Pind Karnana, Tehsil Kharian, Zillah Gujrat, Punjab

  • Home
  • Pind Karnana, Tehsil Kharian, Zillah Gujrat, Punjab

Pind Karnana, Tehsil Kharian, Zillah Gujrat, Punjab KARNANA is a village in district Gujrat, Punjab, Pakistan. It's also known as "Akhtar Karnana Railway

آج سے 18 سال پہلے آج کے دن 27 اگست، 2007ء کو  ہمارے والدِ گرامی مجاہدِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رح...
27/08/2025

آج سے 18 سال پہلے آج کے دن 27 اگست، 2007ء کو ہمارے والدِ گرامی مجاہدِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا جنازہ ہوا تھا جو کہ علاقہ دھنیالہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔

میرے چھوٹے بھائی حافظ محمد یعقوب داتار صاحب کا اپنے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کی برسی کے موقع پر آرٹیکل

Mujahid e Ahlesunnat Hafiz Muhammad Aslam Chishti - RAIN Dhanyala, Jhelum

Watch Rai Yusuf Raza Dhanyala

27/08/2025
آج میرے والدِ گرامی مُجاہدِ اہلِ سُنت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی اٹھارویں برسی ہے!آپ 26 ا...
26/08/2025

آج میرے والدِ گرامی مُجاہدِ اہلِ سُنت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی اٹھارویں برسی ہے!
آپ 26 اگست، 2007ء کی شام روڈ ایکسیڈنٹ سے انتقال فرما گئے تھے !

رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
Rai Yusuf Raza Dhanyala

برصغیر جنوبی ایشیاء کے کُرسی نشین، مخدوم اور جاگیردار پیر و گدی نشین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رائے یُوسُف رضا دھنیالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماشا...
04/08/2025

برصغیر جنوبی ایشیاء کے کُرسی نشین، مخدوم اور جاگیردار پیر و گدی نشین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ جی،
ہمارے جد امجد رائے دسوندھی چوہان جی کو جن پیر صاحب نے مسلمان کیا تھا، ان پیر صاحب کے پاس بھی یہ کرسی نشین کا سرٹیفیکیٹ موجود تھا۔
لہذا ہمارے پیر صاحب جب جب بھی کنجاہ یا گجرات شہر میں کسی سرکاری دفتر یا ضلع کچہری جاتے تو وہ اپنا کرسی نشین رتبے والا سرٹیفکیٹ بڑے اہتمام کے ساتھ ہمیشہ اپنے ساتھ لے کے جاتے اور کرسی پہ بیٹھنے کا پرمٹ دکھانے پر پھر وہ سرکاری حکام کے رُوبرو بیٹھنے کا اعزاز پایا کرتے تھے۔

بلکہ بعد میں انگریز مہاراج نے حضرت صاحبزادہ پیر مولوی محمد امین چشتی سیالوی رحمۃ فرنگی علیہ کو اپنے علاقے کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مرید کرکے اپنے قابو میں رکھنے اور اُنہیں تاجِ برطانیہ کی اطاعت و غلامی قبول کئے رکھنے کا پابند بنانے کا کارنامہ سر انجام دینے کے پر اپنے علاقے میں مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دے رکھے تھے اور یوں پیر صاحب کسی بھی باغی، گستاخ، نافرمان یا فرنگی کی اطاعت نہ کرنے والے کو چھ ماہ قید کی سزا بھی سنا سکتے تھے۔

پیر صاحب کے گاؤں کا نام پہلے چکوڑی بھِیلو وال (چکوڑی بہلول وال) ہوا کرتا تھا لیکن انگریز سرکار کا وفادار پیر ثابت ہونے پر ان کے گاؤں کو چکوڑی شریف کہا جانے لگا۔ یعنی ایسا گاؤں جہاں انگریز کے باغی اور نافرمان لوگ نہیں بلکہ بڑے شریف لوگ پائے جاتے ہیں اور اس گاؤں میں لاء اینڈ آرڈر کا کوئی خاص مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کیونکہ لوگ نئے نئے بنائے گئے پیر صاحب کے پیروکار ہیں اور خود پیر صاحب سرکارِ انگلشیہ کے وفادار اور وظیفہ خوار ہیں۔

حضرت صاحبزادہ پیر مولوی محمد امین چشتی سیالوی کو شرارتی لوگوں اور اپنی مادرِ وطن کے وفادار اور انگریز کے غدار ہندوستانیوں کو جب چھ مہینے سزا دینے کے مجسٹریٹی اختیارات ملے تو پھر باقاعدہ اُنہیں انگریزی حکومت کی طرف سے وظیفہ بھی ملا کرتا تھا۔
یوں ہمارے نو مسلم خاندان کے پیر صاحب باقاعدہ انگریز کا نمک کھانے والے گدی نشین تھے۔۔۔۔۔

چکوڑی شریف والے پیر صاحب کے اپنے پیر صاحب کا اصل نام تو شمس الدین تھا لیکن تاج برطانیہ کے حسبِ موافق پیری مریدی کا نیٹ ورک تشکیل دینے اور اپنے مریدوں کو برطانوی ہند کے پُرامن شہری کے طور پہ زندگی گذارنے پر آمادہ رکھنے کے صلے میں اُنہیں شمس العارفین کا خطاب دیا گیا۔۔۔۔۔ جبکہ شمس العارفین کے اپنے پیر صاحب پہلے تاج برطانیہ کے ماتحت انگریز فوج میں حوالدار ہوا کرتے تھے لیکن بعد میں اُنہوں نے فوج چھوڑ کر اپنے علاقے کے اکھڑ لوگوں اور خصوصاً پشتونوں کو انگریز کی اطاعت و فرمانبرداری پہ آمادہ رکھنے کا کام پیری مریدی کی شکل میں شروع کر دیا تو اُنہیں انگریز نے پیر پٹھان کے نام سے مشہور کیا۔۔۔۔۔

یوں پیری مریدی کے اپنے نیٹورک کے بانی تونسہ شریف کے پیر پٹھان کا رتبہ سب سے اعلیٰ ہے۔ ان کے بعد سیال شریف کے شمس العارفین کا درجہ بہت بلند ہے اور تیسرے نمبر پہ چکوڑی شریف والی گدی کا۔۔۔۔۔۔

