Aks E Zeest

Aks E Zeest Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aks E Zeest, Digital creator, Karachi.

میری قوسِ قزح کے رنگوں میں ___ آٹھواں رنگ ہے اُداسی کا ۔۔!! 🌈

یقین، احساس اور الفاظ کا حسین امتزاج — 🪻
"عکسِ زیست" ایک ایسا صفحہ ہے جہاں جذبات لفظوں میں ڈھلتے ہیں، اور ہر مصرعہ ایک نئی داستان سناتا ہے۔ 📖✿
دل کی بات - لفظوں کے ساتھ 🌸 میری قوسِ قزح کے رنگوں میں ___ آٹھواں رنگ ہے اُداسی کا ۔۔!! 🌈

یقین، احساس اور الفاظ کا حسین امتزاج — 🪻
"عکسِ زیست" ایک ایسا صفحہ ہے جہاں جذبات لفظوں میں ڈھلتے ہیں، ا

ور ہر مصرعہ ایک نئی داستان سناتا ہے۔ 📖

✿ یہاں آپ لطف اندوز ہو سکتے ہیں :
✨ گہرے احساسات سے لبریز اردو شاعری و ادب پارے
🌸 دل کو چُھو جانے والے اقتباسات اور انتخاب
🎬 جذبات سے بھرپور دلکش ویڈیوز و ریلز
💫 حوصلہ افزا پیغامات اور سوچ کو جگاتے جملے
📜 زندگی کے رنگوں میں ڈھلے خوبصورت خیالات و افکار
🌿 قدرت کے دلکش مناظر اور سکون بخش تصاویر
🌈 ہر منظر، ایک احساس… ہر لمحہ، ایک پیغام

یہ صفحہ اُن حساس دلوں کے لیے ہے جو خاموشیوں میں معنی تلاش کرتے ہیں، اور لفظوں میں زندگی محسوس کرتے ہیں۔
خود کو محسوس کیجیے، لفظوں میں ، فطرت میں ، خاموشی میں 🕊️

عکسِ زیست — دل کی بات، لفظوں کے ساتھ! 💌
📌 ادب و احترام کا دامن تھامے رکھیے!
براہِ کرم نازیبا زبان یا رویہ اختیار نہ کریں۔

🦋 آپ کی موجودگی ، ہمارے صفحے کی رونق ہے۔۔🌼

_𝓢𝓪𝓪𝓭𝓲 ʚɞ

تُمہیں خبر ہے تُمہارے گُزرنے سے اُجاڑ رستوں پر پُھول کِھلتے ہیں،🩵🪽
04/10/2025

تُمہیں خبر ہے تُمہارے گُزرنے سے اُجاڑ رستوں پر پُھول کِھلتے ہیں،🩵🪽

شادی کے اکیس برس بعد، ایک دن میری بیوی نے مجھے ایک طرف بلایا۔ وہ نرمی سے میری طرف دیکھنے لگی اور کہا کہ وہ مجھ سے کچھ چا...
07/09/2025

شادی کے اکیس برس بعد، ایک دن میری بیوی نے مجھے ایک طرف بلایا۔ وہ نرمی سے میری طرف دیکھنے لگی اور کہا کہ وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے: وہ چاہتی تھی کہ میں ایک شام کسی اور عورت کے ساتھ گزاروں۔ اسے کھانے پر لے جاؤں اور شاید بعد میں کوئی فلم بھی دیکھ لیں۔

’’میں تم سے محبت کرتی ہوں،‘‘ اس نے کہا، ’’لیکن مجھے پتا ہے کہ وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم اسے اپنے وقت میں سے تھوڑا سا دو۔‘‘

وہ دوسری عورت میری ماں تھی۔ وہ انیس سال سے اکیلی رہ رہی تھیں، جب سے میرے والد کا انتقال ہوا تھا۔
نوکری، روزمرہ کی زندگی اور تین بچوں کی ذمہ داریوں کے درمیان، میں صرف کبھی کبھار ہی ان سے ملنے جاتا تھا۔

