UNA News

UNA News *ہر خبر سے رکھیں ہم آپ کو با خبر*
(1)

01/11/2025
01/11/2025

चुनाव आयोग को अपना नाम अनंत आयोग रख लेना चाहिए । अनंत सिंह ही आयुक्त हैं। वे चालीस नहीं चार सौ गाड़ी लेकर चलें कुछ नहीं होगा। बाद में टाई लगाकर आयुक्त जी आएंगे और ज्ञान देंगे कि चुनाव में इतने लोगों ने वोट किया। सब अच्छा रहा। मजाक तो हो ही रहा है।
Ravish Kumar ✍️

شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی نمائش جامعہ کے تاریخی ورثے اور علمی سفر کی خوب صورت عکاسی کرتی ہے /پروفیسر مظہر آصفجامعہ کے 105ویں...
30/10/2025

شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی نمائش جامعہ کے تاریخی ورثے اور علمی سفر کی خوب صورت عکاسی کرتی ہے /پروفیسر مظہر آصف

جامعہ کے 105ویں یوم تاسیس کے موقع پرشعبہ اسلامک اسٹڈیزکا اسٹال شائقین کی توجہ کا مرکز
30/اکتوبر2025
پریس ریلیز(نئی دہلی)

”جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد فکرِ اجمل،اخلاص گاندھی اور عزم علی برادران کے امتزاج سے رکھی گئی تھی اور یہی امتزاج آج بھی اس ادارے کی پہچان، اس کی روح اور فکری تسلسل کا مظہرہے۔“ان خیالات کا اظہارپروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ، نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 105ویں یوم تاسیس کے موقع پر بزم طلبہ کی جانب سے منعقدتین روزہ(29 تا31/ اکتوبر) ثقافتی پروگرام کے دوران کیا۔انہوں نے مزید فرمایا کہ جامعہ کا سفر عزم، قربانی اور علمی وقار کی روشن تاریخ ہے۔ یہ ادارہ ان لوگوں کی خوابوں کی تعبیر ہے جنہوں نے تعلیم کو قومی بیداری اورترقی کا ذریعہ بنایا۔اسی دوران انہوں نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اسٹال نمبر 33میں ایک خصوصی نمائش بہ موضوع ”جامعہ کا سفر:1920سے وکست بھارت 2047“ تک کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش جامعہ کے تاریخی ورثے اور علمی سفر کی خوب صورت عکاسی کرتی ہے۔پروفیسر اقتدار محمد خان،صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیزاور ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز نے فرمایا کہ جامعہ کے بانیان نے جس خواب کی تعبیر کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں،آج وہ خواب علم،تحقیق اور سماجی ہم آہنگی کی صورت میں پورا ہوتا دکھائی دے رہاہے۔ بزم طلبہ کے مشیر ڈاکٹر خورشید آفاق نے کہا کہ اس موقع پر منعقد ثقافتی سرگرمیاں جیسے غزل سرائی، خطاطی،مباحثہ،اوپن مائک اور نمائش وغیرہ دراصل اس علمی و تہذیبی روایت کا تسلسل ہیں جو جامعہ کی شناخت اورفکری وراثت کا حصہ رہی ہے،نیز ایسی سرگرمیاں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، فکری وابستگی اورعلمی ذوق کا مظہر ہیں۔اسی دوران ایک متاثر کن ڈاکومنٹری بہ موضوع”جامعہ ملیہ اسلامیہ: علم،ارادے اور تعمیر کا سفر“ جسے عمارہ خاتون، شاہین شہزادی،نجیب الرحمن،بلال احمد،ثناء،محمد اسحق اور محمد کیف کی ٹیم نے تیار کیا تھا، دکھائی گئی۔غزل میں پہلی پوزیشن حاتم عزیز بیگ،دوسری ظہیر، تیسری محمد معاذنے حاصل کی۔ ثقافتی پروگرام اورنمائش کے انعقاد میں بزم طلبہ کے نائب صدر توقیر علی،جنرل سیکریٹری خدیجہ،جوائنٹ سکریٹری محمد عمرخان اوراقراء سیفی کے علاوہ صائمہ ناز، مصعب،شمس الدین، عفت نور، زوہیب،علما،ثوبیہ، گلفام، مریم، ناصرہ، فرحت، درخشاں، سعدیہ، مدیحہ،زید،بلال،صبیحہ،منزہ نازعروج فاطمہ،سمیہ خاتون اور فارحہ ارشاد وغیرہ کا اہم کردار رہا۔