لہذا انگریز نے اتنے بڑے ہندوستان کو قابو کرنے کے اپنے وفاداروں کو استعمال کرکے ہی جنوبی ایشیاء پہ اتنے لمبے عرصے تک حکومت کی تھی ورنہ صرف دس ہزار گورے سپاہی برصغیر کے کروڑوں لوگوں کو کنٹرول تو نہیں کر سکتے تھے۔

کرسی نشینوں، پیروں، مخدوموں، جاگیرداروں، برطانوی ہند کے دیسی سپاہیوں، دیسی پولیس اور دیسی سرکاری ملازموں کے ذریعے ہی تو انگریز نے کروڑوں لوگوں کو قابو میں رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن شکریہ گاندھی اور جناح صاحب کا کہ جن کے طفیل برصغیر کو انگریز سامراج سے آزادی ملی!

لیکن انگریز کی باقیات آزاد پاکستان میں اب بھی اشرافیہ کا درجہ رکھتی ہیں!

🇵🇰 رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
Watch Rai Yusuf Raza Dhanyala

04/08/2025

خُرافات والی زندگی اور کرامات والے عقیدے سے میں تائب ہوکر حقیقت پسند اور سائنس وٹیکنالوجی کا پرستار ہو چکا ہوں کیونکہ تحقیقات اور حقائق سے انکار جاہل ہونے کا سرٹیفیکیٹ اپنے گلے میں لٹکا کے پاگلوں کی طرح اس سیارے پہ گھومتے رہنے کے مترادف ہے، اور میرے آگے پیچھے واقعی جاہلوں کا ایک ہجوم ہے جو ٹیکنالوجی کے سامنے بُری طرح بے بس، لاچار و محکوم اور غیر محفوظ ہے لیکن پھر بھی اپنی پریشانیوں کے حل اور مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے جنوں، چڑیلوں، بھُوتوں، جادو ٹُونے، تعویذ دھاگے، بُری نظر، بُری قسمت، علمِ نجوم، جنم کُنڈلی، بُرجوں اور ستاروں کے اثرات، دنوں کی نحُوست، سایے، دم درود، گٹ، مَنت مُراددوں، چِلے، دعاؤں، وظیفوں، ختم شریف، کرامات، غیبی امداد، مُورتی پوجا، قبرپرستی، پیر پرستی، درباروں مزاروں پہ حاضری، براہمن ازم اور چڑھاوے چڑھانے کے عقیدے کی گندی، بدبودار اور بوسیدہ چادر اوڑھے ہوئے مست ملنگ فقیر بن کر باقی دنیا سے صدیوں پرانی ذہنیت کے ساتھ زندگی جی رہا ہے، اور غربت و افلاس، بیماریوں، پسماندگی، بھوک، تنگدستی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مرتا جا رہا ہے لیکن اپنے بے مقصد اور بے فایدہ عقیدے کے خلاف ذرا سی بات کرنے یا عقل کی کوئی بات بتانے والے پہ حملہ آور ہوکر دانش کا قتل کر دینے پہ ہر وقت تیار رہتا ہے!

اور ایسے ہجوم کی اکثریت کو مسلمان اور ہندو کہتے ہیں جو مناجات کے ذریعے اپنی حاجات پوری کروانے کے مشغلے میں مصروف رہتے ہیں جبکہ باقی دنیا عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کو تیار کرکے اپنی دانش اور محنت سے کائنات کی وُسعتوں کے کھوج میں اپنے سیارے زمین سے مائیگریشن کرنے کے پراجیکٹس پہ کام کر رہی ہے جن کے مقابلے میں سائنس وٹیکنالوجی سے محروم قومیں بشمول مسلمان کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اب کوئی وُقعت نہیں رکھتے!

باقی دنیا کی ترقی و خوشحالی، برتری اور ہم پہ حاکمیت اور غلبہ سائنس وٹیکنالوجی کا مرہونِ منت ہے جبکہ مسلمان اب بھی گڑگڑا کر کشمیر وفلسطین کو آزاد کروانے کی دعائیں مانگنے، کسی معجزے کے ظہور پذیر ہونے اور اپنے جیسے مسٹنڈے پاکھنڈی پِیروں اور گدی نشینوں کی کرامات سے اپنے حالات بدلوانے کی آس میں زمین کی قابلِ رحم مخلوق کے طور پہ کیڑے مکوڑوں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں لیکن حقیقت سے آشنا ہونا نہیں چاہتے کیونکہ حقیقت پانے کے لیے انہیں اپنا فرسودہ عقیدہ اور خرافات کو چھوڑ کر سائنس کی پڑھائی کرنی پڑی گی اور پھر اپنی محنت کے بل بوتے پہ ترقی خوشحالی کا ٹارگٹ خود حاصل کرنا پڑے گا جوکہ ان کے مذہبی اعتقادات کے خلاف بات ہوگی اور یہ لوگ بغیر محنت اور ذاتی کوشش کے بس مناجات اور غیبی امداد کے سہارے دنیا میں سرفراز ہو جانے کی آس میں غلطاں رہنے کی لَت میں مبتلا ہیں بیچارے!

اپنی قوم کے لئے فکرمند،
رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
Watch Rai Yusuf Raza Dhanyala

🇵🇰🌱🪴🌾🌳🌴🌲عشرۂ یومِ آزادی؛ 4 اگست سے 14 اگست 2023ء کے موقع پر شجر کاری مُہم چلائی جائے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✍️ رائے یوسف رضا دھنی...
04/08/2025