اسی شام میں نے انہیں فون کیا۔ میں نے پوچھا کیا وہ میرے ساتھ کھانے پر چلنا چاہیں گی۔
’’کیا کوئی خاص بات ہے؟‘‘ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں، کچھ خاص نہیں،‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’بس میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کچھ وقت گزاروں۔ صرف ہم دونوں۔‘‘

دوسری طرف طویل خاموشی چھا گئی۔ پھر ان کی بھرائی ہوئی آواز آئی: ’’مجھے یہ بہت اچھا لگے گا۔‘‘

اگلے جمعہ کو میں انہیں لینے گیا۔ مجھے ہلکی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی؛ کافی عرصے بعد ہم دونوں اکیلے کہیں جا رہے تھے۔
انہوں نے بڑے اہتمام سے تیار ہوکر بال سنوارے تھے، وہی لباس پہنا تھا جو انہوں نے پاپا کے ساتھ اپنی شادی کی آخری سالگرہ پر پہنا تھا۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھیں، ان کی مسکراہٹ ایک ننھی بچی کی سی تھی۔
’’میں نے اپنی سہیلیوں کو بتایا کہ آج رات میں اپنے بیٹے کے ساتھ باہر جا رہی ہوں… سب بہت حیران تھیں۔ وہ سب کچھ جاننا چاہتی ہیں!‘‘

ہم نے ایک سادہ سا چھوٹا ریستوران چُنا، جس کا ماحول بہت مانوس اور پر سکون تھا۔ وہ میرے بازو کو ایسے تھامے ہوئے تھیں جیسے کسی بڑی محفل میں آئی ہوں۔
میز پر بیٹھے میں نے مینو اونچی آواز میں پڑھا: ان کی نظر اب کمزور ہو گئی تھی اور مینو کارڈ پر چھپے الفاظ واضح نظر نہیں آتے تھے۔
جب میں نے سر اُٹھایا تو وہ مجھے بڑی محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
’’جب تم چھوٹے تھے تو میں تمہیں مینو پڑھ کر سنایا کرتی تھی…‘‘
’’تو اب یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں آپ کے لیے پڑھوں،‘‘ میں نے مسکرا کے جواب دیا۔

ہم نے کھانا کھایا، باتیں کیں—کوئی غیر معمولی بات نہیں، بس ہم تھے، ہماری زندگیاں، ہماری یادیں۔ ہم اتنی دیر باتوں میں لگے رہے کہ فلم کا خیال ہی نہیں رہا۔ مگر اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ شام ویسے ہی مکمل تھی۔

جب میں انہیں گھر چھوڑنے گیا تو انہوں نے کہا: ’’میں یہ پھر کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن اگلی بار… دعوت میری طرف سے ہوگی۔‘‘
میں نے مسکرا کر کہا: ’’وعدہ۔‘‘

گھر واپس آیا تو بیوی نے پوچھا: ’’کیسا رہا؟‘‘
میں نے کہا: ’’جتنا سوچا تھا، اس سے کہیں بہتر۔‘‘

مگر دوسری ملاقات کبھی نہ ہو سکی۔ چند دن بعد میری ماں اچانک دل کے دورے سے چل بسیں۔

کچھ ہفتوں بعد مجھے ایک لفافہ ملا۔ اندر ریستوران کی رسید تھی۔ انہوں نے پہلے ہی دو افراد کا بل ادا کر رکھا تھا۔ ساتھ ایک چھوٹی سی پرچی تھی، ان کی اپنی لکھائی میں:
’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلی بار موقع ملے گا یا نہیں، اس لیے پہلے ہی ادا کر دیا۔ یہ تم اور تمہاری بیوی کے لیے ہے۔ وہ شام میرے لیے بہت قیمتی تھی۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں، میرے بیٹے۔‘‘

اسی دن میں نے سچ مچ سمجھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔
کتنا ضروری ہے کہ ہم وقت پر ’’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘ کہہ سکیں، اور ان کے لیے وقت نکالیں جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔
کیونکہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز یہی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک انگریزی کہانی سے ماخوذ

