01/14/2026
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس پر حملہ کیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ بدھ کو خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ تہران نے امریکہ کے اتحادی ممالک کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے۔
یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں انہوں نے ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت اور ممکنہ مداخلت کا عندیہ دیا تھا۔ انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق حالیہ احتجاج کے دوران ایران میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 2,600 تک پہنچ چکی ہے، جسے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی اہلکار کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ہوا تو ان ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بھی جوابی کارروائی کی زد میں آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطے معطل کر دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس کی نوعیت اور وقت واضح نہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو امریکہ ’’سخت کارروائی‘‘ کرے گا۔
امریکہ کے فوجی دستے خطے بھر میں تعینات ہیں، جن میں بحرین میں امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ اور قطر میں العدید ایئر بیس شامل ہیں۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں بدامنی کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