🇵🇰🌱🪴🌾🌳🌴🌲

عشرۂ یومِ آزادی؛ 4 اگست سے 14 اگست 2023ء کے موقع پر شجر کاری مُہم چلائی جائے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️ رائے یوسف رضا دھنیالہ ، جہلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھوٹان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پیدا ہونے والی ساری کی ساری کاربن ڈائی آکسائڈ کو وہاں کے شجر جذب کر لیتے ہیں، اور یُوں صاف ترین اور صحت افزأ فضأ، خالص آکسیجن اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک ملک دُنیا میں پہلے نمبر پر بھوٹان ہی ہے کیونکہ بھوٹان کے ستر فیصد رقبے پر جنگلات ہیں جبکہ وہاں کی حکومت نے بے ہنگم آبادی اور ہر طرح کی آلودگی پر قابو پانے کے زبردست ریاستی اقدامات کر رکھے ہیں۔ جبکہ اِس کے برعکس ہمارا ملک پاکستان آلودگی سے نمٹنے کے لئے حکومتی، سماجی اور عوامی سطح پر کسی قسم کا کوئی مؤثر نظام اور خاطر خواہ اقدامات رکھتا ہی نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کسی ملک کے کم از کم بھی سترہ فیصد رقبے پر تو ضرور ہی جنگلات ہونے چاہئیں ورنہ وہ ملک موسمیاتی تبدیلیوں کی زَد میں آکر رہائش کے قابل ہی نہیں رہے گا۔

بدقسمتی سے پاکستان کے محض پانچ فیصد رقبے پر جنگلات باقی بچے ہیں اور اُن میں بھی دن بہ دن کمی واقع ہوتی جا رہی ہے جبکہ پاکستان میں درختوں کی کٹائی کرکے کنکرِیٹ کے گھنے جنگل پورے زور و شور کے ساتھ اُگائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ہاں ہر نیا سال پہلے سے زیادہ تپش زدہ ثابت ہو رہا ہے، اور ہر دوسرے تیسرے سال کسی نہ کسی قدرتی آفت کا بھی ہمیں شکار ہونا پڑتا ہے۔ بے موسمی بارشوں سے سیلاب آجاتے ہیں جبکہ فصلوں کی پیداوار کم تر ہوتی جا رہی ہے۔

ہم وہ ملک تھے جہاں دنیا کا سب سے بہترین چاول پیدا ہوتا تھا، گندم میں ہم خود کفیل تھے، اور پھل، اناج اور خوراک کی پیداوار میں ہم دنیا میں سب سے بہترین خطۂ زمین تھے۔ مگر پھر زرخیز ترین زمینوں کو ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نذر کرنا شروع کر دیا اور یوں ہم گندم یوکرین، روس اور حتیٰ کہ سعودی عرب سے منگوانے لگ گئے۔ لیکن اِس سے ہمارے لئے ایک اور عذاب شروع ہوگیا کہ ہمارا قیمتی زرِمُبادلہ اِمپورٹس کی مَد میں مُلک سے باہر جانے لگ گیا جس کی کمی کو پُورا کرنے کے لیے ہم آئی ایم ایف سے قرض لینے لگ گئے، اور اب ہم اتنا قرض لے چکے ہیں کہ اپنے ملک کے تمام قیمتی اثاثے گِروی رکھوا کر پہلے لئے ہوئے قرضوں کی سُود کی قسطیں واپس کرنے کے لئے مزید سُودی قرض لیتے جا رہے ہیں جس کا انجام ہماری تباہی و ہلاکت اور اجتماعی خود کُشی کی شکل میں جلد ہی سامنے آنے کو ہے۔

لیکن اِس ساری صورتحال کے باوجود پاکستان میں کچھ جماعتیں، تنظیمیں، این جی اوز، لکھاری، صحافی، دانشور اور فکرمند ہم وطن ایسے بھی موجود ہیں جو بہت تھوڑے پیمانے پر ہی سہی لیکن اپنے طور پہ مقدُور بھر کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ پاکستانی قوم کم از کم ماحولیاتی تبدیلیوں کے عذاب سے بچنے کے لئے اجتماعی شعور اور ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرے۔

اس ضمن میں دعوتِ اسلامی پاکستان خاص طور پہ حسبِ روایت اِس ساون کے موسم اور اگست 2023ء کے مہینے میں شجر کاری مُہم پہ ملک بھر میں مُتحرک ہو چکی ہے جو اپنی طرف سے لوگوں کو مُفت پودے فراہم کر کے زیادہ سے زیادہ درخت اُگانے پہ آمادہ کر رہی ہے۔

اِسی طرح کچھ مزید تنظیمیں بھی اپنی اپنی سطح پہ شجر کاری پہ زور دے رہی ہیں جبکہ ہمارے ایک سوبر پاکستانی تارکِ وطن جناب بیرسٹر ارشد پسوال صاحب نے بھی مانچسٹر، برطانیہ سے اپنے پاکستانی دوستوں کے ذریعے اِمسال عشرۂ آزادی کو عشرۂ شجرکاری میں بدل ڈالنے اور 4 اگست سے 14 اگست 2023ء تک ملک بھر میں مورِنگا یعنی سُہانجنے کے پودے زیادہ سے زیادہ لگانے کی اپیل کر رکھی ہے کیونکہ پاکستان کی آزادی ساون کے مہینے میں ہمیں ملی تھی تو برسات کا یہ موسم شجرکاری کے لئے سب سے بہترین وقت ہوتا ہے جب ہماری زمین آسمان سے نائٹروجن ملے پانی کے برسنے سے ہریالی سے مالا مال ہو جاتی ہے تو ایسے میں پودے اُگانے کا سیزن عروج پر ہوتا ہے۔

بیرسٹر چودھری ارشد پسوال صاحب نے اِس سال سوہانجنا اُگانے کی مُہِم کا آغاز اِس لئے کیا ہے کیونکہ ایک تو یہ پودا ہمارے اپنے خطے کا ہے۔ دوسرا یہ کہ اِس پودے پر ترقی یافتہ ممالک میں ریسرچ مکمل ہو چکی ہے، اور سائنسی طور پہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سُہانجنے کا پودا اپنے اندر اِس طرح کی تمام اور مکمل غذائیت رکھتا ہے کہ جس کی انسانی جسم کو ہر وقت اَشد ضرورت ہوتی ہے، اور سُہانجنے کے پتے، ٹہنیاں، شاخیں، پھلیاں، چِھلکے، مُولی جیسی نازک جڑیں اور تنا وغیرہ سب کے سب انسانی خوراک کے طور پہ استعمال کئے جا سکتے ہیں، اور اسی لئے سُہانجنے کو زندگی کا درخت (لائف ٹرِی) کہا گیا ہے جس میں ہر جاندار کی غذائی ضرورتوں اور جسمانی نشوونما کے لئے بہت سے اجزاء پائے جاتے ہیں۔

