Chichawatni چیچہ وطنی سٹی نیوز

  • Home
  • Chichawatni چیچہ وطنی سٹی نیوز

Chichawatni  چیچہ وطنی سٹی نیوز Pakistan

04/12/2025

Please like 👍👍👍👍👍👍👍
03/12/2025

Please like 👍👍👍👍👍👍👍

چاچو جی ھم کیسے لگ رہے ھے۔۔
03/12/2025

چاچو جی ھم کیسے لگ رہے ھے۔۔

03/12/2025

#

یہ ایک خوبصورت پیغام دیتی تصویر ہے اس میں چوہدری طفیل نواز لیگ اور پی ٹی آٸی سے میجر سرور ہیں جو انتہاٸی خوشگوار انداز م...
03/12/2025

یہ ایک خوبصورت پیغام دیتی تصویر ہے اس میں چوہدری طفیل نواز لیگ اور پی ٹی آٸی سے میجر سرور ہیں جو انتہاٸی خوشگوار انداز میں گپ شپ کر رہے ۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ آپس میں ایسے ہی دشمنیاں تخلیق کر لیتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں مگر جن کیلٸے ایسا کرتے ہیں وہ آپس میں گپ شپ محبت کا انداز برقرار رکھتے ہیں ۔ہمیں بھی سیاسی مخالفت میں آپس میں تفرقہ اور دوری نہیں کرنی چاہیے۔

Big shout out to my newest top fans! 💎 Reha Butt, Hafiz Bilal Ahmad, Muhammad UsamaDrop a comment to welcome them to our...
03/12/2025

Big shout out to my newest top fans! 💎 Reha Butt, Hafiz Bilal Ahmad, Muhammad Usama

Drop a comment to welcome them to our community,

03/12/2025

03/12/2025

03/12/2025

03/12/2025

”اس ذات پر درود پڑھئےﷺ جو اپنے دونوں گھٹنوں پر بیٹھ گئے اور ایک بچے سے تعزیت کی جس کی چڑیا مر گئی تھی“

صلی الله علیہ وآلہ وسلم ❤️❤️

*ایک صحابی کا انتہائی ایمان افروز واقعہ...!* ❤️‍🩹‏حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے روم سے لڑنے کے لیے ایک فوجی دستہ روا...
03/12/2025

