Pakistan & World

Pakistan & World At this beautiful place all facilities are available

10/06/2026

دنیا کے منصفو سلامتی کے ضامنو!

میرا کشمیر سسک رہا ہے
میرا کشمیر جل رہا ہے

“حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں سرخ دھاری دار...
02/05/2026

“حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں سرخ دھاری دار حلہ پہنے ہوئے دیکھا، میں کبھی چاند کی طرف دیکھتا اور کبھی آپ کے چہرہ انور کو دیکھتا، تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آتا تھا۔”

حوالہ: ترمذی، حدیث نمبر: 2820

اس روایت میں نبی کریم ﷺ کے حسین و دلکش چہرہ انور اور آپ ﷺ کی بے مثال خوبصورتی کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے چاندنی رات میں آپ ﷺ کو دیکھا، جہاں چاند اپنی پوری روشنی کے ساتھ چمک رہا تھا مگر اس کے باوجود نبی کریم ﷺ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ روشن، دلکش اور خوبصورت محسوس ہو رہا تھا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی ظاہری خوبصورتی بھی اپنی مثال آپ تھی اور اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی نورانیت دلوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کا حصہ ہے اور آپ ﷺ کی سیرت پر غور کرنے سے دل میں عشقِ رسول بڑھتا ہے، مثال کے طور پر جب کوئی شخص نبی ﷺ کی زندگی، اوصاف اور حسن و جمال کے بارے میں پڑھتا ہے تو اس کے دل میں آپ ﷺ کی محبت مزید گہری ہو جاتی ہے اور وہ آپ ﷺ کی سنتوں کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے، یہ روایت ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر لحاظ سے کامل اور بے مثال تھے اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک تمام خوبصورتیوں سے بڑھ کر تھا۔

کیا تم واقعی آزاد ہو؟ تم سمجھ رہے ہو کہ تماپنی مرضی سے اسکرین کو سکرول کر رہے ہو؟ تمہیں لگتا ہے کہ تم نے یہ فون اپنی پسن...
30/04/2026

کیا تم واقعی آزاد ہو؟

تم سمجھ رہے ہو کہ تم
اپنی مرضی سے اسکرین کو سکرول کر رہے ہو؟
تمہیں لگتا ہے کہ تم نے یہ فون اپنی پسند
سے خریدا ہے، یہ جو کپڑے تم نے پہنے ہیں یہ تم نے اپنی مرضی سے پہنے ہیں؟
اور زندگی کا وہ تصور جس کے پیچھے تم بھاگ رہے ہو، کیا وہ بھی تمہارا اپنا ہے؟

ارے میرے دوست!

خوش فہمی کی اس دنیا سے باہر آ جاؤ،
حقیقت یہ ہے کہ تمہاری سوچ کو ہیک کیا جا چکا ہے۔

ایک وقت تھا جب قوموں کو غلام بنانے کے لیے ان کے گلے میں لوہے کے طوق ڈالے جاتے تھے۔ آج کے دور میں بیڑیاں تمہارے ہاتھوں یا پیروں میں نہیں، تمہارے ذہنوں میں ڈال دی گئی ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ یہ بیڑیاں ہمیں اتنی پرکشش لگتی ہیں کہ ہم
انہیں "ترقی" اور "آزادی" کا نام دیتے ہیں۔

آؤ اس کھوکھلے پن کے پیچھے چھپے ہوئے اس خوفناک سچ کو
سمجھتے ہیں جو ہر نوجوان کے لیے زندگی اور موت کا
مسئلہ ہے۔

ہم کیسے ہار گئے؟

فرض کرو دو آدمیوں میں جھگڑا ہے۔ ایک طاقت سے دوسرے کو زمین پر گرا لیتا ہے اور اس پر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ 'جسمانی غلبہ' ہے۔ لیکن سوچو کہ ایک آدمی بغیر ہاتھ لگائے،کچھ ایسا جادو کرے کہ دوسرا آدمی خود اپنے ہاتھ باندھے، اس کے قدموں میں گر کرکہے،