جمعیت علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا اجلاسمولانا محمود اسعد مدنی کو دوسری بار جمعیت علماء ہند کا صدر متفقہ طور پر منتخب کیا...
29/10/2025

جمعیت علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس

مولانا محمود اسعد مدنی کو دوسری بار جمعیت علماء ہند کا صدر متفقہ طور پر منتخب کیا گیا۔

کمیٹی نے مسلمانوں پر دراندازی اور آبادیاتی تناسب بدلنے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔

جمعیت علماء ہند کی مجلسِ عاملہ نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ غیر مصدقہ اور فرقہ وارانہ بیانات سے گریز کرے۔

وقف ایکٹ 2025 کو اوقاف کی مذہبی شناخت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے جمعیت نے اعلان کیا کہ وہ قانونی و جمہوری سطح پر اس کی بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی۔

کہا گیا کہ فلسطین میں پائیدار امن صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر منحصر ہے۔

اعظم گڑھ کی شان – مولانا مسعود خان مرحوماعظم گڑھ کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب، دیانت و خدمت اور اخلاص و قربانی کی مثال ر...
28/10/2025

اعظم گڑھ کی شان – مولانا مسعود خان مرحوم

اعظم گڑھ کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب، دیانت و خدمت اور اخلاص و قربانی کی مثال رہی ہے۔ انہی عظیم شخصیات میں ایک تابندہ نام مولانا مسعود خان مرحوم کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم و ملت کی خدمت، تعلیم کے فروغ، اور عوامی بہبود کے لیے وقف کر دی۔

مولانا مسعود خان مرحوم کا تعلق منگرواں (اعظم گڑھ)گاؤں سے تھا۔ وہ نہایت سادہ مزاج، نرم گفتار، ایماندار اور دردِ دل رکھنے والے انسان تھے۔ ان کے اندر ایک مخلص خادمِ قوم بسا ہوا تھا، جو ہمیشہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کا جذبہ رکھتا تھا۔

انہوں نے اعظم گڑھ کے دیہاتوں کو شہر سے جوڑنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی کوششوں سے کئی راستے بنے، سڑکیں تیار ہوئیں، اور گاؤں کے لوگوں کے لیے آمد و رفت میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔ وہ ہر موقع پر عوام کی فلاح کے لیے آگے بڑھتے تھے — چاہے تعلیم کا معاملہ ہو، سماجی بہبود کا یا کسی محتاج کی مدد کا۔

ان کی سادگی اور دیانت داری ایسی تھی کہ جو بھی ان سے ایک بار ملا، وہ ان کا احترام کیے بغیر نہ رہ سکا۔ مولانا مرحوم نے دینی و تعلیمی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، نوجوانوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی، اور اپنی گفتگو و عمل سے ہمیشہ خیر کا پیغام دیا۔

آج ان کی یاد نہ صرف منگرواں بلکہ پورے اعظم گڑھ میں زندہ ہے۔ لوگ آج بھی ان کی نیکیوں، خدمتوں اور خلوص کو محبت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مولانا مسعود خان مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 🌹

#ایمانداری

صحافی ساجد اصلاحی کو صدمہ،والد کا انتقالاعظم  گڑھ،12 اکتوبر (ذاکر حسین) اعظم گڑھ کے موضع بھیروپور،نظام آباد کے صحافی محم...
12/10/2025