*ایک صحابی کا انتہائی ایمان افروز واقعہ...!* ❤️‍🩹

‏حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے روم سے لڑنے کے لیے ایک فوجی دستہ روانہ کیا، اس دستے میں ایک نوجوان صحابی عبد اللہ بن حذافہ بن قیس السھمی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ مسلمانوں اور قیصر کی فوج کے درمیان لڑائی نے طول پکڑ لیا، قیصر مسلمانوں کی بہادر اور ثابت قدمی پر حیران ہوا ‏اور حکم دیا کہ مسلمانوں کا کوئی جنگی قیدی ہو تو حاضر کیا جائے۔ عبد اللہ بن حذافہ کو لا کر حاضر کیا گیا جن کے ہاتھوں اور پاوں میں ہتھکڑیاں تھی، قیصر نے ان سے بات چیت شروع کی تو ان کی ذہانت سے حیران رہ گیا، دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:-
قیصر: نصرانیت قبول کر لے تمہیں‏رہا کر دوگا۔
عبد اللہ: نہیں قبول کروں گا۔
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا
عبد اللہ: نہیں
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت دوں گا اور تمہیں حکمرانی میں شریک کروں گا
عبد اللہ: نہیں، اللہ کی قسم اگر تم مجھے اپنی پوری مملکت، اپنے آباواجداد کی مملکت،‏عرب وعجم کی حکومتیں بھی دے دو تو میں پلک جھپکنے کے برابر بھی اپنے دین سے منہ نہیں موڑوں گا۔
قیصر غضبناک ہوا اور کہا : تجھے قتل کر دوں گا،
عبد اللہ: مجھے قتل کردے۔
قیصر نے حکم دیا کہ ان کو ایک ستون پر لٹکا کر ان کے آس پاس تیروں کی بارش کی جائے (ڈرانے کے لیے) پھر اس کو عیسائیت‏قبول کرنے یا موت کو گلے لگانے میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے۔
جب قیصر نے دیکھا کہ اس سے بھی بات نہیں بنی اور وہ کسی حال میں بھی اسلام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو حکم دیا کہ اسکو قید میں ڈال دو اور کھانا پینا بند کر دو ۔۔۔ عبد اللہ کو کھانا پینا نہیں دیا گیا‏یہاں تک کہ پیاس اور بھوک سے موت کے قریب ہو گئے تو قیصر کے حکم سے شراب اور خنزیر کا گوشت ان کے سامنے پیش کیا گیا۔۔۔
جب عبد اللہ نے یہ دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ میں وہ مضطر( پریشان حال) ہوں جس کے لیے یہ حلال ہے، مگر میں کفار کو خوش کرنا نہیں چاہتا، یہ کہہ کر‏کھانے کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ یہ بات قیصر کو بتائی گئی تو اس نے عبد اللہ کے لیے بہترین کھانا لانے کا حکم دیا ، اس کے بعد ایک حسین وجمیل لڑکی کو ان کے پاس بھیجا گیا کہ ان کو چھیڑے اور فحاشی کا مظاہر ہ کرے۔۔۔اس لڑکی نے بہت کوشش کی مگر عبد اللہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی‏اور اللہ کےذکر میں مشغول رہے۔۔۔
جب لڑکی نے یہ دیکھا تو غصے سے باہر چلی آئی اور کہا : تم نے مجھے کیسے آدمی کے پاس بھیجا میں سمجھ نہ سکی کہ وہ انسان ہے یا پتھر۔۔۔ اللہ کی قسم اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ میں مذکر ہوں یا مونث!!
جب قیصر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور وہ عبد اللہ کے‏بارے میں مایوس ہوا تو ایک پیتل کی دیگ منگوائی اور اس میں تیل ڈال کر خوب گرم کیا اور عبد اللہ کو اس دیگ کے سامنے لایا اور ایک دوسرے مسلمان قیدی کو زنجیروں سے باندھ کر لایا گیا اور ان کو اٹھا کر اس ابلتے تیل میں ڈالا گیا جن کی ایک چیخ نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ہڈیاں‏الگ ہو گئیں اور تیل کے اوپر تیرنے لگی، عبد اللہ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے، اب ایک بار پھر قیصر عبد اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور نصرانیت قبول کرنے اور اسلام چھوڑنے کی پیش کش کر دی مگر عبد للہ نے انکار کر دیا۔
قیصر غصے سے پاگل ہو نے لگا اور حکم دیا کہ اس دیگ میں موجود تیل‏ اٹھا کر عبد اللہ کے سر پر ڈال دیا جائے، جب قیصر کے کارندوں نے دیگ کھینچ کر عبد اللہ کے قریب کی اور اس کی تپش کو عبد اللہ نے محسوس کیا تو وہ رونے لگے!!
آپ کی ان خوش نصیب آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے جن آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور دیکھا تھا!!‏یہ دیکھ کر قیصر خوشی سے جھومنے لگا اور کہا : عیسائی بن جاو معاف کر دوں گا۔
عبد اللہ نے کہا : نہیں
قیصر: تو پھر رویا کیوں ؟
عبد اللہ : اللہ کی قسم میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میری ایک ہی جان ہے جو اس دیگ میں ڈالی جائے گی ۔۔۔ میری یہ تمنا ہے کہ میری میرے‏سر کے بالوں کے برابر جانیں ہوں اور وہ ایک ایک کر کے اللہ کی راہ میں نکلیں۔۔۔
یہ سن کر قیصر نے مایوسی کے عالم میں عبد اللہ سے کہا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے سر کو بوسہ دو اور میں تمہیں رہا کروں؟
عبد اللہ: اگر میرے ساتھ تمام مسلمان‏ قیدیوں کو رہا کر تے ہو تو میں تیرے سر کو بوسہ دینے کے لیے تیار ہوں۔
قیصر : ٹھیک ہے۔
عبد اللہ نے اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو رہا کرنے کے لیے اس کافر کے سرکوبوسہ دیا اور سارے مسلمان رہا کر دیے گئے۔
جب واپس عمر بن الخطاب کے پاس پہنچ گئے اور آپ کو واقعہ بتا دیا گیا‏تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دینا ہر مسلمان پر ان کا حق ہے اور خود اٹھے اور عبد اللہ کے سر کو بوسہ دیا ۔ رضی اللہ عنھم

*☝🏻 تمام احباب رئیکٹ لازمی کیا کریں کیونکہ اس سے آپ کی دلچسپی نظر آتی ہے جتنے چست آپ رہیں گے اُس سے بڑھ کر ہم پوسٹنگ کریں گے* 🙏🏻

‏سرنگ والا سپاہی!!! امام ابن قتیبہ نے اپنی مشہور کتاب "عیون الأخبار" (۱۲۶۶) میں ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ مسلم افواج کے سپہ...
03/12/2025