پس ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کے گاؤں کراڑیوالہ کلاں نزد ڈنگہ کے برطانیہ میں مُقیم بیرسٹر چودھری محمد ارشد پسوال صاحب نے میرے توسّط سے سُہانجنے کے پودے خرید کر لوگوں میں تقسیم کروانے کی مُہم شروع کی ہوئی ہے، اور وہ اپنے نزدیکی علاقوں و جہلم اور گجرات کے اضلاع میں لوگوں کو شجرکاری عشرے کے دوران سُہانجنے کے پودے مُفت مُہیا کر کے لائف ٹرِی کو اپنے اپنے گھروں، دیہاتوں اور اضلاع میں اُگانے پہ آمادہ کر رہے ہیں تاکہ کم از کم ہر گاؤں اور علاقے میں زندگی کے درختوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ اور لوگوں میں مورِنگا کی افادیت کے بارے میں بیداری پیدا ہو سکے۔

بیرسٹر ارشد پسوال صاحب کا کہنا ہے کہ اگر آپ 2023ء کے ساون میں سُہانجنے کے پودے لگا کر اُن کی مناسب دیکھ بھال کریں تو اگلے سال کے ساون تک وہ ایک تناور درخت بن بھی چکا ہوگا کیونکہ سُہانجنا ہمارے ہی خطے کا پودا ہے تو اپنے آبائی وطن کی زمین اور موسم میں دھریک کی طرح یہ بھی بہت تیزی کے ساتھ بڑھوتری کرنے والا پودا بن کے سال بھر میں درخت بن جاتا ہے اور اگلے ہی سال آپ اِس کی جڑوں کی مُولیوں سے اچار ڈال سکتے ہیں، اِس کے پتے پیس پر سفُوف بنا کے روزانہ ایک چمچ کھا کر اپنی صحت اور جوانی کو برقرار رکھ سکتے ہیں، اور اِس کی پھلیوں، چھِلکے اور ٹہنیوں تک کو غذا کے طور پہ استعمال کر سکتے ہیں جو آپ کے بدن کی کئی طرح کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے کام آتا ہے۔

لہذا جہاں ہمیں دعوتِ اسلامی پاکستان کے میٹھے میٹھے بھائیوں کی ہر سال کی شجرکاری مُہم کو سراہنا اور اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے، ویسے ہی سوبر برطانوی پاکستانی بیرسٹر ارشد پسوال صاحب کی ڈونیشن اور سُہانجنے کے پودوں کی مُفت فراہمی کے ذریعے ہر گاؤں میں مورِنگا کے زیادہ سے زیادہ پودوں کو اُگا کر زندگی کے درخت کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جوڑ لینا چاہئیے کیونکہ سُہانجنا ہمارے بڑھاپے کو ٹالنے اور ہمارے بدن کو توانأ رکھنے کے سب سے زیادہ کام آتا ہے۔

بیرسٹر ارشد پسوال صاحب کا پیغام ہے کہ ہر مسجد کے خطیب کو جمعہ کے اجتماعات میں یومِ آزادی کے موقع پر لوگوں کو شجرکاری عشرے کی ترغیب دینی چاہئیے تاکہ لوگوں میں شجرکاری کی اہمیت کا احساس پیدا ہو اور صاحبِ حیثیت لوگ اپنے اپنے پیاروں کے ایصالِ ثواب اور صدقۂ جاریہ کے طور پہ اِس سال کی شجرکاری مُہم میں حصہ لے کر اپنے اپنے گھروں، گاؤں اور علاقے، سکولوں، ہسپتالوں، قبرستانوں، شاہراہوں اور عوامی مقامات پر جھنڈیوں سے زیادہ پودے لگائیں جو کہ انسانی جانیں بچانے، تپش کو گھٹانے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو کم کرکے آکسیجن کی خالص مقدار کی فراہمی بڑھانے کے لئے ہمارا بہترین علاج، حل اور ناگزیر ضرورت ہیں۔

جہلم فورم اور گجرات فورم سے وابستہ برطانوی پاکستانیوں چودھری مطلوب گجر صاحب آف کھرالہ، ضلع جہلم اور بیرسٹر چودھری محمد ارشد پسوال صاحب آف کراڑیوالہ کلاں، ضلع گجرات (دونوں) نے دیارِ غیر سے سوشل میڈیا کے ذریعے اور اِنفرادی رابطے کر کر کے زبردست بیداری مُہم شروع کر رکھی ہے، اور وہ برطانیہ و وطنِ عزیز کے آئمہ اور خُطبأ سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اُن کی شجرکاری مُہم میں بہتر طور پر مُعاون بنیں کیونکہ وہ جمعہ کے خطبہ جات میں لوگوں کو صدقۂ جاریہ کے طور پہ ساون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ پودے اُگانے پہ قائل اور آمادہ کر سکتے ہیں۔ لہذا ہر مسجد کا خطیب اپنے اپنے خُطبے میں یومِ آزادی کے موقع پر لوگوں کو شجرکاری کی اہمیت سے ضرور آگاہ کرے کیونکہ اجتماعی کوششوں سے ہی کسی قوم کو اپنے مسائل سے نبٹنے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے، اور پاکستان تو پہلے سے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی شدید لپیٹ میں آیا ہوا ملک ہے جس کا خمیازہ ہم پچھلے سال تباہ کُن سیلاب اور ہر سال اپنے ملک کے جغرافیے میں ملکی آبادی کی ضرورت سے کم گندم پیدا ہونے کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں مہنگائی کے عذاب، آمدنی میں کمی اور ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کی وجہ سے لوگوں کا معیارِ زندگی دن بہ دن گرتا جا رہا ہے جس کے سبب کروڑوں پاکستانی صحت کے مسائل اور غذائی کمی کے شکار ہو چکے ہیں تو ایسے میں پاکستان بھر میں لائف ٹرِی یعنی مورِنگا کے پودوں کو زیادہ سے زیادہ اُگانے کی ضرورت ہے کیونکہ سُہانجنا ایک ایسی بہترین متبادل غذا فراہم کرنے والا پودا ہے کہ جس کے پتے پتے، جڑوں اور پھلیوں میں انسانی جسم کو درکار خوراک قدرت نے کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے، اور غذائی بحران کی صورت میں سوہانجنے کا بطورِ غذا استعمال انسان کی صحت کے لئے بہترین فُوڈ سپلیمنٹ، اکسیر، جنرل ٹانک اور وٹامنز کا کام دیتا ہے، اور جدید طبی تحقیقات نے اسی لئے سوہانجنے کو زندگی کا پھل ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا ہوا ہے، لیکن افسوس کہ ہماری قوم کو غذا کے اتنے اہم، سادہ، سستے بلکہ مُفت مل پانے والے ذریعے کے بارے میں معلومات، آگاہی، شعور اور تربیت ہی نہیں ہے۔ بس یہی وجہ ہے دو سوبر برطانوی پاکستانیوں نے اس سال وطنِ عزیز میں زیادہ سے زیادہ مورِنگا یعنی سُہانجنا اُگانے کی ترغیب دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے بلکہ ضلع جات جہلم و گجرات کے جو لوگ دو دو پودے اپنی جیب سے خرید کر نہیں لگا سکتے، اُنہیں بیرسٹر ارشد پسوال صاحب اور چودھری مطلوب گجر صاحب نے اپنی طرف سے خرید کر مُفت مُہیا کرنے کا کام بھی شروع کیا ہوا ہے، اور اُن کا ٹارگٹ یہ ہے کہ اِس سال ہر گاؤں میں کم از کم دس پودے سُہانجنے کے ضرور لگوائے جائیں تاکہ لوگوں کو جب خوراک سے مالامال اِس پودے کی اہمیت کا اندازہ اور یقین ہو تو اُنہیں اپنے اپنے گاؤں سے اِس کے پتے، پھلیاں اور جڑوں کی پھلیاں مُفت حاصل ہو سکا کریں۔