صحافی ساجد اصلاحی کو صدمہ،والد کا انتقال

اعظم گڑھ،12 اکتوبر (ذاکر حسین) اعظم گڑھ کے موضع بھیروپور،نظام آباد کے صحافی محمد ساجد اصلاحی کے والدِ محترم حاجی محمد ارشد خان کا گزشتہ دنوں 70 برس کی عمر میں لکھنؤ میں علاج کے دوران انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
واضح ہوکہ مرحوم کی حال ہی میں بائی پاس سرجری عمل میں آئی تھی جو کامیاب رہی، تاہم اچانک علالت کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے۔مرحوم نہایت ملنسار خلیق، درد مند اور خدا ترس شخصیت کے مالک تھے_ان کے انتقال کی خبر کے عام ہوتے ہی پورے علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ اہلِ خانہ، احباب اور علاقے کے لوگوں میں ماتم و افسوس کا ماحول ہے۔احباب و اقارب تعزیت کے لیے پہونچ رہے ہیں، پسماندگان میں بیٹے پیشے سے صحافی محمد ساجد اصلاحی علاقہ کی معروف شخصیت ہیں۔ساجد اصلاحی بلڈ ڈونیشن کی تنظیم الفلاح کے رکن ہیں۔ساجد اصلاحی اپنے والد صاحب کی طرح نہایت ایماندار اور خوبیوں کے مالک ہیں۔

مسلم راشٹریہ منچ، آر ایس ایس اور مسلمان تحریر ....9911853902....مطیع الرحمن عزیزبھارت کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم...
04/10/2025