‏سرنگ والا سپاہی!!!
امام ابن قتیبہ نے اپنی مشہور کتاب "عیون الأخبار" (۱۲۶۶) میں ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ مسلم افواج کے سپہ سالار حضرت مسلمہؒ نے ایک قلعے کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ چالیس روز گزر گئے مگر قلعہ ناقابلِ تسخیر بنا رہا۔ غور و خوض کے بعد انھوں نے ایک سرنگ کے راستے سے شہر میں داخل ہونے اور صدر دروازے کھولنے کی پلاننگ کی۔ کام بڑے جوکھم کا تھا، اس لیے کسی کو مجبور کرنے کے بجاۓ انھوں نے رضاکارانہ طور پر کسی کو بھی اپنا نام پیش کردینے کی ہدایت کی۔ مگر فوج میں سے کوئی بھی سامنے نہیں آیا۔ شام ڈھلے ایک سپاہی آگے آیا، اس نے اپنا چہرہ جنگی خود میں چھپا رکھا تھا۔ وہ جان کی بازی لگا کر سرنگ کے راستے قلعے میں داخل ہوا اور مسلمانوں کے لیے صدر دروازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح مسلمانوں کو فتح سے نوازا۔

فتح کے بعد حضرت مسلمہ نے عام منادی کرائی کہ سرنگ میں داخل ہونے والا سپاہی سامنے آئے تاکہ علانیہ اس کے ساتھ اعزاز واکرام کا معاملہ کیا جاسکے، مگر کوئی نہیں آیا۔ تین دن تک مسلسل اعلان کیا جاتا رہا، مگر نتیجہ وہی رہا۔ تھک کر انھوں نے اعلان کرایا کہ میں نے اپنے خادمِ خاص کو اجازت دے دی ہے کہ سرنگ میں داخل ہونے والا مجاہد جس وقت بھی چاہے مجھ سے ملنے آجائے۔ وہ براہِ راست میرے پاس آسکتا ہے۔ اسے روکا نہیں جائے گا اور میں قسم دے کر اس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے ایک بار ضرور آکر ملے۔

اس منادی کے بعد رات کے آخری پہر میں ایک شخص آیا اور خادم سے حضرت مسلمہ کے پاس لے چلنے کی درخواست کی۔ حاضرین وخدام نے پوچھا کہ کیا تم ہی سرنگ والے سپاہی ہو؟ اس نے کہا: "میں وہ نہیں ہوں، لیکن میں تمھیں اسکے بارے میں بتا سکتا ہوں۔" خادموں نے جاکر یہ بات حضرت مسلمہ کو بتائی تو وہ فی الفور ملنے کے لیے رضامند ہوگئے۔

ملاقات ہوئی تو اس آدمی نے کہا: "سرنگ والے سپاہی نے آپ سے ملنے کی تین شرطیں رکھی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا نام خلیفۃ المسلمین کے سامنے ذکر نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اسے کسی قسم کا انعام نہ دیا جائے۔ تیسرے یہ کہ اس سے پوچھا نہ جائے کہ وہ کون ہے، کس قبیلے سے ہے اور کہاں اس کا گھر ہے۔" حضرت مسلمہ نے تینوں شرطیں مان لیں تو اس آدمی نے کہا: "سرنگ والا سپاہی میں ہوں۔"
اور چلا گیا۔

راوی کہتا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے حضرت مسلمہ کا معمول تھا کہ اکیلے نماز پڑھتے یا جماعت کی امامت کرتے، وہ نماز کے بعد بہ آوازِ بلند یہ دعا ضرور مانگتے تھے کہ "اے اللہ، میرا حشر، اس سرنگ والے سپاہی کے ساتھ فرما۔ اے اللہ اپنے گمنام بندے کو اپنی بہشت میں جگہ دے کر اس کا شایان شان اکرام فرما۔"

جب بھی اس واقعے کو یاد کرتا ہوں، عجیب کیفیت دل پر طاری ہوجاتی ہے۔ کیا آج ہماری صفوں میں کچھ سرنگ والے دکھائی دے رہے ہیں؟ کیا ہماری تحریکوں اور جماعتوں میں کچھ سرنگ والے موجود ہیں؟ کیا ہمارے اداروں میں کچھ سرنگ والے موجود ہیں؟ دوسروں کو چھوڑیے، کیا ہم خود سرنگ والے ہیں یا اس جیسا بننے کا حوصلہ اور عزم رکھتے ہیں؟

( منقول)

اف یہ جادہ کہ جسے دیکھ کے ڈر لگتا ہے
کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chichawatni چیچہ وطنی سٹی نیوز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share