مہمان بنیں۔۔۔ بوجھ نہیں۔ 🌼 جب آپ کہیں مہمان کے طور پر جا رہے ہیں تو ان باتوں پر عمل کریں ، کوئی آپ کے گھر بھی مہمان بن ک...
31/07/2025

مہمان بنیں۔۔۔ بوجھ نہیں۔ 🌼

جب آپ کہیں مہمان کے طور پر جا رہے ہیں تو ان باتوں پر عمل کریں ، کوئی آپ کے گھر بھی مہمان بن کے آ سکتا ہے۔

1. اپنا آنا جانا پلان کر لیجیے۔ آپ کو واضح پتا ہونا چاہیے کہ کب نکلنا ہے اور کب پہنچنا ہے۔ کتنے دن رکنا ہے؟

2. میزبان کو اطلاع دیجیے کہ کتنے لوگ اور کب آ رہے ہیں۔ کتنے دن رکیں گے۔ آپ نے اس شہر میں کیا کیا کام کرنے ہیں؟

3. اگر آپ کو شوگر یا ہارٹ کا مسئلہ ہے یا کوئی بھی عارضی ہے تو اپنی ادویات کی کٹ میں سب کچھ رکھ لیں۔ یہ نہ ہو کہ میزبان کے گھر پہنچنے پر آپ شور ڈال دیں کہ انسولین بھول آیا ہوں اور انسولین کی ضرورت ہے۔

4. اگر آپ کوئی دوائی گھر بھول آئے ہیں تو چپکے سے بازار جا کر اپنی دوائی خرید لیں۔ دوائی مہیا کرنا میزبان کے فرائض میں قطعاً شامل نہیں۔

5. میزبان کو بتائیے کہ جو گھر میں سادہ کھانا پکتا ہے ، میں وہی کھانے کا عادی ہوں۔ جو بھی خدمت میں پیش کیا جائے اس میں نقص نہ نکالیں۔ اگر کھانا آپ کی پسند کا نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ ہدایت نمبر چار پر عمل کریں۔

6. میزبان کے سونے اور اٹھنے کے اوقات کی پابندی کریں۔
نمازوں کے اوقات میں وضو پانی اور جائے نماز کا پہلے سے اہتمام کروا لیں۔

7. انٹرنیٹ کا روٹر اور وائی فائی وغیرہ نہ ہونے پر میزبان کو اس کے فضائل نہ بتائیں۔ اپنا ڈیٹا پیکج لگائیں یا صبر کریں۔

8. میزبان کے سامنے گرمی گرمی کا راگ نہ الاپیں۔ گھر والوں کو یہ پہلے سے ہی پتا ہے۔ وہ یورپ میں نہیں رہتے۔

9. میزبان کو بتائیے کہ آپ کو ائیر کنڈیشنر میں سونے سے جسم دکھتا ہے۔ میزبان اور اس کے بچوں کو ہی وہاں سونے دیں۔ دو دن اگر آپ ائیر کنڈیشنر میں نہ سوئے تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔

10. سگریٹ نوشی مت کریں اور نہ اعلان کریں کہ سگریٹ ختم ہو گئے ہیں۔ اگر ایسا ناگزیر ہے تو ہدایت نمبر چار پر عمل کریں۔

11. میزبان کی گاڑی یا بائیک پر قبضہ مت کریں۔ اس کے اپنے بھی کام ہوتے ہیں۔

12. جب آپ کی واپسی ہو تو اصرار مت کریں کہ میزبان آپ کو لاری اڈے یا اسٹیشن تک چھوڑ کر آئے۔ رکشہ یا ٹیکسی پکڑیں اور اپنے گھر پہنچیں۔

13. اگر آپ کو اوپر والی ہدایات پسند نہیں تو بہتر ہے اپنے گھر میں رہیں، مگر میزبان کو برا بھلا مت بولیں۔