مسلم راشٹریہ منچ، آر ایس ایس اور مسلمان

تحریر ....9911853902....مطیع الرحمن عزیز

بھارت کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جو ہندوتوا کی بنیاد پر قائم ہے، نے مسلمانوں کو اپنے قومی دائرے میں شامل کرنے کی کوششوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ اسی سلسلے میں مسلم راشٹریہ منچ کی بنیاد رکھی گئی، جو آر ایس ایس کی ایک معاون تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ منچ، جو مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کا دعویٰ کرتا ہے، آج 23 سال بعد بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں، جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کو اپنے تیسرے دور میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تو آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے ایک بار پھر مسلم راشٹریہ منچ کی طرف رجوع کیا۔ یہ تحریر اس منچ کی تاریخ، آر ایس ایس سے اس کے تعلق، اور مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، جو نہ صرف ایک تنظیم کی کہانی ہے بلکہ قومی اتحاد کی ایک پیچیدہ تصویر بھی پیش کرتی ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ کی بنیاد 24 دسمبر 2002 کو نئی دہلی میں ایک چھوٹے سے اجلاس میں رکھی گئی تھی۔ یہ اجلاس صحافی مظفر حسین اور ان کی بیوی نفیسہ حسین کے گھر منعقد ہوا، جہاں آر ایس ایس کے اس وقت کے سرسنگھ چالک کے ایس سدرشن نے شرکت کی۔ 2002 کے گجرات فسادات کے فوراً بعد یہ قدم اٹھایا گیا، جو ہندو-مسلم تعلقات کے لیے ایک تلخ موڑ تھا۔ منچ کا مقصد واضح تھا: مسلمان کمیونٹی کو ہندووں کے قریب لانا، ان کی آر ایس ایس اور سنگھ پریوار (آر ایس ایس کی معاون تنظیمیں) کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنا، اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا۔
آر ایس ایس کے اقلیتی امور کے ذمہ دار اندریش کمار کو اس منچ کی نگرانی سونپی گئی۔ اندریش کمار، جو آر ایس ایس کے ایک سینئر پرچارک ہیں، نے گریش جویال کو ذمہ داری دی۔ ان دونوں نے قریبی مسلم افراد کو اکٹھا کیا اور ایک پلیٹ فارم تیار کیا جہاں مسلمان قوم پرستی کی بات کر سکیں۔ ابتدائی دنوں میں، جب تک کے ایس سدرشن سرسنگھ چالک رہے، آر ایس ایس کی مکمل حمایت ملی۔ منچ نے یوگا، گائیوں کی حفاظت، اور ہندو-مسلم اتحاد جیسے موضوعات پر کام شروع کیا۔ مثال کے طور پر، منچ نے دعویٰ کیا کہ "یوگا کوئی مذہبی عمل نہیں، نماز بھی ایک قسم کی یوگا آسنا ہے"۔ اس وقت تک، یہ آر ایس ایس کی ایک کوشش تھی کہ مسلمانوں کو یہ باور کروایا جائے کہ کانگریس نے ان کی قیادت کی، نہ کہ آر ایس ایس، اور مسلمان ہندوستان کے "حقیقی باشندے" ہیں۔ منچ کی بنیاد آر ایس ایس کی پالیسی کا حصہ تھی، جو 1975-77 کی ایمرجنسی کے دوران ہندو-مسلم جیلوں میں مشترکہ جدوجہد سے متاثر ہوئی تھی۔ اسکالر والٹر اینڈرسن جیسے مبصرین کے مطابق، یہ آر ایس ایس کی مسلم آوٹ ریچ کی ایک اہم کڑی تھی، جو 2002 میں گجرات فسادات کے بعد مزید واضح ہوئی۔ ابتدائی کامیابیوں کے باوجود، مسلم راشٹریہ منچ کو جلد ہی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب 2009 میں موہن بھاگوت سرسنگھ چالک بنے، تو فوکس تبدیل ہو گیا۔ 2014 میں بی جے پی کی نریندر مودی حکومت کے قیام کے بعد، منچ آر ایس ایس کی نظر سے دور ہونے لگا۔ بی جے پی کی ہندوتوا ایجنڈہ پر مبنی پالیسیاں – جیسے شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA)، این آر سی، اور بابری مسجد-رام مندر تنازع – نے مسلم کمیونٹی میں خوف پیدا کیا، اور آر ایس ایس نے منچ کو "خود مختار" چھوڑ دیا۔ اندریش کمار اور گریش جویال نے بزرگوں کی رہنمائی پر عمل کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی۔ منچ نے ملک بھر میں 2500 سے زائد یونٹس قائم کیے، جو 25 ریاستوں کے 400 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسلم کارکنوں کو قومی مفادات سے جوڑنے کی کوشش کی، جیسے 2016 میں پاکستانی سفارت کاروں کو افطار کی دعوت اور 2015 میں علما کانفرنس میں تشدد اور دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ۔