میں ذاتی طور پہ دعوتِ اسلامی پاکستان اور دو سوبر پاکستانی تارکینِ وطن کی طرف سے اس سال یومِ آزادی کے موقع پر عشرۂ شجرکاری مُہم شروع کرنے پر زبردست مبارکباد دیتا ہوں اور اپنے علماء اور تمام صائبُ الرائے پاکستانیوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں کی مزید تباہ کاریوں سے بچ سکیں اور غذائی بحران پر قابو پا سکیں۔ اور اس سال زیادہ سے زیادہ مورِنگا کے درخت لگانے اور سُہانجنے کے طبی اور غذائی فوائد سے لوگوں کو واقف کروانے پر سب سے زیادہ زور دیا جانا چاہئیے کیونکہ یہ پودا مریضوں کے لئے ایک مؤثر علاج اور ہر صحت مند انسان کے لئے اپنے آپ میں ایک مکمل غذا اور ہمارے لئے پھل، روٹی اور روزمرہ کے کھانوں کا بہترین مُتبادل بھی ہے جبکہ ماحول کی بہتری میں بھی یہ بہت کارآمد درخت ہے۔
لہذا سُہانجنا اُگاؤ، کھاؤ اور صحت وتندرستی کے مزے اُڑاؤ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Rai Yusuf Raza Dhanyala,
Jhelum, Punjab, Pakistan 🇵🇰

WhatsApp #
03022844622
🙏🌴🌲🌱🌳

📲
Watch Rai Yusuf Raza Dhanyala
🇵🇰

31/07/2025

🍷 in 🍾To with & 's with by 📱...

26/07/2025

ہر فرد عالی نسب ہوتا ہے۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنگ، نسل، زبان، علاقے، مال و دولت، قدرتی وسائل، زمین جائیداد، حسب نسب اور عہدے کے لحاظ سے کوئی کسی سے انسانی طور پہ برتر یا کمتر نہیں ہوتا۔۔۔۔!

اسلام میں بھی برتری کا معیار تقویٰ اور اچھے اعمال ہیں!

دوسروں سے پیدائشی یا نسلی طور پہ برتر ہونے کا احساس برصغیر میں ہزاروں سال پہلے براہمنوں نے اپنایا اور ہندوستان کی مقامی نسلوں کو انہوں نے خود سے کمتر قرار دیا۔۔۔!

برصغیر پر قبضے کے بعد شروع میں آریاؤں نے صرف خود کو ہی اُونچی نسل جبکہ باقی ساری انسانیت کو خود سے کمتر اور نیچ قرار دیا ہوا تھا۔

یعنی آج کے سب کے سب پاکستانیوں کے آباؤاجداد آریاؤں کی نظر میں کبھی نیچ، کمین اور گھٹیا نسل ہوا کرتے تھے۔

لیکن ساتویں صدی عیسوی میں عرب مسلمانوں کی فتوحات کے ڈر سے انہوں نے برصغیر، جنوبی ایشیأ کے مقامی نسلوں کے سرداروں کو اپنے سے کمتر مگر باقی انسانوں سے برتر قرار دے کر اُنہیں راجہ یا راجپوت کا لقب دیا۔

یوں سوا ہزار سال پہلے ہندوستانیوں کے طاقتور قبائل کی ایک نئی درجہ بندی راجپوت کے نام سے کی گئی جس کے مقاصد سیاسی تھے تاکہ یہ قبائل خود کو لڑاکا سمجھ کر براہمنوں کا دفاع کریں۔ اور مقامی سردار اسی میں خوش ہو گئے کہ آریاؤں نے ہمیں دوسرے درجے کی اونچی ذات قرار دے دیا ہے۔۔۔۔!

یوں برصغیر میں براہمن اور راجپوت دو اونچی ذاتیں وجود میں آئیں جبکہ کاشتکار (کسان) اور مزدور دو نیچ ذاتیں قرار دے دی گئیں!

آریاؤں نے خود کو سب سے اونچی ذات بنائے رکھا جبکہ اپنے آپ سے کمتر لیکن دوسرے انسانوں سے برتر ان لوگوں کو (راجپوت) قرار دیا جنہوں نے عرب مسلمان حملہ آوروں کا مقابلہ کرکے براہمنوں، یعنی اونچی ذات والوں کا دفاع کرنا تھا۔۔۔۔!