14. حالات صرف آپ کے ہی کشیدہ نہیں ہیں میزبان بھی اسی چکی سے گزر رہا ہے۔ وہ بھی پاکستان کا شہری ہے، اس بات کو مدنظر رکھیں۔
بالخصوص چھٹیوں میں کہیں جا کر ڈیرے ڈال کر نہ بیٹھ جائیں، چاہے وہ میکہ (ماں باپ کا) گھر ہو یا بہن بھائی کا۔
کہیں مہمان بن کر گئے ہیں تو گھر والوں یا بچوں کے لیے ضرور کچھ کھانے پینے کی اچھی چیز لے کر جائیں۔ خالی ہتھ لمکا کے جاتے ہوئے آپ اچھے نہیں لگتے۔۔۔ اور ہاں واپسی پر گھر کے بچوں کو کوئی نقدی لازمی دیں۔

15. آخری بات۔۔۔ ہم سب انسان ہیں اور ہم میں خوبیاں خامیاں موجود ہوتی ہیں۔ بس جب بھی کسی کے گھر جائیں تو انسان بن کر رہیں۔
منقول

یُونہی نہ اپنے  ِمزاج کو   چِڑ چِڑا  کیجیےکوئی بات چھوٹی کرے تو  , دِل بَڑا کیجیے
23/07/2025

یُونہی نہ اپنے ِمزاج کو چِڑ چِڑا کیجیے
کوئی بات چھوٹی کرے تو , دِل بَڑا کیجیے

کچھ رشتے رسی کی مانند ہوتے ہیں، جو ہمیں مضبوط بنانے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی وہ ہمیں تنگ کرنے لگتے ہیں۔ ہم کوشش ک...
18/07/2025

کچھ رشتے رسی کی مانند ہوتے ہیں، جو ہمیں مضبوط بنانے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی وہ ہمیں تنگ کرنے لگتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے رہتے ہیں کہ شاید وقت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہو جائے، لیکن ہر لمحہ وہ رسی، ہاتھوں کو اور دل کو مضبوط بناتی چلی جاتی ہے۔ پھر ایک دن خاموشی چیخ بن کر اندر سے اُبھرنے لگتی ہے، اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ تھامنا، خود کو مضبوط بنانے کی علامت ہے۔ تب سمجھ آتا ہے کہ ہر رشتہ نبھانے کے لیے ہوتا ہے، اور کچھ رشتے ہمیں خود کو مضبوط بنانے کے لیے ہوتے ہیں — تاکہ ہم خود کو دوبارہ سانس لیتا ہوا محسوس کر سکیں۔ 🫀

خود کو کھونا، صرف اس لیے کہ کوئی تمہیں پہچانے…؟کبھی ایسا لمحہ آیا ہے کہ تم اپنے اندر کچھ خاص محسوس کرتے ہو،لیکن دنیا تمہ...
17/07/2025

خود کو کھونا، صرف اس لیے کہ کوئی تمہیں پہچانے…؟

کبھی ایسا لمحہ آیا ہے کہ تم اپنے اندر کچھ خاص محسوس کرتے ہو،
لیکن دنیا تمہیں عام کہہ کر گزر جاتی ہے؟

تم اپنی ذات میں مکمل ہو،
مگر لوگ تمہیں اس سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں
جو اُن کے مطابق “قابلِ قبول” ہے۔

وہ جگہ، جہاں تمہاری بات نظرانداز ہو،
تمہاری خاموشی بھی بوجھ لگے،
اور تمہارا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہو —
وہاں رُکے رہنا، گویا خود کو آہستہ آہستہ مٹانا ہے۔

جس تصویر میں تمہارے اردگرد سب کے چہرے لوہے کے ڈبوں میں بند ہوں،
اور تمہارے سر پر سورج مکھی کا کھلا ہوا پھول ہو —
تو یاد رکھنا، تم کمزور نہیں،
بلکہ تم ان سب سے زیادہ زندہ ہو!