تاہم، بغیر مرکزی توجہ کے، منچ کی سرگرمیاں محدود رہیں، اور یہ آر ایس ایس کی "مسلم شاکھا" (مسلم برانچ) کی طرح نظر آئی، جو کھاد پانی تو ملتا رہا مگر پوری نشوونما نہ پائی۔ اس دور میں، منچ نے کئی متنازع مواقع پر آر ایس ایس کی حمایت کی، جیسے 2018 میں ایودھیا میں سریو کے پانی سے وضو اور نماز کا پروگرام، جو آر ایس ایس کی داخلی مخالفت کی وجہ سے تبدیل کر دیا گیا۔ یہ تنہائی مسلم کمیونٹی کے لیے ایک سبق تھی کہ قومی سطح کی تنظیمیں کس طرح سیاسی حالات کے تابع ہوتی ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کمزور کارکردگی اور اتحادیوں (جیسے این ڈی اے) کی مجبوریوں نے آر ایس ایس کو مسلم آوٹ ریچ کی طرف واپس دھکیل دیا۔ جب حکومت کو "این ٹی این کم بینسی" (NDA کی کمزوری) کا سامنا کرنا پڑا، تو موہن بھاگوت نے مسلم راشٹریہ منچ کو یاد کیا۔ بھاگوت، جو 2009 سے سرسنگھ چالک ہیں، نے میڈیا میٹس اور بیانات کے ذریعے منچ سے وابستگی ظاہر کی۔ مثال کے طور پر، 2021 میں ایک منچ یونٹ میں بھاگوت نے کہا کہ "تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، عبادت کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جا سکتا"، اور لنچنگ کو ہندوتوا کے خلاف قرار دیا۔
2025 میں، آر ایس ایس کی سینچری (100 سالہ جشن) کے موقع پر بھاگوت نے ہندو راشٹر، اکھنڈ بھارت، اور اقلیتوں کی آوٹ ریچ پر تفصیل سے بات کی۔ اس کے بعد، منچ کا ایک کل ہند اجلاس منعقد ہوا، جہاں ملک بھر سے میڈیا اور مسلم شخصیات نے شرکت کی۔ بھاگوت نے 2022 میں دہلی کی مسجد اور مدرسہ کا دورہ کیا، اور 2023-25 میں مسلم علما اور دانشوروں (جیسے نجیب جنگ، ایس وائی قریشی) سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں گیان واپی اور متھرا جیسے تنازعات پر بھی بات ہوئی، جہاں آر ایس ایس نے "برف پگھلانے" کی کوشش کی۔ حال ہی میں، جولائی 2025 میں ہریانہ بھون میں 50 سے زائد مسلم علما سے ملاقات میں بھاگوت نے کہا کہ "آر ایس ایس کسی مذہب کے خلاف نہیں، مسلمان بھی معزز شہری ہیں"۔ منچ نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کی حمایت بھی کی، جو آر ایس ایس کی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ کی یہ کہانی ملک کے مسلمانوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ آر ایس ایس کی جانب سے قائم مسلم شاکھا کو کبھی مکمل توجہ نہ ملی، مگر اس کے کارکنوں نے بغیر بڑوں کی حمایت کے کام جاری رکھا۔ جب ضرورت پڑی، تو اس کی بازآباد ہوئی – یہ "سست رفتار سے چلتے رہنا ہی زندگی ہے" کی مثال ہے۔ مسلم تنظیمیں، جو اکثر سیاسی دباو کا شکار ہوتی ہیں، اس سے بلا شخصی غرض و غایت کے مخلص طریقے سے کام کرنے کا سبق سیکھ سکتی ہیں۔ تاہم، تنقید بھی ہے۔ کئی مسلم دانشور، جیسے آکار پٹیل، کا کہنا ہے کہ یہ آوٹ ریچ "سیاسی" ہے اور لنچنگ یا نفرت انگیز بیانات پر خاموشی برقرار ہے۔ بھاگوت کی کوششوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے، مگر ماہرین پوچھتے ہیں: کیا یہ مستقل ہو گی، یا صرف الیکشن ٹائم کی حکمت عملی؟ مسلم راشٹریہ منچ آر ایس ایس کی مسلم پالیسی کی عکاسی کرتا ہے – ہندو راشٹر میں سب کو جگہ، مگر ہندوتوا کی حدود میں۔ اندریش کمار اور موہن بھاگوت کی جدوجہد سے یہ واضح ہے کہ ہندو-مسلم اتحاد ممکن ہے، اگر بلا تعصب ہو۔ جیسا کہ بھاگوت نے کہا: "ہندوستان ہم سب کا ہے"۔ یہ منچ، تنہائی اور واپسی کی کہانی سنا کر، مسلمانوں کو اپنے میدان میں استقامت کی تلقین کرتا ہے – اور بھارت کو اتحاد کی یاد دلاتا ہے۔