جبکہ براہمنوں کی مکاری یا خباثت دیکھئیے کہ اُنہوں نے کاشتکاروں (کسانوں) اور مزدور پیشہ لوگوں کو دو نیچ ذاتوں میں بانٹ دیا:
* کسانوں/ کاشکاروں/ کھیتی باڑی کرنے اور مویشی پالنے والوں کو آریاؤں نے ویش (نیچ ذات) بنایا
* جبکہ دیگر دستکاری پیشوں کے ساتھ وابستہ لوگوں کو اس نے شودر (نیچ ذات) ٹھہرایا۔

آریاؤں کے ذات پات کے فارمولے کے مطابق آج کی 99 فیصد پاکستانی آبادی دو نیچ ذاتوں پر مشتمل ہے کیونکہ یہاں کے سب زمیندار بھی ویش (نیچ) اور دستکار بھی شودر (نیچ) کیٹیگری میں آتے ہیں۔

اسی لئے تو آج بھی ہندوستانی آریا پاکستان کو نیچ لوگوں کا ملک سمجھتے ہیں۔۔۔۔!

برصغیر میں یہ اونچ نیچ اور ذات پات کا نظام آج سے چار ہزار سال پہلے حملہ آور اور قابض آریاؤں نے قائم کیا تھا۔

یہ وہی وقت تھا جب مڈل ایسٹ میں بنی اسرائیل نے اپنی نسلی برتری کی تاریخ لکھی اور اپنے آپ کو بزعم خود باقی تمام انسانیت سے اعلیٰ، برتر، مقدس اور اونچی نسل قرار دے لیا۔۔۔۔!

یہودی آج بھی خود کو باقی انسانوں سے برتر نسل سمجھتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہندوستان میں براہمن آج بھی خود کو دوسرے انسانوں سے اونچی ذات اور مقدس نسل سمجھتے ہیں۔

برصغیر میں مسلمان ہونے والے لوگوں نے بھی اپنی مقامی ذہنیت کے تحت چار ہزار سالہ پرانی اونچ نیچ کو آج بھی اپنایا ہوا ہے اور خود کو کسی نہ کسی سے کمتر اور بہت سے لوگوں سے برتر سمجھتے ہیں۔۔۔۔ حالانکہ براہمن اور یہودی ہم سب مسلمانوں کو اپنے آپ سے کمتر نسل سمجھتے ہیں۔۔۔۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی دوسری قوم، نسل سے برتر یا کمتر سمجھنا اصل میں تہذیبی پسماندگی اور جہالت کی دلیل ہے۔

پیدائشی طور پہ کوئی کسی سے کمتر یا برتر نہیں ہوتا بلکہ ہر فرد پیدائشی طور پہ عالی نسب ہوتا ہے لیکن بعد میں اپنے اعمال، اخلاق اور کردار کی وجہ سے ہم میں سے کوئی زیادہ عزت پاتا ہے جبکہ برا آدمی اپنی عزت کھو دیتا ہے۔۔۔۔!

پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا بھی آخری خطبہ یہی ہے کہ کسی کالے کو گورے پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پہ کوئی برتری حاصل نہیں بلکہ ہم میں سے برتر اور باعزت وہ ہے جس کا کردار اچھا ہے۔۔۔۔!

اسلام میں کوئی بھی مسلمان یہودیوں یا براہمنوں کی طرح اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں سے نسلی یا پیدائشی طور پہ برتر یا کمتر نہیں ہے۔

یعنی اسلام میں مسلمانوں کے براہمن موجود نہیں ہیں۔ لہذا کوئی بھی مسلمان اگر اپنے آپ کو مسلمانوں کا براہمن سمجھ کر دوسروں پہ اپنی نسلی برتری جتلائے تو وہ اصل میں اپنی ہندوؤآنہ ذہنیت اور تہذیبی پسماندگی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔۔۔۔!

ویسے بھی آج کے سب زمین زادے ہومو سیپئینز نوع کے انسان ہیں۔ یعنی ہم سب موجودہ زمانے کے انسان بنیادی طور پہ ایک ہی انسانی نوع ہومو سیپئین سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا اب اگر ہومو سیپئینز میں سے کوئی خود کو برتر سمجھے اور دوسروں کو نسلی طور پہ اپنے آپ سے کمتر سمجھے تو یہ ذہنی پسماندگی اور خباثت کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔!

ویسے بھی ہم سب برصغیر جنوبی ایشیاء کے باشندے مخلوط نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

میں نے جب اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو خود کو دنیا بھر کی نسلوں کو مرقع، مرکب، مجموعہ اور نمائندہ پایا۔۔۔۔۔!

آپ بھی اگر اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں گے تو دنیا کے ہر براعظم کے لوگوں، قوموں، کالے گورے قبیلوں، دھرموں، مذہبوں، علاقوں کے انسانوں کے جِینز اپنے اندر موجود پائیں گے۔ اور پھر ان میں سے کس کس نسل، قبیلے کے لوگوں کو آپ خود سے کمتر یا برتر سمجھیں گے پلیز؟

پاکستان بننے کے بعد یہاں براہمن اور راجپوت کا غلبہ تو ختم ہو گیا لیکن دبے دبے لفظوں میں وہ لوگ خود کو مسلمانوں کے براہمن منوانے لگ گئے جو خود کو پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نسل قرار دینے لگے ہیں حالانکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا Y کروموسوم تو آگے ٹرانسفر ہی نہیں ہوا تھا جبکہ ان کے XX کروموسومز آٹھ، دس نسلوں میں ہی نئی نئی عورتوں کے جینیاتی ورثے سے Replace ہو گئے تھے۔

اس حقیقت کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو جینیٹکس کا علم رکھتے ہیں جبکہ جہلا بدستور برصغیر کی براہمنی ذہنیت کے اسیر ہیں بیچارے۔۔۔۔!