"حضور! آپ کی بات ہی سچ ہے، آپ مجھے جیسے کہیں گے، میں ویسے ہی جیوں گا"۔

اسے 'ذہنی اور فکری غلبہ' کہتے ہیں۔

ہم وہ مسلمان درحقیقت بدترین ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں۔ سیلیکان ویلی، کیلیفورنیا اور یورپ کی لیبارٹریوں میں بیٹھے چند ہزار لوگ روزانہ یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ آج پوری دنیا کس چیز پر ہنسے گی، کس بات پر غصہ کرے گی،
"خوبصورتی" کا معیار کیا ہوگا، اور کون سی بات دقیانوسی سمجھی جائے گی؟ اور ہم؟ ہم محض ان کے دیے گئے 'الگورتھم' (Algorithm) پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں ہیں۔

تمہارے دماغ میں یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ مغرب آخر چاہتا کیا ہے؟

اس کا جواب تاریخ کے ایک دلچسپ لیکن المناک موڑ میں چھپا ہے۔ جس وقت ہمارے اسلاف کائنات کو تسخیر کر رہے تھے، مسلمانوں کی لیبارٹریوں میں ستاروں کی چال سمجھی جا رہی تھی، یورپ جہالت کے اندھیروں میں تھا۔ سب کچھ ٹھیک تھا

پھر تم سو گئے۔ تم نے غور و فکر کرنا بند کر دیا اور سوچنے سمجھنے کا ٹھیکہ مغرب نے لے لیا۔

مگر یورپ کے جاگنے کی کہانی بڑی عجیب تھی۔ وہاں جب سائنسدانوں نے نئی تحقیق کی تو وہاں کے مذہبی پیشواؤں (پادریوں) نے انہیں سزائیں دیں، زندگاں جلایا۔ تو ان سائنسدانوں نے انتقام کے طور پر صرف ظالم پادریوں کو مسترد نہیں کیا، بلکہ خدا اور روح ہی کو ماننے سے انکار کر دیا۔

یہیں سے ایک ایسی تہذیب نے جنم لیا جس کا نصب العین (Target) یہ ہے کہ: "کوئی خدا نہیں ہے، کوئی آخرت نہیں ہے۔ انسان صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اور اس کا مقصد دنیا میں زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا، جسمانی مزے لوٹنا اور پھر مر کر مٹی ہو جانا ہے۔"

آج کا سمارٹ فون، آج کی مصنوعی ذہانت (AI)، آج کے کارپوریٹ ماڈلز—یہ سب اسی ملحدانہ (خدا کو نہ ماننے والی) فلاسفی پر کھڑے ہیں۔ وہ تمہاری آنکھوں کو سکرینز پر جکڑ کر تمہارا وقت (Attention) چرا رہے ہیں اور تمہیں احساس ہی نہیں کہ تمہارے اندر سے
سکون، حیا، اور جوابدہی کا احساس اہستہ اہستہ نکالا جا رہا ہے۔

ایک خوفناک ریل گاڑی کا سفر

دنیا کو سمجھنے کے لیے خود کو ایک ایسی جدید 'بلٹ ٹرین' کے مسافر خانے (اکانومی کلاس) میں بیٹھا ہوا تصور کرو جو انتہائی تیز رفتاری سے ایک نامعلوم اندھی
کھائی کی طرف اڑی چلی جا رہی ہے۔

- یہ ٹرین: آج کی جدید مادہ پرست دنیا ہے۔
- ٹرین کا انجن: جدید سائنس اور وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے جس کی باگ ڈور خدا فراموش
لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔
- مسافر: میں، تم، اور ساری اسلامی دنیا، جو پچھلے ڈبوں میں بیٹھے ہیں۔

ہوتا کیا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ ٹرین غلط راستے (لادینیت اور تباہی) پر جا رہی ہے۔
ہم پچھلی بوگی میں بیٹھے ایک دوسرے پر چلاتے ہیں، روتے ہیں، ٹرین کو برا بھلا
کہتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ مذہب پسند اور کنزرویٹو لوگ کیا کرتے ہیں؟ انہیں اس دوران اور کچھ نہیں سوجھتا وہ لوگوں کی داڑھیاں ناپنے لگ جاتے ہیں وہ لوگوں کے پائینچوں کے بنیاد پر فیصلے کرنے لگ پڑتے ہیں
وہ اس ایمرجنسی کی صورت حال میں آمین آہستہ کہنی ہے یا چیخ کر اس پر ایک دوسرے کی نمازیں غارت ہونے کے فتوی دینے لگ جاتے ہیں
کچھ اور بھی ہیں
وہ بغاوت میں اپنی کرسی کا رخ الٹا کر لیتے ہیں (ماضی میں جینا شروع کر دیتے ہیں) اور
آنکھیں بند کر کے کہتے ہیں: "دیکھو، ہم تو ان کے راستے پر نہیں جا رہے!"

