ڈاکٹر ہے اور دوسری بیٹی فرح ناز فیصل بینک کی وائس پریذیڈنٹ ہے دوسرا بیٹا قلندر علی شاہ کاروبار زمینیں اور باغات سنبھالتا ہے۔```

بھانجے طلحہ پٹھان نے علاج کے بہانے انہیں ٹنڈو جام لے جا کر یتیم خانے میں چھوڑ دیا جہاں وہ سات مہینے اپنی اولاد کے انتظار میں راہیں تکتے تکتے وفات پا گئیں ہیں۔

اتنی پڑھی لکھی اور بڑے عہدوں پر فائز اولاد ہو اور ماں لا وارثی میں یتیم خانے میں مرے تو ایسی اولاد کو "ڈوب کر مر جانا چاہیے۔"

*ایسی دنیا کی پڑھائی، ایسی دولت, ایسی مصروفیت, ایسی زندگی اور ایسی اولا پر لعنت کہ جس کے حاصل ہونے کے باوجود انسان انسانیت سے گر جائے۔*

یہ ان ماں باپ کے لیے سبق ہے جو بچوں کو دنیا کی پڑھائی کے لیے امریکا ، یورپ اسٹریلیا دنیا کے کونے کونے میں کہاں کہاں نہیں بھیجتے اور دین کی تعلیمات سے دور اور محروم رکھتے ہیں تو آخری میں پیرنٹس کا یہ انجام ہوتا ہے

شکیل اختر۔۔۔زندگی میں پہلی بار  کوئی پوسٹ پڑھنے اور شئیر کرنے کی آپ تمام حضرات سے درخواست ہے۔کوہستان کی ایک گونگی ماں 17...
20/09/2025

شکیل اختر۔۔۔

زندگی میں پہلی بار کوئی پوسٹ پڑھنے اور شئیر کرنے کی آپ تمام حضرات سے درخواست ہے۔

کوہستان کی ایک گونگی ماں 17 سالوں سے اپنے لخت جگر کی راہ تک رہی ہے۔۔

ہماری ایک پھوپھی ہیں،قوت گویائی سے مکمل محروم ہیں، تقدیر انہیں گلگت سے کھینچ کر کوہستان لے ائی اور اپنے شوہر کی خواہش کے مطابق انہوں نے اپنی ساری زندگی وہاں گزار دی،حالانکہ دادا جان نے یہاں گلگت میں انہیں اچھی خاصی جائیداد عطا کی تھی مگر سب کچھ چھوڑ کر وہ کوہستان کے علاقے "سو کوٹ" میں جابسے،ان کے دو بیٹے تھے،بڑا بیٹا محنت مزدوری کر کے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے جب کہ چهوٹے بیٹے کو انہوں دینی تعلیم کے لئے وقف کر رکھا تھا،چهوٹا بیٹا محمد امین ایک ٹانگ سے معذور تھا اور لنگڑا کر چلتا تھا،قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد انہیں مزید تعلیم کے لئے ہری پور بھیج دیا گیا،وہاں کچھ عرصہ زیرِ تعلیم رہنے کے بعد گھر والوں کی مرضی کے خلاف وہ کراچی پہنچے اور یہاں سے ایک ایسی کہانی نے جنم لیا جو اس کے گھر والوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہے۔

2008ءمیں جب وہ کراچی آئے تو اس وقت میں بھی کراچی کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھا،اس نے میرا نمبر ڈھونڈ کر مجھ سے رابطہ کیا اور ملاقات کے لیے میرے پاس تشریف لائے،بات چیت سے معلوم ہوا کہ اس نے پڑھائی کو خیرباد کہہ کر لی مارکیٹ کے قریب کسی اقراء اسکول میں تدریس شروع کی ہے،میں نے انہیں سمجھا یا کہ دوبارہ داخلہ لے کر پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھیں،انہوں نے رمضان کے بعد دوبارہ پڑھائی شروع کرنے کا وعدہ کیا اور چلا گیا،مجھے کیا معلوم تھا کہ ممکنہ طور پر یہ زندگی کی آخری ملاقات ثابت ہوگی...