لیکن اصل دین تو یہ ہے کہ خود کو پیدائشی اور نسلی طور پہ بدستور برتر قرار دینے والے مسلمانوں کے دعوے کو پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آخری خطبے کی رُو سے سختی کے ساتھ جھٹلا دیا جائے۔

اصل میں جو لوگ مسلمان ہو کر بھی خود کو پیدائشی یا نسلی طور پہ دوسرے انسانوں سے برتر قرار دیتے ہیں وہ درحقیقت توہینِ رسالت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ برصغیر کے سادہ لوح لوگوں کی جہالت دیکھئے کہ وہ توہینِ رسالت کرنے والے اور پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک نسل پرست حکمران ثابت کرنے والوں کو مسلمانوں کے براہمن تسلیم کرکے ان کی پوجا کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔!

لہذا کسی دوسرے کو نسلی طور پہ اپنے آپ سے برتر تسلیم کرنا اصل میں ہندوؤآنہ ذہنیت اور فکری پسماندگی ہے پلیز!

انگریز نے برصغیر میں کافی سارے لوگوں کو مراعات اور جاگیریں دیں اور یوں انگریز کی وجہ سے زمیندار کو کافی ساری اہمیت حاصل ہوئی حالانکہ ہندوؤآنہ معاشرے میں زمین دار کو ویش یعنی ایک نیچ نسل سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔!

لیکن پاکستان بننے کے بعد جب براہمن اور راجپوت کا نئے ملک میں راج ختم ہو گیا تو دھیرے دھیرے یہاں سید نام کے لوگ مسلمانوں کے براہمن جبکہ زمیندار طبقہ راجپوتوں کی سی دوسرے درجے کی اونچی نسل بننے لگا۔۔۔۔۔ یعنی پاکستان میں نسلی برتری کے لئے نئے طبقات وجود میں آنے لگے جبکہ جو دستکار طبقات ہیں وہ نئے اسلامی ملک میں بھی شودر ہی سمجھے جانے لگے۔۔۔۔۔!

جنوبی پنجاب اور سندھ میں تو کل کے ویش آج خود کو ٹھاکر (راجپوت) سمجھتے ہیں جبکہ دستکار لوگوں کو اسی طرح خود سے کمتر سمجھنے لگ گئے ہیں جیسے پاکستان بننے سے پہلے آریا اور راجپوت ان کے اپنے آباؤاجداد کو ویش اور اپنے خدمت گار سمجھا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔!

یعنی ایک اسلامی ریاست بننے کے باوجود نسلی امتیاز اور پیدائشی طور پہ کسی کا اونچا یا نیچا رتبہ اور مقام و مرتبہ طے کرنا پاکستان میں جاری ہے اور یہاں پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نام پہ کچھ لوگ مسلمانوں کے براہمن بننے کی کوشش میں ہیں جبکہ ویش اب راجپوتوں کا سا درجہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر فرد عالی نسب ہوتا ہے اور کسی کو کسی دوسرے پر نسلی طور پہ کوئی برتری حاصل نہیں ہے اور ہم میں سے ایک ایک فرد کے اندر بیسیوں عالمی نسلوں کے جِینز موجود ہیں، اور ہم سب مخلوط نسل کے انسان ہیں، لہذا مجھ سمیت برصغیر جنوبی ایشیاء کا کوئی ایک بھی شخص کسی ایک مخصوص نسل، قبیلے، گوت، ذات، برادری، علاقے کی جینیاتی وراثت نہیں رکھتا بلکہ ہم میں سے ایک ایک فرد کے جِینز افریقہ کے حبشیوں کے ساتھ بھی ملیں گے، یہودیوں کے ساتھ بھی ملیں گے، آریاؤں، مغلوں، یورپیوں، کالے گورے لوگوں، دراوڑوں، ترکوں، چینیوں، ایرانیوں، عربوں اور دور دراز کے انسانوں کے ساتھ بھی میچ کر جائیں گے۔ تو ایسی رنگا رنگ قسم کی ورائٹی رکھنے والے برصغیر کے لوگ کیسے کسی ایک نسل، قوم، گروہ کو دوسروں سے کمتر یا برتر قرار دے سکتے ہیں جبکہ وہ خود بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے انسانوں کے خونی رشتے دار اپنے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہو رہے ہیں۔۔۔۔

خلاصہ یہ کہ ہم میں سے کوئی کسی دوسرے سے کمتر یا برتر نہیں ہے اور ہر فرد عالی نسب ہے اور ہم سب بنیادی طور پہ ایک ہی ہومو سیپئین انسانی نوع سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ہومو سیپئینز بھی ارتقائی شکل میں قدیم مگر معدوم انسانی نسلوں کے اختلاط سے وجود میں آئے تھے۔۔۔۔۔!

والسلام،
✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
🇵🇰

Watch Rai Yusuf Raza Dhanyala

20/06/2025

: & Haji Muhammad ...

📱0️⃣3️⃣4️⃣2️⃣میرا پہلا پہلا موبائل نمبر اور اُس سے جُڑی ہوئیں دردناک یادیں!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ۔...
01/06/2025

📱0️⃣3️⃣4️⃣2️⃣
میرا پہلا پہلا موبائل نمبر اور اُس سے جُڑی ہوئیں دردناک یادیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی وہ وقت بھی تھا جب میرے پاس Insta کا موبائل نمبر:
0342-4874879
ہوا کرتا تھا۔
غالباً یہ 1996ء یا 1997ء کی بات ہے!

اُس زمانے میں پاکستان میں Paktel اور Insta، دو ہی بڑی موبائل کمپنیاں ہوا کرتی تھیں اور ان کا نمبر SIM میں نہیں بلکہ موبائل ہینڈسیٹ میں پروگرامنگ کے ذریعے فِیڈ ہوا کرتا تھا، اور آدھ فُٹ لمبے اور موٹے سے موٹرولا موبائل فون کا لمبا سا انٹینا باہر نکال کر سگنل کیچ کئے جاتے تھے تو تب بات ہوا کرتی تھی۔ یا پھر گھروں کی چھتوں پہ اُونچے سے انٹینے لگا کے رکھنے پڑتے تھے۔

بعد میں جب Mobilink کمپنی آئی تو اُس نے GSM سروس کا آغاز کیا تو یوں SIM ڈالنے کا زمانہ شروع ہوا اور موبلنک چھا گئی۔