لیکن ذرا ہوش کے ناخن لو! بے وقوف مسافرو! تمہاری سیٹ کا رخ موڑنے سے ریل گاڑی کی
سمت نہیں بدل جائے گی! ریل گاڑی ادھر ہی جائے گی جدھر آگے انجن کے کیبن میں بیٹھا
ڈرائیور اسے لے جا رہا ہے۔

تو پھر راستہ کیا ہے؟ (پچھلی بوگی سے اٹھو!)

کیا یہ اندھیرا کبھی چھٹے گا؟ کیا تم چاہتے ہو کہ اگلی صدی تمہاری مرہون منت ہو؟ تو
اس کا صرف ایک طریقہ ہے:

فروعی باتوں پر ایک دوسرے کو کافر مشرک گستاخ کے فتوے لگانا بند کرو
پچھلے ڈبے سے اٹھو اور انجن روم کی طرف دوڑو!

تاریخ کبھی جذباتی نعروں سے نہیں بدلتی۔ آج ہمیں وہ لیڈرز اور مفکر چاہیے جو مغرب
کی یونیورسٹیوں، کیمبرج، آکسفورڈ اور ایم آئی ٹی (MIT) سے لے کر اپنے مدرسوں اور
کالجوں تک ہر علم کی بنیاد کو ہلائیں۔ ہمارے نوجوان کوڈنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس،
فزکس اور نیورو سائنس میں اتنی مہارت حاصل کریں کہ وہ اس عالمی ڈیجیٹل بلٹ ٹرین
کے "کاک پٹ" (انجن) کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوں، لادینیت کے ہاتھ سے ڈرائیونگ
ویل چھین لیں، اور سائنس اور علم کا رخ مادی ہوس اور کھوکھلے پن سے نکال کر انسانی
فلاح اور 'اللہ کے نظام' کی طرف موڑ دیں۔

ہم مغرب کی سائنس یا علم سے نفرت نہیں ہے، ہمیں اس انجن کو چلانے والوں کے فلسفے
کو ہرانا ہے۔ جس دن امت کا نوجوان اپنے دماغ میں چھپی لامحدود قوت کو پہچان کر
اپنا تخلیقی (Creative) سفر شروع کر دے گا، اس دن تمہاری زنجیریں بھی ٹوٹیں گی، اور
دنیا پر انسانیت کی نئی صبح بھی طلوع ہو گی۔

انقلاب باہر سڑکوں پر نہیں آتا، اسکرینوں اور ذہنوں میں برپا ہوتا ہے۔ کیا تم انجن
کے کیبن پر قبضہ کرنے کے لیے تیار ہو، یا ساری عمر پیچھے بیٹھے صرف روتے رہنے کے
لیے پیدا ہوئے ہو؟ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔

26/04/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“بیشک اللہ کے کچھ فرشتے راستوں میں گھومتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں۔”حوالہ: صحیح بخا...
15/04/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“بیشک اللہ کے کچھ فرشتے راستوں میں گھومتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں۔”

حوالہ: صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 6408

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ذکرِ الٰہی کی عظیم فضیلت کو بیان فرمایا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ایسے فرشتے مقرر کیے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں اور ان لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں، جب وہ انہیں پاتے ہیں تو ان کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور ان پر رحمت نازل ہوتی ہے، یہ عمل اللہ کی خاص قربت اور محبت کا ذریعہ ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص تنہائی یا محفل میں اللہ کا ذکر کرے تو یہ عمل اسے فرشتوں کی صحبت اور اللہ کی رحمت کا مستحق بناتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ذکرِ الٰہی دلوں کا سکون، اللہ کی محبت اور کامیابی کا بہترین ذریعہ ہے۔