اس ملاقات کے چند ہفتے بعد ایک رات تقریبا 10 بجے قریب اچانک میرے موبائل پر پی ٹی سی ایل کا ایک نمبر جگمگانے لگا،کال رسیو کرکے موبائل کان سے لگا یا تو ایک ڈری سہمی اور شناسا آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی،بات کرنے والے کے انداز سے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کوئی ہاتھ دھوکر اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے،وہ محمد امین تھا،میں نے ہوچها کیا مسئلہ ہے تو اس کے آخری الفاظ یہ تھے:

"مجھے بچاؤ میرے پیچھے کچھ لوگ لگے ہیں اور میں اس وقت کلفٹن میں ہوں"

اور کال کٹ گئی...

تهوڑی دیر میں سکتے میں رہا اور یہ بات میرے لئے ناقابل یقین اور باعث حیرت تھی کہ ایک بے ضرر اور معذور شخص کے ساتھ کسی کی کیا دشمنی ہوسکتی ہے،بہر حال رات کافی بیت چکی تھی،اس وقت میں کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا،اگلے دن ان سے رابطے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو میں نے فون پر اس کے بھائی کو اطلاع دی اور اپنی بساط کے مطابق اسے ڈھونڈتا رہا،پھر اس کا بھائی بھی کراچی آیا،ہم نے مل کر ہر جگہ ڈهونڈا مگر وہ نہیں ملا...

اس کی جدائی کے غم میں اس کا باپ چل بسا ہے اور حقیقت حال سے بے خبر اس کی گونگی ماں آج17 سال بعد بھی اس انتظار میں ہے اور اشاروں میں لوگوں کو بتاتی ہے میرا بیٹا عالم بن کر اور سر پر پگڑی پہن کر آنے والا ہے... کیوں کہ اسے یہی بتایا گیا ہے...

اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کا معذور بیٹا زندہ بھی ہے یا کسی غلط فہمی میں مارا گیا ہے۔۔

تمام حضرات سے ایک بار پھر گزارش ہے کہ یہ پوسٹ شئیر کریں، شاید آپ کے شئیر کرنے سے ہمارے اس بے ضرر کزن کا کوئی سراغ مل جائے اور ہم 17 سالہ اذیت سے نکل آئیں اور زندگی اور موت کی سرحد پر کھڑی ایک گونگی ماں مرنے سے پہلے اپنے جگر گوشے ایک بار نظر بھر کر دیکھ سکے۔۔۔

نوٹ: یہ تصویر غالبا سن 2002 یا تین کی ہے، اس کے بعد کی ان کی کوئی تصویر نہیں مل سکی۔۔

کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے رابطہ نمبر
03554276574

16/09/2025

اپر کوہستان کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے حوالے سے نے واضح کیا ہے کہ ہسپتال کو 18 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن تک MOU کے مطابق ہسپتال چلایا جائے ورنہ سخت عوامی احتجاج ہوگا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان، اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ندا اور دیگر اہم افسران شریک تھے۔ ہسپتال کے موجودہ مسائل، ڈیڈ لائن کے بعد کی صورتحال اور عوامی دباؤ کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔ ثناءاللہ شاہ نے عوام کے طرف سے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ اگر ہسپتال مقررہ معیار کے مطابق کام نہیں کرے گا تو پبلک احتجاج کرے گی جس کی ساری ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کے اوپر ہوگئ۔
Deputy Commissioner Kohistan Upper

ایڈوکیٹ ثناءاللہ شاہ
16/09/2025

ایڈوکیٹ ثناءاللہ شاہ

اپر کوہستان کی عوام عمائدین اور یوتھ نے ڈی ایچ کیو داسو کی بحالی کیلئے اٹھارہ ستمبر کی ڈیڈلائن دیدی ، اٹھارہ ستمبر تک حک...
11/09/2025

اپر کوہستان کی عوام عمائدین اور یوتھ نے ڈی ایچ کیو داسو کی بحالی کیلئے اٹھارہ ستمبر کی ڈیڈلائن دیدی ، اٹھارہ ستمبر تک حکومت ایم یو منسوخ کرکے 128 بیڈ ہسپتال داسو کا نظام سمبھال لے ورنہ شاہراہ قراقرم بلاک کرکے دھرنا دیا جائیگا جبکہ اس تمام عمل کی ذمہ داری صوبائی حکومت یعنی ڈپٹی کمشنر پہ لاگو ہوگی۔
اعلامیہ

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kohistan News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kohistan News:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share