*اعظم گڑھ کے ڈاکٹر محمد ذیشان کو حیدرآباد میں دو نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا*سوشل چینج میکر اور تعلیم کے شعبہ میں نمایاں خ...
04/10/2025

*اعظم گڑھ کے ڈاکٹر محمد ذیشان کو حیدرآباد میں دو نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا*
سوشل چینج میکر اور تعلیم کے شعبہ میں نمایاں خدمات پر قومی اعزاز
*"ملک بھر سے آئے سیکڑوں شرکاء میں دو اعزاز حاصل کرنے والی واحد شخصیت"*
حیدرآباد/اعظم گڑھ، 03 اکتوبر 2025:
اعظم گڑھ کی زرخیز سرزمین نے ایک بار پھر اپنی قابلیت اور ہنر مندی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ضلع کے معروف ماہر تعلیم اور سماجی رہنما ڈاکٹر محمد ذیشان کو حیدرآباد میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں بیک وقت دو قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر ذیشان کو نیشنل ایوارڈ فار سوشیل ایکسیلنس (Social Change Maker Award) عطا کیا گیا، جو پورے ملک سے منتخب کیے گئے صرف 100 افراد کو دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں نیشنل ایوارڈ فار ایکسیلنس اِن ایجوکیشن بھی دیا گیا، جو ہندوستان بھر سے صرف 35 شخصیات کو تعلیم کے شعبہ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پیش کیا جاتا ہے۔
یہ دونوں باوقار ایوارڈ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے دستِ مبارک سے ڈاکٹر ذیشان کو عنایت کیے گئے۔
تقریب کی سب سے اہم بات یہ رہی کہ مختلف زمروں میں ایوارڈ لینے کے لیے ملک بھر سے سیکڑوں شخصیات موجود تھیں، مگر ڈاکٹر ذیشان واحد شخصیت تھے جنہیں دو قومی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
ڈاکٹر محمد ذیشان، الفاروق ایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر اور الفاروق پبلک اسکول، اعظم گڑھ کے بانی ہیں۔ وہ برسوں سے تعلیم کے فروغ، سماجی قیادت اور پسماندہ طبقات کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں، بالخصوص غریب اور محروم طبقے کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے۔
اعزاز حاصل کرنے کے بعد اپنے تاثرات میں ڈاکٹر ذیشان نے کہا:
“یہ ایوارڈ میری ذاتی کامیابی نہیں بلکہ میرے پورے معاشرے، اساتذہ اور طلبہ کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ میرا خواب ہے کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے اور ہر گھر میں علم کی روشنی پھیلے۔”
مقامی عوام اور محبانِ نے اس عظیم کامیابی پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ذیشان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اعظم گڑھ کی مٹی ہر دور میں بہترین صلاحیتوں اور قیادت کو جنم دیتی رہی ہے۔