امریکہ نے جنگ میں اب تک جو کچھ کھویا وہ یہ ہے:چالیس دن کی جنگ میں کا 50 ارب ڈالر کا نقصان سینکڑوں امریکی فوجی زخمیدرجنوں...
15/04/2026

امریکہ نے جنگ میں اب تک جو کچھ کھویا وہ یہ ہے:
چالیس دن کی جنگ میں کا 50 ارب ڈالر کا نقصان
سینکڑوں امریکی فوجی زخمی
درجنوں فوجی مارے گئے
پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے تباہ
تیل کی قیمتیں ڈبل
نیٹو اور اتحادی ساتھ چھوڑ گئے
امریکی ساکھ بری طرح متاثر

جنگ کے نتیجے میں امریکہ نے اب تک جو کچھ حاصل کیا وہ یہ ہے:
ایران کا یورینیم ابھی تک ایران کے پاس
آبنائے ہرمز پر ابھی تک ایران کا قبضہ
رجیم چینج میں ناکامی
جنگ بندی کے بعد عالمی افق پر امریکہ کمزور جبکہ ایران طاقتور نظر آ رہا ہے۔

ان سب ناکامیوں کے باوجود ٹرمپ نے جنگ میں اپنی جیت کا اعلان کرکے اپنی جان چھڑوانی کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہا۔

کیوں؟ کیونکہ عزیزان من مسئلہ اب یہ ہے کہ یہ تو جان چھڑوانا چاہ رہے ہیں مگر کمبل جان نہیں چھوڑ رہا۔

میٹا نے فیس بک صارفین کے لیے نیا کریئیٹر فاسٹ ٹریک پروگرام شروع کیا ہے تاکہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے مقبول کریئیٹرز کو فیس ب...
21/03/2026

میٹا نے فیس بک صارفین کے لیے نیا کریئیٹر فاسٹ ٹریک پروگرام شروع کیا ہے تاکہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے مقبول کریئیٹرز کو فیس بک پر لایا جا سکے۔ پروگرام میں شامل افراد کو ماہانہ 1,000 سے 3,000 ڈالر تک کی آمدنی دی جائے گی، شرط یہ ہے کہ وہ اپنی ویڈیوز فیس بک پر پوسٹ کریں۔
اس دوران کریئیٹرز کو زیادہ صارفین تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی اور تین ماہ بعد انہیں فیس بک کونٹینٹ مونیٹائزیشن پروگرام تک رسائی ملے گی۔ 2025 میں میٹا نے صارفین کو 3 ارب ڈالرز ادا کیے، جن میں 60٪ ریلز مواد پر دیے گئے۔ پروگرام میں حصہ لینے کے لیے 30 دن کے اندر کم از کم 15 ریلز کو 10 مختلف دنوں میں پوسٹ کرنا ضروری ہے، جبکہ مواد خود تیار شدہ ہونا چاہیے، چاہے AI کی مدد سے بنایا گیا ہو۔

07/03/2026

ایک غلطی جس نے کروڑوں جانیں بچا لیں​"اس نے غلط حصے کو پکڑ لیا۔ وہ غلطی انسانی دل کی طرح دھڑکنے لگی۔"​ولسن گریٹ بیچ نے اپ...
06/02/2026