اِنسٹا کا نمبر میرے پاس شاید 2003ء تک چلتا رہا اور تب انڈیا میں اپنی نو مسلم منکوحہ (اُلفت رضا) کو میں اسی نمبر سے کالیں کیا کرتا تھا جس کا کوڈ بعد میں بدل کر 0342 سے 0320 ہو گیا تھا۔

اس زمانے میں انسٹا اور پاکٹیل نمبروں کے کوڈ بھی پاکستانی شہروں کے پی ٹی سی ایل کوڈ ہی ہوا کرتے تھے۔ فرق صرف یہ ہوا کرتا تھا کہ شہر کے کوڈ سے پہلے 3 لگا دیا جاتا تھا جس سے شناخت ہو جایا کرتی تھی کہ یہ پی ٹی سی ایل کا نمبر نہیں بلکہ موبائل نمبر ہے۔
جیسے میرا موبائل نمبر 4874879 لاہور کا ہوا کرتا تھا اور لاہور کا پی ٹی سی ایل کوڈ 042 ہے تو میرے موبائل کا کوڈ 0342 ہوتا تھا۔

اسی طرح میرے جن دوستوں کے اسلام آباد کے موبائل نمبر ہوا کرتے تھے تو اُن کے کوڈ 0351 ہوتے تھے۔ کراچی والوں کے 0321 اور فیصل آباد والوں کے 0341، وغیرہ وغیرہ۔

بعد میں موبائل کمپنیوں کو اپنے الگ الگ کوڈ نمبر دے دئیے گئے تھے جن کے ساتھ شہروں کے کوڈ نمبر نہیں لگا کرتے تھے۔
جیسے انسٹا کمپنی کو پورے ملک کے سب نمبروں کے لئے 0320 کوڈ دیا گیا جبکہ نئی آنے والی موبلنک کمپنی کو 0300 کوڈ الاٹ کیا گیا تھا۔

موبلنک کمپنی چونکہ جی ایس ایم سسٹم پہ سِم کے ساتھ سروس مہیا کرتی تھی، لہذا جلد ہی موبلنک مقبولیت حاصل کر گئی اور پاکٹیل اور انسٹا کی سروس کم ہوتی چلی گئی۔

پھر غالباََ 2003ء میں AIMS آپریٹنگ سسٹم والی Analog پاکٹیل اور انسٹا موبائل کمپنیاں پاکستان میں ختم ہو گئیں تو اس کے بعد تو اکیلی موبلنک کا راج شروع ہوا جو مشرف دور میں آکے تب ٹوٹا جب مزید GSM کمپنیوں ٹیلی نار، وارد، یوفون اور زونگ کی سروسز شروع ہوئیں!

انسٹا کا نمبر بند ہو جانے پر پھر میں نے موبلنک کی کئی سمیں لیں اور چھوڑیں تاآنکہ یوفون، زونگ، جاز اور ٹیلی نار کی پھر ایک ایک سِم مستقل رکھ لی جو ابھی بھی میرے نام پہ ہیں اور چل رہی ہیں!

لاہور کوڈ کے ساتھ میرا پہلا انسٹا والا نمبر 03424874879 بعد میں ٹیلی نار کمپنی کی طرف سے کسی کو ایشو ہوا جو میں نے کچھ سال پہلے ان سے خرید لینے کی کوشش تو کی تھی لیکن وہ لوگ اس نمبر کے ساتھ میری وابستگی کو سمجھنے سے قاصر تھے لہذا انہیں میری بات بھی سمجھ نہ آئی کہ میں کیوں ان کا نمبر لینا چاہتا ہوں۔

لاہور کوڈ کے بعد انسٹا کے اپنے کوڈ کے ساتھ جب میرا نمبر چلا تو وہ کوڈ بعد میں وارد کمپنی کے حصے میں آیا اور اب وارد کو موبلنک نے چونکہ خرید لیا ہوا ہے تو یہ نمبر اب جاز کے نیٹورک پہ کسی فیملی کے پاس چل رہا ہے جو اکثر بند اور کبھی کبھی آن ہوتا ہے۔
کاش وہ یہ 03204874879 والا نمبر مجھے دے دیں تو میری یادیں تازہ ہو جائیں کیونکہ اس کے آخر پہ میری پہلی محبوب بیوی کا پیدائشی سن 79ء موجود ہے اور اسی نمبر سے ہم دونوں پاک بھارت میاں بیوی کا آپس میں رابطہ قائم رہتا تھا!

میں نے اس نمبر 03204874879 سے اپنی نو مسلم بھارتی بیگم اور سِکھ سسرالیوں کو تب بٹھنڈے (مشرقی پنجاب) لاکھوں روپے کی کالیں کی تھیں۔ شاید ہی تب کسی نے پاکستان سے انڈیا میں اپنے عزیزوں کو اتنی کالیں کی ہوں گی جتنی میں نے بھٹِنڈہ میں اپنی گھر والی اور سسرالیوں کو کی تھیں۔

یہ وہی بٹھنڈہ ہے جہاں 6 اور 7 مئی 2025ء کو پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہوکر بھارت کا رافیل طیارہ گرا تھا جبکہ 10 مئی کو پاکستان نے جوابی حملے میں بھٹنڈہ ائیر بیس بھی تباہ کر دیا تھا۔

تقسیم سے پہلے بٹھنڈہ برصغیر کا سب سے بڑا ریلوے جنکشن ہوا کرتا تھا جبکہ اب یہ ایشیاء کا سب سے بڑا کنٹونمنٹ ایریا ہے۔

لیکن مجھے سیاسی باتوں سے غرض نہیں بلکہ میرا پہلا سسرال اور میرا دوسرا گھر یہی بٹھنڈہ بنا تھا۔۔۔۔۔!

تاریخ کبھی نہیں مٹتی اور یادیں کبھی نہیں مرتیں، انسان مر جاتے ہیں!
0️⃣3️⃣2️⃣0️⃣

📲 رائے یُوسُف رضا دھنیالہ

Rai Muhammad Yusuf Raza Dhanyala-Pakistan Journalist
📲
Watch Rai Yusuf Raza Dhanyala
🇵🇰

Address


Telephone

+923022844632

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pind Karnana, Tehsil Kharian, Zillah Gujrat, Punjab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share