ڈیجیٹل عشق اور ورچوئل محبت میں گرفتار خاتون کی پشیمانیمفتی اشفاق قاضی(بانی و ڈائریکٹر فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر)’’فیملی ف...
02/10/2025

ڈیجیٹل عشق اور ورچوئل محبت میں گرفتار خاتون کی پشیمانی
مفتی اشفاق قاضی
(بانی و ڈائریکٹر فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر)
’’فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں آئے روز مختلف نوعیت کے معاملات آتے ہیں کبھی ازدواجی ناچاقی، کبھی گھریلو جھگڑے، اور کبھی ایسے مسئلے جو جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی پیداوار ہوتے ہیں۔ ہمارے سینئر کی ایک کونسلر گلناز آپا میٹرومونیل اور فیملی کونسلنگ کا شعبہ دیکھتی ہیں ، حال ہی میں ان کے پاس ایک ایسا کیس آیا جو موبائل فون کے بے جا استعمال اور سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں کی جیتی جاگتی مثال تھا‘‘۔
یہ معاملہ ایک شوہر شفیق (فرضی نام) کا تھا، جن کی شادی ۲۰۱۸میں گاؤں کی لڑکی اسماء (فرضی نام) سے ہوئی تھی۔ شادی کے دو سال بعد، یعنی ۲۰۲۰میں، شفیق کو اپنی بیوی کے بدلتے رویے پر شک ہونے لگا۔ وہ اکثر موبائل میں مگن رہتی، باتوں میں ٹال مٹول کرتی، اور گھر کے کاموں سے غافل رہتی۔ ایک دن شفیق نے اچانک گھر آ کر بیوی کو فون پر کسی غیر مرد سے ہنسی مذاق اور محبت بھری باتیں کرتے سن لیا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ گاؤں کی لڑکی تھی، جو شادی کے بعد شہر آ کر پہلی بار سوشل میڈیا کی دنیا سے متعارف ہوئی تھی۔ شفیق نے نیک نیتی سے اسے موبائل دیا تھا تاکہ وہ گاؤں میں موجود گھر والوں سے بات کر سکے اور خود شفیق سے بھی دوران ملازمت گھر سے باہر رہنے پر رابطہ ممکن ہوسکے۔ لیکن انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا کے جال نے اسے اس قدر اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ وہ ایک نامحرم مرد کے ورچوئل عشق میں گرفتار ہو گئی۔یہ تعلق محض چیٹنگ تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے اپنے ’ڈیجیٹل محبوب‘ کے ساتھ بھاگ جانے کا بھی منصوبہ بنا لیا۔ شفیق کے مطابق، ایک دن بیوی اور اس نامحرم مرد کی ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی اس نے سن لی، جس میں لڑکی صاف کہہ رہی تھی کہ وہ گاؤں جا کر اپنے پاس موجود سونا چاندی لے آئے گی، اپنے ڈھائی سالہ بچے (صادق فرضی نام) کو بھی ساتھ لے جائے گی، اور واپس شوہر کے پاس نہیں آئے گی۔یہ سب جان کر شفیق پر گویا بجلی گر گئی۔ اس کی بیوی نہ صرف اسکی برائی کر رہی تھی بلکہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ گھر اور عزت برباد کرنے پر تُلی ہوئی تھی۔ معاملہ بڑھا تو اسماء اپنے بھائی کو بلا کر گاؤں چلی گئی اور الٹے چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اس نے شوہر کے خلاف پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرادی ، جسے دیکھ کر شفیق ہکابکا رہ گئے۔ بہرحال بچہ چھ ماہ کا تھا تو ماں کے ساتھ گیاتھا اور اب ڈھائی سال کا ہو چکا تھا۔ اسی دوران شفیق فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر پہنچے۔ کیس کی مکمل تفصیلات جاننے کے بعد گلناز آپا نے اسماء کے بھائیوں کو بلایا۔ وہ اپنی بہن کے کردار سے نہایت شرمندہ تھے اور خود بھی بہنوئی سے کئی بار معافی مانگ چکے تھے۔ ان کے پاس بھی اپنی بہن اور غیر محرم مرد کے ساتھ ساز باز، ورچوئل محبت ، ڈیجیٹل عشق پر مبنی گفتگو کی آڈیو پہنچ چکی تھی۔بھائی سے بات چیت کے بعد اسماء کو فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر طلب کیا گیا۔ کئی سیشنز ہوئے۔۔۔۔کبھی الگ الگ، کبھی شوہر بیوی کا جوائنٹ سیشن۔ شروع میں وہ دفاعی رویہ اپناتی رہی، لیکن آہستہ آہستہ احساس جرم گھیرنے لگا، دل پر پڑے ڈیجیٹل محبت کی چادر پھٹنے لگی، دل موم ہوا اور آنکھوں سے بہتے آنسو کے درمیان کہنے لگی ’’مجھے ایک موقع دے دیاجائے، میں ان شاء اللہ بہترین اور وفا شعار بیوی بن کر زندگی گزاروں گی۔۔!
لڑکی کو شفیق اور ان کے گھر والے تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے، مگر دین و شریعت کی روشنی میں سمجھایا گیا کہ اللہ بھی بندوں کے بڑے بڑے گناہ معاف کرتا ہے۔ اگر سامنے والا واقعی پشیمان ہو اور سچی پکی توبہ کے ساتھ اچھی زندگی گزارنے کا عزم رکھتا ہو تو معافی میں ہی بھلائی ہے ،خصوصاً ایک معصوم بچے کے سنہرے مستقبل کے لیے۔ آخرکار شفیق کے والد راضی ہو گئے اور جمعرات ۷؍ اگست ۲۰۲۵ کو صلح نامہ تیار ہوا۔اسماء نے عہد کیا کہ وہ آئندہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے گریز کرے گی، شوہر کے اعتماد کو بحال کرے گی، اور اپنے گھر کو دوبارہ سنوارے گی۔ الحمدللہ اس طرح ایک بکھرتا ہوا گھر بچ گیا، ایک معصوم بچہ ماں کی ممتا یا باپ کی شفقت سے محروم ہونے سے بچ گیا۔یہ واقعہ آج کے دور کا ایک کڑوا سچ ہے موبائل اور سوشل میڈیا، جو رابطے کا ذریعہ تھے، اب کئی گھروں کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔ محبت، اعتماد اور وفاداری کو ’ڈیجیٹل لائکس‘ اور’فرینڈ ریکویسٹ‘ نے کھا لیا ہے۔ اگر ہم نے ٹیکنالوجی کو حدود میں رکھ کر استعمال نہ کیا تو رشتے صرف اسکرین کی دنیا میں باقی رہ جائیں گے، حقیقت میں بکھر جائیں گے۔
’’ا گر آپ کے اردگرد بھی خاندانوں، بھائیوں، اداروں یا جوڑوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔۔۔طلاق، خلع، وراثت، مالی تنازعات یا ذہنی دباؤ کے معاملات میں زندگی الجھنوں کا شکار ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ یہاں قرآن و سنت کی روشنی میں ٹوٹتے رشتوں کو جوڑا جاتا ہے۔ورچوئل عشق کاخمار اتارا جاتا ہے۔۔بھائیوں کے درمیان صلح کروائی جاتی۔۔۔اداروں کے درمیان مفاہمت کی راہیں نکالی جاتی ہیں‘‘۔

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UNA News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to UNA News:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share