لیکن اگر تم وہیں ٹھہرے رہے،
جہاں تمہیں محسوس کرنے والا کوئی نہیں —
تو وہ روشنی، وہ رنگ، وہ خوشبو جو تمہارے اندر ہے،
وہ سب مرجھا جائے گی…
بغیر کسی آواز کے، بغیر کسی ماتم کے۔

*چاہو تو خاموشی میں جیو،*

*لیکن وہاں ہرگز نہ جیو جہاں تمہاری خاموشی کو بھی بے معنی سمجھا جائے۔*

زندگی تمہیں بار بار موقع دیتی ہے —
خود کو پہچاننے، خود کو بچانے،
اور وہاں سے نکل جانے کا
جہاں تم صرف “برداشت” کیے جا رہے ہو،
قدر نہیں کیے جا رہے۔

آخری سطر:

"تم وہ پھول ہو جو روشنی کی تلاش میں ہے،
اندھیرے کے بیچ میں نہ مرو — باہر نکلو، کھلو، اور چمکو!" 🌻

ایسے تعلق کو نبھانے کی ضرورت کیا ہےجو روح کے نہ ختم ہونے والے زخموں کا مرہم بننے کے بجائےمحض ایک نیا چرکا لگا دے؟جہاں مح...
17/07/2025

ایسے تعلق کو نبھانے کی ضرورت کیا ہے
جو روح کے نہ ختم ہونے والے زخموں کا مرہم بننے کے بجائے
محض ایک نیا چرکا لگا دے؟
جہاں محبت کا مقدس دیپ بجھ چکا ہو اور جذبات کی دھرتی بنجر ہو چکی ہو؟
ایسے رشتے کو تھامنے کی ضرورت کیا ہے؟
جو دل کی مہربان دھڑکنوں کو روک دے؟
اور خوابوں کی نرم رمل گداز چادر کو
تلخ حقیقتوں کی خاردار تار سے بدل دے؟
کیا فائدہ اس تعلق کا ؟
جو دو وجودوں کے درمیان پل بننے کے بجائے ایک خلیج کھود دے؟
جو مسکانوں کی بارش کے بجائے آنکھوں میں بے شمار ویرانیاں بھر دے؟
رشتے تو روشنی کے چراغ ہوتے ہیں
جن کے ذریعے دل کے نہاں گوشوں میں امید کی کرن جاگتی ہے
اگر چراغ بُجھ جائے اور اندھیروں کی وحشت بڑھ جائے،
تو کیا ایسے چراغ کا وجود ضروری ہے؟
ایسے بندھن کو توڑ دینا بہتر نہیں؟
جو آزادی کے پر کاٹ دے ؟

جو لفظوں کی شیرینی کے بجائے خاموشی کے زہر میں ڈوب جائے؟
اور جو محبت کے تاج محل کو ریگستان کی ریت میں دفن کر دے؟
زندگی کی کتاب میں ہر باب کا اختتام ضروری نہیں۔۔۔

مگر کچھ باب بند کیے بغیر نئے خوابوں کا آغاز بھی ممکن نہیں
رشتے وہی خوبصورت ہیں جو وجود کو سہارا دیں
خود کو خودی کے تخت پر بٹھا کر اس خالی تعلق سے آگے بڑھ جانا ہی
زندگی کا سب سے حسین فیصلہ ہے۔۔۔۔!

Why Me...???
16/07/2025

Why Me...???

🌙 Your Birth Month – Your Quranic Reminder 🌙Aapka Birth month konsa hai?Comment mein apna month likho — aur Quran ka pai...
13/07/2025

🌙 Your Birth Month – Your Quranic Reminder 🌙

Aapka Birth month konsa hai?
Comment mein apna month likho — aur Quran ka paighaam pao jo Sirf tumhare liye ho sakta hai..💭

👇 Comment your month & tag a friend born that month too!

📝 Note: This is a personal spiritual reflection based on authentic Qur’anic verses. Har Month ke saath ek ayat link ki gayi hai sirf inspiration ke liye — yeh kisi khaas revelation ka daawa nahi....✨

✊🏻
13/07/2025

✊🏻

Address

Karachi
75030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aks E Zeest posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aks E Zeest:

Share