ایک غلطی جس نے کروڑوں جانیں بچا لیں
​"اس نے غلط حصے کو پکڑ لیا۔ وہ غلطی انسانی دل کی طرح دھڑکنے لگی۔"
​ولسن گریٹ بیچ نے اپنی پرزوں والی ڈبیا میں غور سے دیکھے بغیر ہاتھ ڈالا۔ گھنٹوں کام کرنے کی وجہ سے ان کی آنکھیں تھک چکی تھیں۔ انہیں ایک 'ریزسٹر' (resistor) کی ضرورت تھی۔ انہوں نے ایک پرزہ اٹھایا، جس کی رنگین دھاریاں مدھم روشنی میں بالکل ویسی ہی لگ رہی تھیں جیسی انہیں ضرورت تھی۔
​مگر وہ غلط تھیں۔
​یہ 1956 کی بات ہے، ولسن بفیلو یونیورسٹی میں ایک ایسا آلہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے جو طبی تحقیق کے لیے دل کی دھڑکن کو 'ریکارڈ' کر سکے۔ ان کا مقصد کوئی بڑا کارنامہ انجام دینا نہیں تھا، بس ایک ریکارڈ کرنے والا اوزار بنانا تھا تاکہ ڈاکٹر سینے کے اندر کی آوازیں سن سکیں۔
​انہوں نے غلطی سے 10 کلو اوہم کے بجائے 1 میگا اوہم کا ریزسٹر وہاں ٹانکا (solder) لگا کر جوڑ دیا۔ انہوں نے سوئچ آن کیا۔ اس آلے نے کچھ ریکارڈ تو نہیں کیا، لیکن وہ ایک خاص ترتیب سے دھڑکنے لگا۔
​"بلپ... ایک سیکنڈ کی خاموشی... بلپ... ایک سیکنڈ کی خاموشی۔"
​ولسن اپنی سکرین پر موجود اس سبز لکیر کو حیرت سے دیکھتے رہ گئے۔ یہ ایک بالکل درست ردھم تھا۔ وہ کوئی ناکام ریکارڈنگ مشین نہیں دیکھ رہے تھے، بلکہ وہ ایک ایسی چیز دیکھ رہے تھے جو دھڑکن کو کنٹرول کر رہی تھی۔ وہ غلطی بالکل انسانی دل کی طرح دھڑک رہی تھی۔
​ولسن سمجھ گئے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر کیا بنا لیا ہے۔ انہوں نے بعد میں لکھا: "میں نے اسے بے یقینی سے دیکھا اور پھر احساس ہوا کہ یہی وہ چیز ہے جو ایک (بیمار) دل کو چلانے کے لیے چاہیے تھی۔"
​اس زمانے میں دل کی دھڑکن رک جانے کا علاج بہت تکلیف دہ تھا۔ مریضوں کو ٹیلی ویژن جتنی بڑی مشینوں سے جوڑ دیا جاتا تھا جو بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے دل چلاتی تھیں۔ ان مشینوں کی تاریں دیوار کے پلگ میں لگی ہوتی تھیں، جس کی وجہ سے مریض کہیں آ جا نہیں سکتے تھے اور بجلی جانے کی صورت میں ان کی موت یقینی ہوتی تھی۔
​ولسن نے اپنے اس چھوٹے سے آلے کو دیکھا جو ان کی ہتھیلی میں سما سکتا تھا۔ انہوں نے سوچا: "اسے جسم کے باہر ہونے کی ضرورت نہیں، یہ جسم کے اندر بھی جا سکتا ہے۔"
​اس وقت کی میڈیکل دنیا میں یہ اصول تھا کہ انسانی جسم کے اندر الیکٹرانکس نہیں رکھی جا سکتیں، کیونکہ نمکین انسانی جسم دھات کو تباہ کر دیتا ہے۔ لیکن ولسن نے اپنی تمام جمع پونجی (2,000 ڈالر) نکالی، نوکری چھوڑی اور اپنے گھر کے اصطبل (barn) کو لیبارٹری بنا لیا۔
​دو سال کی محنت، سینکڑوں تجربات اور کئی ناکامیوں کے بعد، انہوں نے ایک ایسا آلہ تیار کیا جسے جسم قبول کر سکے۔ 1960 میں، ایک 77 سالہ بوڑھے مریض، جو موت کے قریب تھے، ان کے جسم میں یہ آلہ (پیس میکر) لگایا گیا۔
​آپریشن کے بعد جب کمرے میں خاموشی چھائی، تو اچانک آواز آئی: "لب-ڈب... لب-ڈب..."
​پہلی بار تاریخ میں ایک مشین انسان کے جسم کے اندر رہ کر اس کی زندگی بچا رہی تھی۔ وہ مریض نہ صرف بچ گیا بلکہ مزید ڈیڑھ سال تک زندہ رہا۔
​آج دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 10 لاکھ 'پیس میکر' لگائے جاتے ہیں اور اب تک 80 لاکھ سے زائد جانیں بچائی جا چکی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے انجینئر کی وجہ سے ممکن ہوا جس نے غلطی سے ایک غلط پرزہ اٹھایا، لیکن اس غلطی میں انسانیت کی بقا دیکھ لی۔

Address

Cowley

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan & World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan & World:

Share